نیب ترامیم کیس براہ راست نشر نہ کرنے کے فیصلہ پر جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ جاری
بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کیس براہ راست نشر کرنا ضروری ہے، جسٹس اطہر من اللہ


سپریم کورٹ کے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی پیشی والا نیب ترامیم کیس براہ راست نشر نہ کرنے کے فیصلہ پر جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا۔
جسٹس اطہر من اللہ کا اختلافی نوٹ 13 صفحات پر مشتمل ہے، جسٹس اطہر من اللہ نے لکھا کہ بنیادی حقوق کے تحفظ کیلئے کیس براہ راست نشر کرنا ضروری ہے، نیب ترامیم کیس پہلے براہ راست نشر ہو چکا۔ عوام کو سپریم کورٹ کی براہ راست نشریات تک رسائی نہ دینے کی کوئی ٹھوس وجہ موجود نہیں، بلکہ اس سے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں طے کیے گئے اصولوں کی خلاف ورزی ہوگی۔
اختلافی نوٹ میں کہا گیا بانی پی ٹی آئی ملک کی بڑی سیاسی جماعت کے سربراہ ہیں، بانی پی ٹی آئی کی پیشی کو لائیو دکھانا کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں، پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی کے بعد 184 تین کے تمام مقدمات بینچ ون سے لائیو دکھائے گئے۔
انہوں نے لکھا کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو جب گرفتار کرکے جیل بھیجا گیا تھا تو وہ کوئی عام قیدی نہیں تھے بلکہ آئین شکن فوجی آمر کی ریاستی مشینری کے متاثرہ فریق تھے، سپریم کورٹ نے چار دہائیوں بعد حال ہی میں ذوالفقار بھٹو کی ناانصافی کا تذکرہ کیا کہ انہیں شفاف ٹرائل سے محروم رکھا گیا، لیکن بھٹو کو جو نقصان پہنچا اسکا مداوا نہیں ہو سکتا۔
فاضل جج نے کہا کہ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف بھی کوئی عام مجرم نہیں تھے، ان دونوں کو بھی ریاستی طاقت کے غلط استعمال کا سامنا کرنا پڑا، دونوں رہنما عوامی نمائندہ ہونے کے ناطے لاکھوں فالورز رکھتے تھے، دونوں کو ہراساں کیا گیا اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے خلاف غیر منتخب لوگوں کی جانب سے بغیر شواہد کرپشن کے مقدمات بنائے گئے۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ حیرانی کی بات ہے کہ ایک اور سابق وزیراعظم کے خلاف متعدد ٹرائلز چلائے جا رہے ہیں جن میں سے کچھ میں انہیں سزا ہو چکی ہے، حالیہ عام انتخابات سے ثابت ہوا کہ بانی پی ٹی آئی کے بھی لاکھوں سپورٹرز ہیں، وہ کوئی عام مجرم یا قیدی نہیں ہیں۔
انہوں نے لکھا کہ منتخب عوامی نمائندوں کی تضحیک اور ان کو ہراساں کیے جانے میں عدلیہ کا گٹھ جوڑ رہا، یہ تاثر ہے کہ اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے منتخب عوامی نمائندوں سے بدسلوکی کی جاتی رہی ہے۔
جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مزید کہا کہ نیب قانون فوجی آمر نے 16 نومبر 1999 کو نافذ کیا، جس کے ذریعے سیاستدانوں کو انتقام کا نشانہ بنایا گیا، مسلسل یہ الزامات لگتے رہے کہ نیب سیاسی انجینئرنگ کے لیے استعمال ہوتا رہا، غیر امتیازی سلوک کی وجہ سے عوام کی نظر میں نیب کی ساکھ اور غیر جانبداری کو شدید نقصان پہنچا، نیب قانون کے سبب لوگوں کو کئی کئی ماہ حتیٰ کہ کئی کئی سال گرفتار رکھا گیا، نیب کہتا ہے کہ ٹرائل تیس دنوں میں مکمل ہوگا، نیب کی وجہ سے ملک کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا، شاہد خاقان عباسی، نوازشریف، یوسف رضا گیلانی کی نہ صرف تذلیل کی گئی بلکہ ان کا وقار بھی مجروح کیا گیا۔
اختلافی نوٹ میں لکھا گیا نیب ترامیم کیس میں اپیل بھی 184 تین کے کیس کیخلاف ہے۔

پی سی بی اور آئی سی سی کی ہنگامی میٹنگ: بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ کے صدر لاہور پہنچ گئے
- ایک دن قبل

ایران کا دوٹوک پیغام:اگر حملہ ہوا تو خطے میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنائیں گے،عباس عراقچی
- ایک دن قبل

سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر راولپنڈی میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
- ایک دن قبل

اسحا ق ڈار کا ترک وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ،باہمی تعلقات،مشترکہ مفادات اور دیگر امور پر تبادلہ خیال
- ایک دن قبل

پاکستان کی فارما صنعت میں تاریخی سنگِ میل، ملک عالمی معیار کے جدید پیداواری پلانٹ کا آغاز
- 20 گھنٹے قبل

مریم نواز نے عوامی جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے بسنت کا وقت بڑھا دیا،دیگر شہروں میں بھی منانےکا عندیہ
- ایک دن قبل

اسلام آباد راولپنڈی میں چلنے والی میٹرو بس سروس بند کر دی گئی
- ایک دن قبل

اسلام آبادخود کش دھماکے میں جاں بحق افراد کی تعداد 33 ہو گئی، درجنوں زیرِ علاج
- ایک دن قبل

بھارتی ریاست ہریانہ میں جھولا گرنے سے پولیس انسپکٹر ہلاک اور 17 زخمی
- ایک دن قبل

طالبان رجیم نے ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں جو نائن الیون کے پہلے سے بھی زیادہ خطرناک ہیں،صدر مملکت
- ایک دن قبل

غزہ بورڈ آف پیس کی پہلی میٹنگ رواں ماہ امریکا میں ہوگی،اراکین کو دعوت نامے ارسال
- ایک دن قبل

سربراہ پاک بحریہ کا ملائیشیا کا سرکاری دورہ ،ملائیشین نیوی کی اعلی قیادت سے ملاقات
- ایک دن قبل



.jpg&w=3840&q=75)




.jpg&w=3840&q=75)