یہ مسئلہ ملک کی بدقسمتی ہے، جسٹس ملک شہزاد


چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد نے کہا ہے کہ عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں، یہ مسئلہ ملک کی بدقسمتی ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں خطاب کے دوران چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے کہا کہ ہمارے پاس اکثریت ان لوگوں کی ہے جو معاشرے کے کمزرو افراد ہیں۔ عدالتوں سے بروقت فیصلے نہ ہونا کمزور طبقے کا اہم مسئلہ ہے۔ ہم نے فیصلہ قانون اور آئین کے مطابق کرنا ہوتا ہے، جلد انصاف کی فراہمی اولین ترجیح ہے، فیصلوں میں تاخیر کی بڑی وجہ گواہان کا پیشی پر نہ آنا ہے، مسائل کی نشاندہی کے بعد حل نکالنا ہے۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ پہلے بھی کہا عدالتی نظام کمزور شخص کے لیے بنایا گیا ہے، کئی مقدمات میں فیصلے ہونے تک 2 نسلیں گزرجاتی ہیں، پورے پنجاب میں وڈیولنک کے ذریعےکارروائی کی منظوری دی، اس فیصلے سے لوگوں کو جلد اور سستا انصاف مہیا کرنے میں مدد ملے گی۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان نے مزید کہا کہ ساتھی ججز کے ساتھ غور کیا کہ انصاف کی جلد فراہمی کے لیے مزید کیا اقدامات کرسکتے ہیں، ہم نے دیگر ممالک کے نظام انصاف کا بھی جائزہ لیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشری بغیر کسی ڈر اور خوف کے فرائض انجام دے رہی ہے،ہمارے پاس شکایات آتی ہیں کہ عدلیہ میں مداخلت کی جا رہی ہے۔ مداخلت کا آغاز مولوی تمیزالدین کیس سے ہوا، کسی بلیک میلنگ کا شکار نہیں ہونا، کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا، جوڈیشری میں مداخلت کا جلد اختتام ہوگا، 2،3 دن پہلے ایک جج کی شکایت میرے پاس آئی، سارے واقعات بتائے، مداخلت کرنے والے اداروں کا نام لینا مناسب نہیں، عدلیہ میں مداخلت میں مختلف ادارے ملوث ہیں۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے کہا کہ چیف جسٹس بنتے ہی فل کورٹ میٹنگ بلائی، اس میں فیصلہ کیا کہ ہڑتال کلچر برداشت نہیں ہوگا، 13 مئی 2024 کو پنجاب کی عدلیہ کو سرکلر جاری کیا، بتایا کہ ہڑتال کی کسی کال کو نہیں مانیں گے، ہڑتال کی کال ہو یا نہیں کام قانون کے مطابق کریں۔
جسٹس ملک شہزاد احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ پنجاب کے تمام وکلاء نے ہڑتال اور تالا بندی کے کلچر کو دفن کر دیا، ملک کے 90 فیصد وکلا اچھے لوگ ہیں، صوبہ پنجاب میں 2 لاکھ سے زائد کیس دائر ہوئے اور فیصلہ تین لاکھ سے زائد کیسسز کا فیصلہ ہوا، اس سے زہر التواء مقدمات میں واضح کمی ہوئی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ وکلاء کا یہ کام نہیں کہ عدالت کو تالا لگائیں، کچھ سیاسی عناصر ہوتے ہیں ان سے درخواست ہے، آپ لوگ وکالت چھوڑ دیں، ہمیں دیں ہم آپ کو بھرتیاں کریں گے، شام کو تالا لگا لیجیے گا۔

نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو حق مہر سمیت طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا،عدالت عالیہ
- 16 hours ago

عوام کو ایک اورجھٹکا، کراچی سمیت ملک بھر کیلئے فی یونٹ بجلی ایک روپے 19 پیسے مہنگی
- a day ago

جنگ کے دوران امریکہ واسرائیل نے یواے ای کی سرزمین ہمارے خلاف استعمال کی،عباس عراقچی
- 14 hours ago

وزیراعظم نے تجارتی عدالتوں کے قیام کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی قائم کردی
- 14 hours ago

آزاد کشمیر میں عام انتخابات کب ہونگے؟ حکومت نے تاریخ کا اعلان کردیا گیا
- 9 hours ago

مومنہ اقبال ہراسانی کیس: لیگی رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے خلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج
- 15 hours ago

خیبرپختونخوا :سیکیورٹی فورسز کی الگ الگ کارروائیاں، 4 خوارج جہنم واصل
- a day ago
.jpg&w=3840&q=75)
خریداروں کیلئے خوشخبری، سونا مسلسل تیسرے روز ہزاروں روپے سستا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟
- 15 hours ago

پنجگور:سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، بھارتی حمایت یافتہ 6 خارجی جہنم واصل
- 15 hours ago

اقوام عالم کی مشترکہ کاوشوں اور موثر باہمی تعاون سے ہی ماحول دوست مستقبل کو یقینی بنایا جا سکتا ہے،شہباز شریف
- 14 hours ago

ایران سے معاہد ہ کیے بنا بھی افزودہ یورینیم حاصل کیا جا سکتا ہے،ڈونلڈ ٹرمپ
- 15 hours ago

وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکس ٹیکس اسکیم لانے کا اعلان کر دیا
- 12 hours ago


.webp&w=3840&q=75)


