جی این این سوشل

پاکستان

پاکستان بھر میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ

اقتصادی سروے 24-2023 کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے اندر گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان بھر میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

پاکستان بھر میں گدھوں کی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ 

اقتصادی سروے 24-2023 کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے اندر گدھوں کی تعداد میں ایک لاکھ کا اضافہ ہو گیا۔ 

لائیو سٹاک کے جاری کردہ اعدادو شمار کے مطابق 2010 سے ملک میں گدھوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ 24-2023 کے حالیہ اقتصادی سروے میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دو سالوں میں گدھوں کی تعداد میں دو لاکھ کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ حالیہ سال ملک بھر میں گدھوں کی تعداد 59 لاکھ تک پہنچ گئی۔
ملکی سطح پر لائیو سٹاک کی سالانہ جاری کردہ رپورٹ، اعداد و شمار کی بنیاد پر ملک کی معیشت و تجارت کی حکمت عملی بنانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔

پاکستان

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، جسٹس بابر ستار

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد

اسلام آباد ہائیکورٹ نے آڈیو لیکس کیس میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی جانب سے چیمبر میں سماعت کی استدعا مسترد کردی۔

جسٹس بابرستار نے کہا ہے کہ صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کررہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے آڈیو لیکس سے متعلق درخواستوں کو یکجا کرکے سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل منوراقبال دوگل عدالت میں پیش ہوئے۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ خفیہ ادارے کی طرف سے مجاز افسر ڈیٹا کی درخواست کرتا ہے، جس پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ لائیو کال کو مانیٹر کرسکتے ہیں؟ یہ پٹیشنز تو فون ٹیپنگ سے متعلق ہی ہیں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے کہا کہ سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد 2013 میں نئی پالیسی آئی، وزارتِ داخلہ نے ایک ایس او پی جاری کیا، آئی ایس آئی اور آئی بی براہ راست سروس پرووائیڈرز سے ڈیٹا لے سکتی ہیں جبکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ضرورت پڑنے پر ان ایجنسیز سے ڈیٹا لے سکتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ ایس او پی تو ایک سیکشن افسر نے جاری کیا ہے، متعلقہ اتھارٹی کا ذکر نہیں، وزارتِ داخلہ کے پاس یہ اختیار کیسے ہے اور کس قانون کے تحت یہ ایس او پی جاری کیا گیا؟ جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ وارنٹ کے بغیر لائیو لوکیشن کیسے شیئر کی جا سکتی ہے، حکومت نے کس قانون کے تحت فیصلہ کیا کہ یہ ڈیٹا حاصل کرسکتے ہیں، وزارتِ داخلہ کے ایک سیکشن افسر نے ایس او پی جاری کردیا اور سیکشن افسر کے ایس او پی کے تحت آپ ڈیٹا حاصل کرتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ نے فون ٹیپنگ سے متعلق نہیں بتایا جو چیزیں بتائی ہیں یہ اُن میں نہیں آتا، ابھی اس دستاویز کی قانونی حیثیت بھی دیکھنی ہے، پی ٹی اے کام کرنے کیا میکانزم ہے۔

پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ پی ٹی اے کے پاس سرویلینس کا کوئی اختیار نہیں، اور نہ پی ٹی اے فون ٹیپنگ کرتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ کسی ڈویژن کے لکھنے پر آپ ڈیٹا ٹیپ کرسکتے ہیں؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ میری انڈر اسٹینڈنگ کے مطابق کیبنٹ کی منظوری کے مطابق بعد ایسا ہوسکتا ہے۔

جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا اگر میرے گھر چوری ہوتی ہے تو آپ سی سی ٹی وی فوٹیج کس قانون کے تحت لیں گے، کیا آپ بغیر وارنٹ سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرسکتے ہیں، جس پر پولیس کے وکیل نے جواب دیا کہ اگر کسی پرائیویٹ شخص کے پاس فوٹیج ہے تو پولیس اس کو حاصل کرسکتی ہے۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ400 سال پہلے وارنٹ کا تصور کیوں بنایا گیا، کیا آپ نے 11 سالوں میں سی سی ٹی وی کے لیے کوئی وارنٹ نہیں لیا، جس پر پولیس وکیل نے کہا کہ اگر ثبوت ضائع ہونے کا خدشہ ہو تو وارنٹ کی ضرورت نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد پولیس کو سمجھ کیوں نہیں آتی کہ جب کسی کے گھر جاتے ہیں تو وارنٹ کیوں لیتے ہیں، کیا آپ نے کوئی قانون بنایا ہوا ہے، کس قانون کے تحت سرویلنس ہوتی ہے، قانون بنائیں گے تو لوگوں کو پتہ ہوگا کہ کس قانون کے تحت سرویلنس ہو رہی ہے، یہاں عدالتوں کو نہیں پتہ کیا ہو رہا ہے، صرف پاکستان میں دہشت گردی نہیں ہے، دیگر ملکوں میں بھی دہشت گری ہے لیکن ان ممالک میں رولز موجود ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ آپ یہ نہیں کہہ سکتے قانون بنا ہوا ہے یا نہیں، جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ چیمبر میں سماعت رکھ لیں، آپ کو آگاہ کر دیں گے، جسٹس بابر ستار نے کہا کیا میں آپ سے دہشت گردوں سے متعلق پوچھ رہا ہوں، صرف قانون کا پوچھا ہے، کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں ججز کے چیمبر یا وزیراعظم ہاؤس کی ٹیپنگ دشمن ایجنسیاں کرتی ہیں، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ نہیں ایسا نہیں ہے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل مسلسل چیمپر میں سماعت کی استدعا کرتے رہے، جستس بابر ستار نے کہا کہ یہ نیشنل سکیورٹی کا معاملہ نہیں، آپ کی چیمبر سماعت کی درخواست مسترد کرتا ہوں، میں نیشنل سیکیورٹی کے سیکریٹ آپ سے نہیں پوچھ رہا، چیمبر سماعت کا مذاق شروع نہیں کریں گے۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنیز کے وکلا کو روسٹرم پر بلاکر استفسار کیا آپ بتائیں آپ ڈیٹا کیسے فراہم کرتے ہیں، جب آپ کوئی ڈیٹا دیتے ہیں تو اس کا ریکارڈ بھی رکھتے ہوں گے، جو کیبل ڈیٹا لے کر پاکستان آتی ہے آپ کا کسی کے ساتھ معاہدہ ہوگا، کیا آپ کے علاوہ ڈیٹا تک رسائی کسی اور کو ہے؟

ٹیلی کام کمپنی کے وکیل نے کہا کہ کمپنی کے علاوہ کسی کو ڈیٹا تک رسائی نہیں، جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا ایجنسیوں کو ٹیلی کام کمپنیوں کی اجازت کے بغیر ڈیٹا تک رسائی ہے؟

وفاقی حکومت نے ٹیلی کام آپریٹرز پر ڈیٹا دینے پر پابندی ختم کرنے کی استدعا کردی، عدالت نے پوچھا کس نے آئی جی کو کہا ہے کہ وارنٹس نہ لیں، کیا پارلیمنٹ بے وقوف تھی جس نے یہ قانون بنا دیا، آپ نے 11 سال میں ایک دفعہ بھی عمل نہیں کیا، ایک قانون ہے 11 سال میں ایک دفعہ بھی کسی نے ڈیٹا لینے کے لیے وارنٹ نہیں لیے۔

وکیل ٹیلی کام کمپنی نے کہا کہ ڈیٹا فراہمی ٹیلی کام آپریٹرز کے لائسنس کے حصول کے لیے پی ٹی اے کی شرط ہے، جس پر جسٹس بابر ستار نے استفسار کیا جو ڈیٹا لیا جارہا ہوتا ہے اُس سے متعلق آپ کو معلوم ہوتا ہے، وکیل نے جواب دیا کہ ٹیلی کام آپریٹرز کو اس متعلق کچھ پتہ نہیں ہوتا، ٹیلی کام آپریٹرز پی ٹی اے کے کہنے پر یہ سسٹم لگاتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے ٹیلی کام کمپنی کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے پی ٹی اے کی سسٹم لگانے کی ڈائریکشن کی خط وکتابتآڈیو لیکس کیس میں ریکارڈ پر لانی ہے، جس پر وکیل نے جواب دیا کہ یہ لائسنس کی شرط ہے، پھر بھی کوئی خط و کتابت ہے تو ریکارڈ پر لے آتے ہیں۔

جسٹس بابر ستار نے کہا کہ یہ کام زبانی نہیں ہوتا بڑی تفصیلی ڈائریکشن ہوتی ہے، اگر کوئی بھی ٹیلی کام کمپنی فون ٹیپنگ میں معاونت کر رہی ہے تو یہ غیر قانونی ہے، فون ٹیپنگ سے متعلق کوئی قانون موجود نہیں۔

جسٹس بابر ستار نے پی ٹی اے کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ ایک ایسے سسٹم کی اجازت کیسے دے سکتے جس میں سرویلنس کی جا سکے، سکیشن 57 کے تحت کوئی قانون نہیں بنایا گیا، آپ سے پہلے بھی یہ کیس چلتا رہا ہے، چیئرمین پی ٹی اے جو بتا کر گئے ہیں وہ ریکارڈ کا حصہ ہے۔

واضح رہے کہ 29 اپریل 2023 کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسرائیلی بمباری سے حماس رہنماکے اہل خانہ سمیت 10 افراد شہید

اسرائیل طیاروں نے شمالی غزہ میں حماس کے رہنما اسماعیل ہنیہ کے گھر پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں ان کی بہن سمیت 10 افراد شہید ہوئے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حملوں میں شہید ہونے والوں میں اسماعیل  ہنیہ کے خاندان کے دیگر افراد بھی شامل ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فوج نے پناہ گزین سکول پر بھی بمباری کی، جس کے نتیجے میں مزید 16 فلسطینی شہید ہوگئے۔

دوسری جانب صہیونی فوج نے غزہ میں امداد کے منتظر فلسطینیوں پر حملہ کر دیا، جس کے سبب مزید 8 فلسطینی شہید ہوگئے، اسرائیلی فوج نےخان یونس میں غذائی قلت سےدوچار فلسطینیوں کو نشانہ بنایا۔

24گھنٹوں کے دوران 28 فلسطینی اسرائیلی دہشت گردی کا نشانہ بنے، شہدا کی مجموعی تعداد 37ہزار 626 سے تجاوز کر گئی، جبکہ 86 ہزار 98 زخمی افراد زخمی ہیں۔حکام کے مطابق ہزاروں فلسطینی بچے تاحال ملبے تلے پھنسے ہوئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کا وضاختی بیان

عزم استحکام کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب اور راہ نجات وغیرہ سے کیا جا رہا ہے، وزیر اعظم آفس

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کا وضاختی بیان

عزم استحکام کے حوالے سے وزیراعظم آفس کی جانب سے وضاختی بیان جاری کر دیا گیا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عزم استحکام کو غلط سمجھا جا رہا ہے اور اس کا موازنہ گزشتہ مسلح آپریشنز جیسے ضرب عضب اور راہ نجات وغیرہ سے کیا جا رہا ہے، عزم استحکام کا مقصد نظرثانی شدہ قومی ایکشن پلان کے جاری نفاذ میں ایک نئی روح اور جذبہ پیدا کرنا ہے۔

عزم استحکام پاکستان میں پائیدار امن و استحکام کیلئے ایک کثیر جہتی، مختلف سکیورٹی اداروں کے تعاون اور پورے ریاستی نظام کا مجموعی قومی ویژن ہے۔ایسا آپریشن زیر غور نہیں جس میں آبادی کی نقل مکانی ہو۔ عزم استحکام پر غیر ضروری بحث کو ختم کرنا چاہیے۔

اعلامیہ کےمطابق ملک کے پائیدار امن و استحکام کے لیے حال ہی میں اعلان کردہ وژن جس کا نام عزم استحکام رکھا گیا ہے، گزشتہ مسلح آپریشنز میں ایسے معلوم مقامات جو نوگو علاقے بننے کے ساتھ ساتھ ریاست کی رٹ کو چیلنج کر رہے تھےسے دہشت گردوں کو ہٹا کر انہیں جہنم واصل کیا گیا۔ان کارروائیوں کے لیے مقامی آبادی کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور متاثرہ علاقوں سےدہشتگردی کی عفریت کی مکمل صفائی کی ضرورت تھی۔

اعلامیہ میں مزید کہا گیا ہے کہ اس وقت ملک میں ایسے کوئی نوگو ایریاز نہیں ہیں ،دہشت گرد اداروں کی پاکستان کے اندر بڑے پیمانے پر منظم کارروائیاں کرنے یا انجام دینے کی صلاحیت کو گزشتہ مسلح آپریشنز سے فیصلہ کن طور پر شکست دی جا چکی ہے۔ آپریشن کا مقصد پہلے سے جاری کارروائیوں کو مزید متحرک کرنا ہے۔ جاری کارروائیوں کے ساتھ سیاسی ، سفارتی اور قانونی پہلو شامل ہوں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll