وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے اپوزیشن جماعتوں کو آڑھے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی نظریہ نہیں ہے اس لیے سکڑتی جارہی ہیں اور اگلے انتخابات تک یہ صرف چند حلقوں تک محدود ہوجائیں گی۔

قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے ڈہرکی میں ہونے والے ریلوے حادثے کی تفصیلات بتائیں اورکہا کہ واقعے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ برسوں کی غفلت ہے، جس کی وجہ سے آج ہمیں ان حادثات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، پاکستان کو جب ریلوے ملی تھی تو یہ دنیا کی بہترین ریلوے شمار ہوتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے ریلوے کا بجٹ بڑھایا جو اب نیب کے کیسز کا حصہ ہے اور سابق وزیر ریلوے سعد رفیق نیب کا ریفرنس کا سامنا کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آج لاہور میں 300 ارب روپے اورنج ٹرین پر خرچ نہ کیے ہوتے اور اس پیسے کو ریلوے کے ٹریک پر خرچ کیا گیا ہوتا تو آج ہمیں ان حالات کا سامنا نہ ہوتا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ تاریک دہائی کے دوران حکومتوں نے اسٹیل مل، ریلوے، پی ٹی وی اور دیگر اداروں کو بھی پنپنے نہیں دیا، جب ہاتھ ڈالتے ہیں تو پتا چلتا ہے کہ کسی میں کسی کا حصہ ہے، یہی وہ تاریک راہیں جس سے گزرنے سے آج پاکستان اور عوام ان حادثات کا سامنا کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2008 سے 2018 تک اداروں میں بھرتیوں کو دیکھیں تو اداروں کو کسے نچوڑا گیا لیکن آج پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے 60 لوگوں کو اداروں کے سربراہ مقرر کیا کوئی سیاسی بھرتی کا نہیں کہہ سکتا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں اداروں کو کھڑے کرنے میں تین سال لگے ہیں، کوشش کی گئی ہے چیزیں آگے بڑھیں لیکن یہ آگے بڑھنے دینے کو تیار نہیں ہیں۔
اپوزیشن کو مخاطب کرکے انہوں نے کہا کہ ان کا کسی قسم کی دلچسپی ہے تو صرف 10 کیسز ہیں اور کچھ نہیں ہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ رویے دیکھیں کہ جب سانحہ ہوتا ہے اور جب ہم بات کرتے ہیں تو یہ سننے کو تیار نہیں ہیں، ان حادثات پر بات کرنا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ہم آگے بڑھ رہے ہیں، ہمارا راستہ وہ نہیں ہے جو ہونا چاہیے، ہم بات چیت کے ذریعے آگے بڑھنا چاہتے ہیں لیکن ان کی دلچسپی صرف ان 10 کیسز سے ہے، جس میں نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف، زرداری، فریال تالپور اور خورشید شاہ کے کیسز ہیں، اسے آگے ان کی دلچسپی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ اس ملک کی کہ ایوان کو اپنے مقدمات کے لیے دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اسی لیے اپوزیشن کا آج کوئی کردار نہیں ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ کس طرح پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) میں اکٹھے ہوئے اور کس طرح ایوان سے باہر بیٹھی ہوئی قیادت کا کندھا استعمال کیا کہ کسی طریقے سے عمران خان کی حکومت گرا دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس وقت بھی کہا تھا کہ آپ سب اکٹھے ہوں گے تب بھی عمران خان کی حکومت نہیں گرا سکیں گے اور آپ نہیں گرا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اگر آج اس ملک میں وفاق کی کوئی علامت ہے اور کوئی وفاقی جماعت ہے تو وہ لیڈر عمران خان اور وہ جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی سیاست کیا ہے، ان کی سیاست سندھی قوم پرستی ہے، جس کے خلاف ذوالفقار علی بھٹو اور بینظیر بھٹو نے جدوجہد کی لیکن یہ آج اپنے بانیوں کے خلاف سیاست کر رہے ہیں اور ایک قوم پرست جماعت بن کر رہ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہی حالات پاکستان مسلم لیگ (ن) کے بھی ہیں، یہ آج وسطی پنجاب کی جماعت بن کر رہ گئی ہے، یہ جماعتیں ملک میں اس لیے محدود ہو کر رہ گئی ہیں کیونکہ ان کے پاس کوئی نظریہ نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن جماعتوں کو نظریہ نہیں ہوگا اور وژن نہیں ہوتا وہ پھر ایسی باتیں اور سیاست کرتی ہیں، یہ جماعتیں سکڑتی جار ہی ہیں اورمزید سکڑیں گی۔
فواد چوہدری نے کہا کہ اگلے انتخابات آنے تک یہ جماعتیں اپنے چند حلقوں میں رہ جائیں گی لیکن ہم اپوزیشن کے چلنا اور بات کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ جماعتیں آگے چلنے والی نہیں ہیں، یہ جماعتیں مقدمات سے آگے بڑھنے والی جماعتیں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم ان سے کہتے ہیں کہ اپنے مقدمات سے آگے نکل کر دیکھیں، آئیے اصلاحات اور جوڈیشل اصلاحات پر بات کریں۔

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 4 hours ago

بیروت: سیز فائر کے باوجود بھی اسرائیلی حملے، 254 افراد شہید، عالمی رہنماؤں کی جنگ بندی برقرار رکھنے کی اپیل
- 2 hours ago

جنگ بندی مذکرات: جڑواں شہروں میں سیکیورٹی کے انتظامات انتہائی سخت،کئی سڑکیں بند
- 5 hours ago

کراچی سمیت ملک بھر کے صارفین کیلئے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا
- 5 hours ago

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر اظہارِ تشویش
- 4 hours ago

سیز فائر کی خلاف ورزی : پاکستان کا عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ
- 4 hours ago

شہر قائد میں منکی پاکس وائرس کا ایک اور کیس سامنے آ گیا
- an hour ago

وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، سیاسی و عسکری قیادت کا مذاکرات کامیاب بنانے کا عزم
- 3 hours ago

جنگ بندی مذاکرات:امریکی نائب صدر، ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر اور وزیر خارجہ آج پاکستان پہنچیں گے
- 4 hours ago

پاکستان اور چین کے بزنس ٹو بزنس تعلقات میں وسعت کے لیے ترجیحی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں،وزیراعظم
- 4 hours ago

پاک انٹرنیشنل بزنس فورم کا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے حالیہ ایران-امریکہ مذاکرات کا خیرمقدم
- 4 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
وزیر اعظم سےایمانوئل میکرون کا رابطہ،مشرق وسطیٰ میں جنگ بندی اورثالثی پر پاکستان کی تعریف
- 2 hours ago









