جی این این سوشل

پاکستان

گندم کی اضافی درآمد میں ملوث افسران کے خلاف ایکشن

وزیر اعظم شہباز شریف کے 4 معطل افسران کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

گندم کی اضافی درآمد میں ملوث افسران کے خلاف ایکشن
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

وزیراعظم شہباز شریف نے اضافی گندم کی درآمد میں ملوث قرار دیے گئے 4 معطل افسران کے خلاف تحقیقات کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سیکرٹری تجارت کو ذمہ داری سونپ دی۔

وزیراعظم نے سیکرٹری تجارت محمد صالح احمد فاروقی کو انکوائری آفیسر مقرر کردیا، معطل افسران کے خلاف سول سرونٹس ایفیشینسی اینڈ ڈسپلن رولز 2020 کےتحت انکوائری ہوگی۔

وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے 4 افسران کو ذمہ دار قرار دے کر معطل کیا گیا، ڈائریکٹرجنرل پلانٹ پروٹیکشن اللہ دتہ عابد، فوڈ سیکیورٹی کمشنر ڈاکٹر وسیم، ویٹ کمشنر اور ڈائریکٹر ڈی پی پی سہیل شہزاد معطل کیے جانے والے افسران میں شامل تھے۔ ان افسران کو گندم کے حوالے سے ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

واضح رہے کہ ملک میں گندم کے وافر ذخائر موجود ہونے کے باوجود نگران حکومت کے دور میں بڑے پیمانے پر گندم کی درآمد کے انکشافات سامنے آئے تھے۔یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ موجودہ حکومت کی اب تک کی مدت میں بھی گندم کی درآمد کا سلسلہ جاری رہا۔

 

پاکستان

گرمی سے نجی بنک کی اے ٹی ایم مشین غیر فعال ، ہزارو ں صارفین خوار

سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ شاید مشین کو گرم موسم میں گرمی لگ گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہی ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

گرمی سے نجی بنک کی اے ٹی ایم مشین  غیر فعال ، ہزارو ں صارفین خوار

 

جہاں شدت کی گرمی نے ہر ذی روح کو پریشان کیا ہوا ہے، وہاں بے جان مشینیں بھی بے حال نظر آ رہی ہیں۔ 
سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں اے ٹی ایم نے ایک صارف کو پیسے دینے کی بجائےنیچے زمین پر پھینک دیے۔ 
تفصیلات کے مطابق ایک صارف نے ایک نجی بنک کی اے ٹی ایم مشین میں رقم کے حصول کے لیے کارڈ ڈالا تو  تھوڑی دیر انتظار کے بعد اے ٹی ایم مشین نے  کارڈ باہر نکال دیا۔ اس کے ساتھ ہی پیسے اے ٹی ایم مشین کے ڈیش بورڈ میں رکنے کے بجائے حیرت انگیز طور پر پریشر سے نیچے فرش پر جا گرے۔ بظاہر ایسا لگا جیسے مشین نے غصے کا اظہار کرتے ہوئے پیسے پھینک دیے ہیں۔ 

سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ کمنٹس کرتے ہوئے لکھا کہ شاید مشین کو گرم موسم میں گرمی لگ گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے غصے کا اظہار کر رہی ہے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پنجاب حکومت کا تجاوزات مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن

 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کی رہنمائی کے لیے نصب سکرینوں کو بحال کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت کا تجاوزات مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن

پنجاب حکومت کا ٹریفک میں حائل ریڑھیوں اور تجاوزات کو ختم کرنے کا فیصلہ 

لاہور:وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی زیر صدارت ٹریفک مینیجمنٹ پر خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔  
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے ٹریفک نظام کو درپیش مسائل اور ان کی درستی کے لائحہ عمل کا جائزہ لیا۔ 
دوران اجلاس یہ بات زیر بحث لائی گئی کہ روڈ کے اطراف میں موجود ریڑھیاں سڑک کے بند ہونے کی ایک بڑی وجہ ہیں، جس کی بدولت ٹریفک کی روانی بہت متاثر ہوتی ہے۔ اس بناء پر یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایسی تمام ریڑھیاں ہٹا دی جائیں جو مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کی روانی میں حائل ہوتی ہیں ۔ 
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے ہٹائے جانے والے ریڑھی بانوں کو اپنا کام جاری رکھنے کے لیے کوئی متبادل جگہ دینے کی ہدایات جاری کر دیں۔ 
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کے نظام کو بہتر کرنے کے لیے لین اور لائن کے قواعد و ضوابط پر عملداری ممکن بنانے کی سخت ہدایات دیں۔ عوام کی آگاہی کے لیے مہم شروع کرنے کی تجویز بھی دی گئی۔  
وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے سڑکوں پر موجود تجاوزات کو ہٹا کر سڑکوں کو کشادہ کرنے کے لیے موثر حکمت عملی اپنانے کی ہدایات جاری کر دیں۔ 
 وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ٹریفک کی رہنمائی کے لیے نصب سکرینوں کو بحال کرنے کا بھی حکم جاری کر دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کا بجٹ پیش کرد یا گیا

پنشن اخراجات کیلئے ایک ہزار چودہ ارب روپے اور بجلی، گیس اور دوسرے شعبوں پر اعانت کے طور پر ایک ہزار تین سو تریسٹھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مالی سال 25-2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کا بجٹ پیش کرد یا گیا

آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کا اعلان کر دیا گیا ہے جس کا مجموعی حجم اٹھارہ ہزار آٹھ سو ستتر ارب روپے ہے۔

بجٹ میں مالیاتی نظم وضبط اور عام آدمی کے لئے سہولت فراہم کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے آج تیسرے پہر قومی اسمبلی میں بجٹ تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایف بی آر کے جانب سے جمع کئے گئے محاصل کا تخمینہ بارہ ہزار نو سو ستر ارب روپے بنتا ہے جو ختم ہونے والے مالی سال کے مقابلے میں اڑتیس فیصد زیادہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفاقی محاصل میں صوبوں کا حصہ سات ہزار چار سو اڑتیس روپے اور ٹیکس کے بغیر محاصل کا تخمینہ تین ہزار پانچ سو ستاسی ارب روپے ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں مجموعی ملکی پیداوار کی شرح نمو 3.6 فیصد رہنے کی توقع ہے۔

انہوں نے کہاکہ افراط زر کی شرح بارہ فیصد اور بجٹ خسارہ 5.9 فیصد رہنے کا امکان ہے ، انہوں نے کہاکہ سود کی ادائیگی کا تخمینہ نوہزار سات سوپچھہتر ارب روپے ہے ، محمد اورنگزیب نے کہاکہ سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام کیلئے چودہ سو ارب روپے رکھے گئے ہیں ، انہوں نے کہاکہ سرکاری اور نجی شعبے کی شراکت والے منصوبوں کیلئے اضافی ایک سو ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ دفاعی ضروریات کیلئے دوہزار ایک سو بائیس ارب روپے فراہم کئے جائیںگے، وزیر خزانہ نے کہا کہ شہری انتظامیہ کے اخراجات کیلئے آٹھ سو انتالیس ارب روپے رکھے کئے ہیں۔

پنشن اخراجات کیلئے ایک ہزار چودہ ارب روپے اور بجلی، گیس اور دوسرے شعبوں پر اعانت کے طور پر ایک ہزار تین سو تریسٹھ ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزادجموںوکشمیر، گلگت بلتستان، ضم شدہ اضلاع، اعلیٰ تعلیمی کمیشن، پاکستان ریلوے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کیلئے ایک ہزار سات سو ستتر ارب روپے کی گرانٹس مختص کی گئی ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ کا بڑا حجم بنیادی ڈھانچے، نقل و حمل، توانائی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی اور آبی وسائل کے نظم و نسق میں مسائل کے حل کیلئے حکومت کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

 محمد اورنگزیب نے کہا کہ سرکاری شعبے کے زیرتکمیل ترقیاتی پروگرام آئندہ مالی سال میں مکمل کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ بنیادی سہولیات کے نظام کی ترقی حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس مقصد کیلئے رقم کا انسٹھ فیصد مختص کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ متوازن علاقائی ترقی کو یقینی بنانا ایک آئینی ذمہ داری ہے۔

اس لئے آزادجموں وکشمیر، گلگت بلتستان اور قبائلی اضلاع کے لئے دس فیصد وسائل مختص کئے گئے ہیں جبکہ آئی ٹی اور ٹیلی کام، سائنس اور ٹیکنالوجی، نظم و نسق اور پیداوار جیسے دوسرے شعبوں کے لئے تقریباً گیارہ اعشاریہ دو فیصد وسائل رکھے گئے ہیں۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ بنیادی ڈھانچے کیلئے سرکاری شعبے کے ترقیاتی پروگرام میں آٹھ سو چوبیس ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں۔

توانائی کے شعبے کیلئے دو سو تریپن ارب روپے، ٹرانسپورٹ اورمواصلات کے شعبوں کیلئے دوسو اناسی ارب روپے، پانی کے شعبے کیلئے دو سو چھ ارب روپے اور منصوبہ بندی اور ہاؤسنگ کیلئے چھیاسی ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

سماجی شعبے کیلئے دو سو اسی ارب روپے مختص کئے گئے ہیں جبکہ ختم ہونے والے مالی سال کیلئے دو سو چوالیس ارب روپے مختص تھے۔

آزادجموں وکشمیر اور گلگت بلتستان سمیت خصوصی علاقوں کیلئے 75 ارب روپے، قبائلی اضلاع کیلئے چونسٹھ ارب روپے اور سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کیلئے اناسی ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ زراعت سمیت پیداوار کے شعبے کیلئے بھی پچاس ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ قومی اقتصادی کونسل کے قواعد و ضوابط کے مطابق منظور کئے گئے منصوبوں کو ترجیح دی جائے گی۔

 وزیرخزانہ نے کہا کہ آبی وسائل ، نقل وحمل مواصلات اور توانائی کے شعبوںسمیت تزویراتی اور اہم منصوبوں کو خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ غیرملکی اعانت سے شروع کیے گئے منصوبوں کے علاوہ ایسے منصوبوں کی بروقت تکمیل بھی یقینی بنائی جائے گی جن پر پہلے ہی اسی فیصد وسائل خرچ کیے جارہے ہیں ۔

محمد اورنگزیب نے کہاکہ برآمدات میں اضافے کیلئے مصنوعات کا معیار بہتر بنانے اور ڈیجیٹل بنیادی ڈھانچے کی بہتری ، صنعتی ترقی ، زرعی صنعت ، بحری ، معیشت ، سائنس وٹیکنالوجی اورتحقیق وترقی پرمبنی نئے منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔

انہوں نے کہاکہ سالانہ ترقیاتی منصوبے میں پائیدار اور متوازن ترقی کے فروغ کیلئے اقدامات بھی شامل ہیں ۔

وزیرخزانہ نے کہاکہ حکومت شاہراہوں کے نیٹ ورک کی بہتری اور بڑے شہروں اور علاقوں کو ایک دوسرے سے منسلک کرنے سمیت بنیادی ڈھانچے کی ترقی پر خصوصی توجہ دے گی ۔

اس کے علاوہ توانائی کے بنیادی ڈھانجے کو جدید خطوط پروسعت دینے کیلئے بھی اقدامات کیے جارہے ہیں جن میں پن بجلی کے حامل ڈیموں کی تعمیر اور شمسی توانائی کے پلانٹس اور ترسیلی لائنوں تنصیب شامل ہے تاکہ بجلی کی تقسیم کے موثر نظام کویقینی بناتے ہوئے بجلی کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کی جاسکے۔

محمد اورنگزیب نے کہاکہ پانی کے بہتر انتظام کیلئے بھی اقدامات کیے جائینگے تاکہ سیلاب سے نمٹنے کے علاوہ مقامی اور زرعی ضروریات کیلئے پانی کی دستیابی یقینی بنائی جاسکے۔

 برآمدات میں اضافے کیلئے حکومت کے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہاکہ برآمدات کی نئی شرائط پر قرضہ دینے کی سکیم تین ارب اسی کروڑ روپے سے برھا کر تیرہ ارب اسی کروڑ روپے کرنے کی تجویز ہے ۔

انہوں نے کہاکہ سٹیٹ بنک کے ذریعے پانچ سو انتالیس ارب روپے کی برآمدی مالیاتی سہولت فراہم کی جائے گی ۔

انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے ہدایت کی ہے کہ یہ سہولت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے شعبے کے کم ازکم چالیس فیصد اداروں کو دستیاب ہوگی۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ٹیکس قوانین میں مساوات اور انصاف کے اصولوں کو لاگو کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیکسز میں استثنیٰ اور چھوٹ سے حکومتی آمدن کم ہوتی ہے اورسماجی اور معاشی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ سیلز ٹیکس میں چھوٹ اور استثنیٰ کا جائزہ لینے کے بعد حکومت نے بعض رعایتوں اور استثنیٰ کو ختم کرنے کی تجویز دی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اشیاء پر کم شرح سے ٹیکس لگایا جائے گا جبکہ بعض اشیاء پر سٹینڈرڈشرح سے ٹیکس لگایا جائے گا۔

حکومت نے ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ٹائرون پرچون فروشوں پر جی ایس ٹی کی شرح پندرہ سے بڑھا کر اٹھارہ فیصد تک کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔

موبائل فونز پر سٹینڈرڈشرح کا اٹھارہ فیصد ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔

بجٹ میں تانبا، کوئلہ، کاغذ اور پلاسٹک کے سکریپ پر ودہولڈنگ ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ لوہے اور سٹیل سکریپ پر سیلز ٹیکس کے استثنیٰ کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ جعلی یا مصنوعی انوائسز کے رجحان کی حوصلہ شکنی ہو سکے۔

 وزیر خزانہ نے کہا کہ اتحادی حکومت معاشرے کے نادار طبقوں کو زیادہ سے زیادہ مدد فراہم کرنے کیلئے پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال کے دوران بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحق خاندانوں کی مدد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا بجٹ ستائیس فیصد اضافے کے ساتھ پانچ سو ترانوے ارب روپے کیا جا رہا ہے۔

محمد اورنگزیب نے کہا کہ کفالت پروگرام سے مستفید ہونے والوں کے لئے بجٹ ترانوے لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ روپے کر دیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ان خاندانوں کو نقد رقوم کی منتقلی میں اضافہ کیا جائے گا تاکہ وہ مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی وظیفے کے پروگرام میں مزید دس لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا۔ اس سے مجموعی اسکالرشپس کی تعداد ایک کروڑ چالیس لاکھ ہو جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مالی سال میں نشوونما پروگرام میں مزید پانچ لاکھ خاندان شامل ہونگے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll