جی این این سوشل

پاکستان

حکومت نے کھاد کارخانوں کیلئے گیس پر سبسڈی ختم کرنے کی منظوری دیدی

کھاد کارخانوں کو سبسڈی دینے سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا، حکومت

پر شائع ہوا

کی طرف سے

حکومت نے کھاد کارخانوں کیلئے گیس پر سبسڈی ختم کرنے کی منظوری دیدی
حکومت نے کھاد کارخانوں کیلئے گیس پر سبسڈی ختم کرنے کی منظوری دیدی

وفاقی حکومت نے کھاد کے کارخانوں کے لیے گیس پر سبسڈی ختم کرنے کی منظوری دے دی۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے اتفاق رائے سے کھاد فیکٹریوں کوملنے والی سبسڈی مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

کھاد کے کارخانوں کو اس وقت 217 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو سبسڈی مل رہی ہے ، کارخانوں کو 1597 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت پر گیس سپلائی کی جارہی ہے۔

حکومت کا کہنا ہے کہ کھاد کارخانوں کو سبسڈی دینے سے کسانوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔

کابینہ کے فیصلے پر عملدرآمد کے بعد کارخانوں کو فراہم کی جانے والی گیس کی قیمت 1814 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہو جائے گی ، حکومت کسانوں کو برائے راست سبسڈی فراہم کرنے کا ارداہ رکھتی ہے۔

دنیا

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے مزید 4 جاسوس آسٹریلیا سے بے دخل

کینیڈ اور امریکہ میں بھی بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں بے نقاب ہوچکی ہیں، رپورٹ

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کے مزید 4 جاسوس آسٹریلیا سے بے دخل

آسٹریلیا نے بھارت کے مزید 4 جاسوسوں کو اپنے ملک سے بے دخل کر دیا ہے۔ جاسوسوں کی تازہ بے دخلی کو آسٹریلیا میں بھی مودی سرکار کے لیے زبردست دھچکا قرار دیا جارہا ہے۔کینیڈ اور امریکہ میں بھی بھارت کی جاسوسی سرگرمیاں بے نقاب ہوچکی ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی خفیہ ادارے ’’راـ ‘‘کی طرف سے جاسوسی کا نیٹ ورک قائم کرنے کا بنیادی مقصد بیرونِ ملک مقیم بھارتی باشندوں پر نظر رکھنا اور اختلافِ رائے کو دھمکانا تھا۔آسٹریلوی قانون سازوں پر اثر انداز ہونے کے لیے جاسوسوں کا نیٹ ورک بنایا جارہا تھا۔

آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے تحقیقات کے نتیجے میں بتایا ہے کہ بے دخل کیے گئے جاسوس آسٹریلوی سیاست دانوں اور دفاعی ٹیکنالوجیز سے وابستہ افراد اور اداروں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

تاہم ان جاسوسوں کو حکام نے ملک سے بہت خاموشی کے ساتھ نکالا ہے تاکہ مودی سرکار کے لیے سُبکی اور شرمندگی کا سامان نہ ہو لیکن عوامی سطح پر جاسوسی کی مذمت نہ کیے جانے پر آسٹریلیا کے اندر سے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔

گرینز پارٹی کے سینیٹر شوبرج نے مطالبہ کیا ہے کہ آسٹریلیا سرعام بھارت کی مذمت کرے۔

آسٹریلوی حکام نے بتایا ہے کہ بھارتی جاسوس نیٹ ورک ایئر پورٹ سکیورٹی پروٹوکولز کو بھی نشانہ بنارہا تھا۔

یاد رہے کہ 2021 میں انٹیلی جنس چیف مائک برجس نیٹ ورک کا پتا لگایا تھا اور سفارت کاروں کے بھیس میں کام کرنے والے جاسوسوں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ انہوں نے بھارت کا نام نہیں لیا تھا۔ نام نہاد سفارت کاروں کو خاموشی سے، پروفیشنل طریقے سے ملک بدر کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اپریل میں دو جاسوس نکالے گئے تھے۔ چار جاسوسوں کی بے دخلی کا انکشاف آسٹریلین براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے اپنی تحقیقات میں کیا۔ آسٹریلیا میں بھارتی نیٹ ورک بے نقاب ہونے کی اولین خبریں اپریل میں آئی تھیں جب واشنگٹن پوسٹ نے بتایا تھا کہ دو بھارتی جاسوس نکال دیئے گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

ایام تشریق کا اختتام، 20 جون سے حجاج کرام کی واپسی شروع

مناسک حج کی ادائیگی کے آخری دن بیشتر حجاج کرام تینوں جمرات کی رمی کے بعد منیٰ سے رخصت ہو کر مکہ مکرمہ پہنچنے لگے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ایام تشریق کا اختتام، 20 جون سے حجاج کرام کی واپسی شروع

ایام تشریق کا اختتام ہوگیا جس کے بعد حجاج کرام کی واپسی 20 جون سے ہونا شروع ہو جائے گی۔

مناسک حج کی ادائیگی کے آخری دن بیشتر حجاج کرام تینوں جمرات کی رمی کے بعد منیٰ سے رخصت ہو کر مکہ مکرمہ پہنچنے لگے ہیں۔

مقامی حجاج نے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف، مدینہ منورہ، ریاض اور دیگر شہروں کی طرف روانگی شروع کردی۔

منیٰ سے مکہ مکرمہ اپنی رہائش گاہ واپسی کے بعد حجاج اب مدینہ منورہ جائیں گے، مسجد نبوی میں نمازیں ادا کریں گے اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دیں گے۔

حجاج مسجد قباء، مسجد قبلتیں، سباء مساجد اور مقدس مقامات کی زیارت بھی کریں گے، تقریباً 20 فیصد حجاج منیٰ میں قیام کریں گے اور رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں کی جانب روانہ ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ

روس کے صدر ولادیمیر پوٹن شمالی کوریا کے دورے پر پہنچ گئے۔

روسی  میڈیا کے مطابق روس کے صدر کا 24 سال بعد شمالی کوریا کا یہ پہلا دورہ ہے۔ صدر پوٹن کا شمالی کوریا کے دارالحکومت پیونگ یانگ پہنچنے پر سربراہ کم جونگ ان نے استقبال کیا۔ روسی صدر کو سلامی بھی پیش کی گئی۔

صدر پوٹن  شمالی کوریا کے ساتھ سکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں معاہدے کریں گے جبکہ مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا جائے گا۔  روسی صدر کے وفد میں نئے وزیر دفاع آندرے بیلوسوف، وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف اور ڈپٹی پرائم منسٹر الیگزینڈرنوواک بھی شامل ہیں۔

 امریکا کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے جبکہ روس نے صدر پوٹن کے  دورے کو دوستانہ دورہ قرار دیا  ہے۔صدر پوٹن  کا شمالی کوریا کے دورے کے بعد ویتنام کے دورے کا امکان ہے جہاں مخلتف امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

روسی صدر پیونگ یانگ کے اسی کُم سوسان گیسٹ ہاؤس میں قیام کریں جہاں 2019 میں شمالی کوریا کے دورے کے موقع پر چینی صدر نے قیام کیا تھا۔

واضح رہے کہ اس سے قبل دونوں رہنماؤں کے درمیان گزشتہ سال ستمبر کے مہینے میں روس کے انتہائی مشرقی علاقے ووسٹوکن کوسموڈروم میں ملاقات ہوئی تھی جبکہ روسی صدر پیوٹن نے اپنی صدارت کے شروعاتی دور میں 2000 میں شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا جب کم جونگ اُن کے والد کم جونگ اِل شمالی کوریا کا سربراہ تھے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll