جی این این سوشل

پاکستان

پنجاب اسمبلی کے سامنے اساتذہ و ملازمین کا شدید احتجاج

اساتذہ نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کی پیف کو حوالگی کا عمل نہ روکا تو پنجاب بھرمیں احتجاج کیا جائے گا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پنجاب اسمبلی کے سامنے  اساتذہ و ملازمین کا شدید احتجاج
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 

لاہور : پنجاب اسمبلی لاہور کے سامنے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پاکستان کے مرکزی صدرکی  قیادت میں سینکڑوں اساتذہ و ملازمین نے تعلیمی اداروں کی پیف و این جی اوز کو حوالگی کے خلاف ، تنخواہوں والاونسز میں 100 فیصد اضافہ ، زیر التواء نیشنل ہیلتھ ملازمین کی آپ گریڈیشن اور حسب وعدہ لیو انکیشمنٹ نوٹیفکیشن کو ڈی نوٹیفائی نہ کرنے پر پر امن احتجاج کیا ۔

اساتذہ اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرہ بازی کرتے رہے اور سیکرٹری سکول پنجاب دفتر 11 - لارنس روڈ تک احتجاجی ریلی نکالی اور ایک گھنٹہ تک احتجاج کرتے رہے اس موقع پر مقررین کا کہنا تھا کہ حکومت اساتذہ بھرتی کرنے کے بجائے تعلیمی اداروں کو ٹھیکے پر دینے کے لیے تلی ہوئی ہے ٹھیکیداری نظام سے نظام تعلیم تباہ و برباد ہو جائے گا پیف اور پیما دونوں ناکام ہو چکے ہیں۔

اساتذہ نے مہنگائی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے جبکہ مہنگائی میں کمی کے دعوے کئے جا رہے ہیں لہذا تنخواہوں میں 100 فیصد اضافہ کیا جائے ، لیو انکیشمنٹ کا نوٹیفکیشن حسب وعدہ ڈی نوٹیفائی کیا جائے اور نیشنل ہیلتھ ملازمین کی زیر التواء آپ گریڈیشن فی الفور نمٹایا جائے۔

اساتذہ نے احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تعلیمی اداروں کی پیف کو حوالگی کا عمل نہ روکا تو پنجاب بھرمیں احتجاج کیا جائے گا دفاتر ، سکولوں اور کالجوں کی تالہ بندی کریں گے۔7 جون کو وفاقی بجٹ کے موقع پر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کے سامنے آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس پاکستان کے زیر انتظام احتجاج کیا جائے گا۔

پاکستان

سنی اتحاد کونسل کا پارٹی قیادت اور کارکنوں کی رہائی کے لیے پارلیمنٹ تا سپریم کورٹ پیدل مارچ

احتجاجی مارچ میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، علی محمد خان، ریاض فتیانہ، عاطف خان شامل تھے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

سنی اتحاد کونسل کا پارٹی قیادت اور کارکنوں کی رہائی کے لیے پارلیمنٹ تا سپریم کورٹ پیدل مارچ

سنی اتحاد کونسل کے اراکین نے پارٹی قیادت اور کارکنوں کی رہائی کے لیے پارلیمنٹ تا سپریم کورٹ پیدل مارچ کیا اور ان کی رہائی کے لیے نعرے لگائے۔

سنی اتحاد کونسل اور پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے لیے احتجاج کیا، ارکان قومی اسمبلی نے پارلیمنٹ سے سپریم کورٹ تک پیدل مارچ کیا۔

احتجاجی مارچ میں بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، علی محمد خان، ریاض فتیانہ، عاطف خان شامل تھے، ارکان نے بانی پی ٹی آئی کو رہا کرو کے نعرے لگائے، ممبران کی جانب سے ہاتھوں میں بینرز بھی اٹھائے گئے تھے۔

مظاہرے میں گفتگو کرتے ہوئے چئیرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تحریک انصاف کے قید کارکنان اور لیڈر شپ کو رہا کیا جائے، ہماری بہنیں اور خواتین پابند سلاسل ہیں انہیں فوری رہا کیا جائے۔ ایک بار پھر بجٹ اجلاس سے پاکستان تحریک انصاف کے پارلیمنٹیرینز احتجاجاً واک کرنے پر مجبور ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو بروقت انصاف نہ ملنا ناانصافی ہے، 2009 میں جج صاحبان اپنے مطالبات کے لیے خود بھی سڑکوں پر آئے اس وقت نعرہ یہی تھا کہ بروقت انصاف ہی اصل انصاف ہے۔ خان صاحب ایک سال سے ناکردہ گناہ میں پابند سلاسل ہیں، سائفر کیس ختم ہونے کے باوجود جیل میں ہیں عدت کے کیس میں تاریخ پر تاریخ پڑ رہی ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ خان صاحب کو جلد سے جلد رہا کریں وہ ملک کے مقبول ترین لیڈر ہے۔تین کروڑ ووٹر نے صرف عمران خان کو ووٹ دیا ہے۔

اسد قیصر نے کہا کہ ملٹری کورٹ کے حوالے سے اب تک نیا بینچ نہیں بنایا گیا، آج تک جو بے گناہ لوگ جیلوں میں ہیں ان کے حوالے سے کس کے سامنے جائیں، ابھی تک بے گناہ جیلوں میں قید لوگوں کے لئے انصاف کا دروازہ نہیں کھولا گیا، ان کے انصاف کے لئے کیا اب ہمیں اقوام متحدہ کے پاس جانا ہوگا؟

انہوں ںے مزید کہا کہ چیف جیٹس سے ان لوگوں کو انصاف دلانے کی درخواست کرتے ہیں، چیف جسٹس بینج تشکیل دیں تاکہ بے گناہ جیلوں میں قید لوگوں کو انصاف مل سکے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں، سربراہ  جمیعت علماء اسلام

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے، مولانا فضل الرحمان

 جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  اسٹیملشمنٹ کو ہر شعبے میں اپنی بالادستی ختم کرنا ہو گی۔ ملک میں اس وقت ریاست کی رٹ نہ ہونے کیے برابر ہے۔

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے نیشنل پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر مالک بلوچ، اصغر اچکزئی ، خوشحال خان کاکڑ، عبد الخالق ہزارہ سے ملاقات کے بعد کوئٹہ میں اہم پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ عزم استحکام آپریشن ملک میں عدم استحکام پیدا کرے گا۔ ملک میں مسلح تنظیمیں کھلے عام گھوم رہی ہیں۔جمہوریت اور پارلیمنٹ اپنا مقدمہ ہار چکی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ  ہم کسی اتحاد کی مخالفت نہیں کر رہے، سیاسی لوگوں کی باہمی مشاورت کا سلسلہ چلنا چاہیے، بات چیت اور مشاورت کے بہتر نتائج آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سورج غروب ہونے کے بعد پولیس تھانوں میں چھپ جاتی ہے۔ آپریشن عزم استحکام درحقیقت آپریشن عدم استحکام ثابت ہوگا، ہ عدم استحکام آپریشن ہے جو ملک کو کمزور کرےگا، مولانا فضل الرحمان نے سوال کیا کہ ملک کو اور کمزور کیوں کیا جارہا ہے؟

مولانا نے مزید کہا کہ جس شناختی کارڈ کی بنیاد  پر آرمی چیف پاکستانی ہے اسی بنیاد پر میں بھی پاکستانی ہوں، ہم سب اس ملک کے برابر کے شہری ہیں، لیکن ایک طبقہ سمجھے کہ اس نے حاکم اور باقی سب نے غلام رہنا ہے، واضح کرنا چاہتے ہیں ہمارے قبیلوں کی یہ قسم نہیں، ہماری 300 سالہ تاریخ غلامی کے خلاف جنگ لڑنے کی ہے، انگریزوں کیخلاف 50 ہزار سے زائد مجاہدین کو شہید کیا گیا، ہم نے ملک غلامی کرنے کےلئے حاصل نہیں کیا تھا۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ ملک میں ریاستی رٹ نہ ہونے کے برابر ہے، خیبرپختونخوا میں سورج غروب ہوتے ہی پولیس تھانوں میں بند ہوجاتی ہے، ملک کے چپے چپے پر فوج اور پولیس موجود ہے، کیوں بے بس ہے، شہبازشریف وزیراعظم نہیں بس کرسی پر بیٹھے ہیں۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

جرم

لاہور بورڈ کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

لاہور بورڈ  کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب

لاہور: بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن (BISE) لاہور کے مارکنگ سینٹر سے امتحانی پرچوں کا بنڈل مبینہ طور پر غائب کردیا گیا ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق مارکنگ سینٹر سے سوشیالوجی پارٹ ون کے پیپرز کا بنڈل غائب ہوگیا جس میں 52 طلبہ کے پیپرز تھے۔


یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دو روز قبل امتحانی پرچے غائب ہونے کی شکایت سامنے آئی تھی، جس کی انکوائری کی جا رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بنڈل کی چوری نے محکمہ امتحانات کی رازداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔


دوسری جانب پنجاب ٹیچرز یونین کا کہنا ہے کہ اساتذہ نے معاملے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ تحقیقات کے لیے محکمہ تعلیم کے باہر سے انکوائری افسر تعینات کیا جائے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll