Advertisement

اسرائیل کا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے میں غزہ پر حملہ روکنے سے انکار

حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف بمباری اور گولہ باری جاری رکھتے ہوئے ہی ہوں گے، اسرائیلی وزیر دفاع

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Jun 6th 2024, 5:11 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
اسرائیل کا مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے میں غزہ پر حملہ روکنے سے انکار

اسرائیل نے حماس کے ساتھ قیدیوں کی رہائی کے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے بدلے میں غزہ پر حملہ روکنے سے انکار کردیا ہے۔

آٹھ ماہ سے جاری جنگ کو ختم کرنے کی کوششیں اس وجہ سے ناکام ہو گئی ہیں کہ اسرائیل نے حماس کو حکمران اور فوجی طاقت کے طور پر ختم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے اور حماس نے بھی پیچھے ہٹنے سے متعلق کوئی اشارہ نہیں دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع گیلنٹ نے غزہ میں محاذ کا معائنہ کرنے کے لیے طیارے میں سوار ہونے کے بعد بیانات میں کہا کہ حماس کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات صرف بمباری اور گولہ باری جاری رکھتے ہوئے ہی ہوں گے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق غزہ معاملہ کے حل کے امریکی صدر بائیڈن کے مجوزہ منصوبے کے حوالے سے اسرائیل کے بیانات متضاد ہیں۔ ذرائع نے مزید کہا کہ اسرائیل نے سابق تجویز کو مسترد کر دیا جس پر ہم نے اتفاق کیا تھا اور بعد میں اسرائیل نے رفح پر حملہ کردیا تھا۔ اب ہم بائیڈن سے ضمانت چاہتے ہیں کہ اسرائیل مجوزہ منصوبے پر عمل درآمد پر رضامند ہو جائے گا۔

ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ثالثوں نے ہمیں جو کاغذ دکھایا اس میں وہ مثبت باتیں شامل نہیں ہیں جن کے بارے میں بائیڈن نے بات کی تھی۔ کاغذ میں درست بنیادوں کو شامل ہی نہیں کیا گیا۔ کسی ایسے معاہدے کا کوئی مطلب نہیں ہے جس میں مستقل جنگ بندی اور اسرائیل کے انخلا کی شرط نہ ہو۔ ذرائع نے کسی معاہدے تک پہنچنے سے قبل ہی سلامتی کونسل کی قرارداد آنے کے خطرات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے۔

حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے ایک بیان میں کہا کہ تحریک حماس جنگ کے مکمل خاتمے، غزہ کی پٹی سے مکمل اسرائیلی انخلا اور قیدیوں ک تبادلے پر مبنی کسی بھی جنگ بندی معاہدے پر سنجیدگی اور مثبت رویے کے ساتھ کام کرے گی۔

Advertisement
Advertisement