جی این این سوشل

پاکستان

چیف جسٹس کے سامنے قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے، عمران خان

چیف جسٹس کو پیغام ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کروائیں، بانی چیئرمین پی ٹی آئی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

چیف جسٹس کے سامنے قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے، عمران خان
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

سابق وزیر اعظم و بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس کے سامنے قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے،ہمارا پارٹی دفتر توڑ دیا گیا ہے، چیف جسٹس کو پیغام ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کروائیں۔

اڈیالہ جیل میں 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے کہا کہ بجٹ کے مطابق ہم نے 13ہزار ارب کا ریونیو اکٹھا کرنا ہے،جس میں سے 9ہزار800 ارب قرض کا سود ادا کرنا ہے، بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لئے ہمیں ساڑھے 7ہزار ارب کا قرض لینا پڑے گا،پاکستان تو ڈوب چکا ہے، یہ ملک صرف سرمایہ کاری سے بچے گا،جو قانونی کی حکمرانی سے ہی آئے گی، 50سال میں سب سے کم سرمایہ کاری اس سال آئی- ملک کامستقبل اندھیرے میں چلا گیا یے،تنخواہ دار طبقہ پر ٹیکس کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے۔

بانی پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ سرگودھا کے جج نے لاہور ہائی کورٹ کو بتایا کہ کیسے خفیہ ادارے نے اس پر دباؤ ڈالا، اس جج کے گھر کی گیس کاٹ دی گئی، پی ٹی آئی کے جو جج ہیں ان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے جو جج ہمیں انصاف دینے لگتا ہے اسے پریشرائز کیا جاتا ہے، جو صحافی پی ٹی آئی کے حق میں بولتا ہے اسے پکڑ لیا جاتا ہے، رؤف حسن پر حملہ کرکے اس کا منہ کاٹ دیا گیا، علی زمان پر تشدد کیا گیا، اس سب میں معاملات میں خفیہ ادارہ شامل ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے فوجی اور پولیس والے ہر روز شہید ہورہے ہیں، آئی ایس آئی کا کام ہمیں تحفظ دینا ہے لیکن اسے پی ٹی آئی کو ختم کرنے پر لگادیا گیا ہے، چیف جسٹس کو پیغام ہے کہ وہ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم کروائیں، چیف جسٹس کے سامنے قانونی کی حکمرانی میں مداخلت ہو رہی ہے، ہمارا پارٹی دفتر توڑ دیا گیا ہے،ان کا کہنا تھا کہ قوم سرگودھا کے ایک جج، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چھ ججز اور سپریم کورٹ کے 3 ججز کو سلام پیش کرتی ہے۔

بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ ملک کا مستقبل اندھیرے میں چلا گیا ہے، تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا اضافی بوجھ بھی ڈال دیا گیا ہے، حکومت سے کیا مذاکرات کریں ان کے پاس تو اختیار ہی نہیں،مذاکرات کے معاملے پر غلط بیانی نہ کی جائے کہ ہم مذاکرات نہیں چاہتے، جب فیصلے اوپر سے بڑے صاحب کریں گے تو پھر ان سے مذاکرات کا کیا فائدہ؟ جسٹس بندیال کے کہنے پر پی ڈی ایم سے مذاکرات کیے تو کہا گیا بڑے صاحب نے فیصلہ کیا ہے جب تک بندیال ہے الیکشن نہیں ہوں گے، سیاست دان ہمیشہ مذاکرات میں ہی جاتا ہے ہم نے مشرف دور میں بھی اس کے نمائندے سے مذاکرات کیے لیکن حکومت سے نہیں کیے۔

عمران  خان نے کہا کہ پارٹی کو پیغام ہے کہ گروپنگ ختم کرکے اکھٹی ہوجائے، یہ پاکستان کی زندگی و موت کا فیصلہ ہے، اب پارٹی میں جو گروپنگ کرے گا اسے نہیں چھوڑوں گا اس کے خلاف سخت الیکشن لوں گا۔

 

دنیا

چین نے  امریکا کیساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیئے

چین نے مذاکرات کی تعطل کی وجہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو قرار دیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

چین نے  امریکا کیساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیئے

چین نے امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ سے متعلق مذاکرات روک دیے ہیں۔

چین نے مذاکرات کی تعطل کی وجہ امریکا کی جانب سے تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت کو قرار دیا ہے۔ چین تائیوان کو اپنا صوبہ سمجھتا ہے اور اسے ہتھیاروں کی فروخت کو اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھتا ہے۔

امریکہ کا کہنا ہے کہ تائیوان کو ہتھیاروں کی فروخت اس کے خود دفاع کے حق کے تحت ہے۔ امریکہ تائیوان کے ساتھ غیر رسمی تعلقات رکھتا ہے اور اسے چین سے الگ ایک آزاد جزیرہ سمجھتا ہے۔

مذاکرات کی تعطل کا دونوں ممالک کے درمیان تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ چین نے پہلے ہی تائیوان کے خلاف فوجی مشقیں تیز کر دی ہیں اور اس نے امریکا کو تائیوان کو مزید ہتھیار نہ بیچنے کی وارننگ دی ہے۔

مذاکرات کی تعطل کا وسیع پیمانے پر جوہری عدم پھیلاؤ پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ امریکہ اور چین دنیا کے دو بڑے جوہری ہتھیاروں کے حامل ممالک ہیں۔ ان دونوں ممالک کے درمیان جوہری ہتھیاروں کے کنٹرول اور عدم پھیلاؤ پر تعاون دنیا بھر میں جوہری سلامتی کے لیے ضروری ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ واضح نہیں ہے کہ مذاکرات کب دوبارہ شروع ہوں گے۔ دونوں ممالک کو اپنے اختلافات کو حل کرنے اور بات چیت کے لیے واپس آنے کا ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہوگی۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں

بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی قید کے دوران ملاقاتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں، عمران خان نے ستمبر 2023ء سے جولائی 2024ء تک کل 1635 افراد سے ملاقاتیں کیں۔

اڈیالہ جیل سے جاری اعداد و شمار کے مطابق بانی پی ٹی آئی سے کمرہ ملاقات میں 454 ملاقاتیں ہوئیں، ملاقاتوں میں 88 وکلاء، 223 سیاسی دوست، 119 فیملی اور 14 اسپیشل ڈاکٹر شامل ہیں۔

جیل ذرائع کے مطابق اڈیالہ میں قائم عدالت میں بانی پی ٹی آئی سے 1181 ملاقاتیں ہوئیں جن میں وکلاء سے 591، فیملی سے 273 اور 317 میڈیا نمائندوں سے ملاقاتیں ہوئیں۔

رپورٹس کے مطابق بانی چیئرمین نے اپنے بیٹوں سے واٹس ایپ پر 13 بار بات کی، ان ملاقاتوں کا سلسلہ ابھی بھی جاری ہے۔
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
  
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

جیل ذرائع کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی واٹس ایپ کے ذریعے بیٹوں سے 13 کالز کرائی گئیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

توشہ خانہ کیس، عمران خان اور بشریٰ بی بی کا  گرفتاری کے خلاف عدالت سے رجوع

بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ کیس میں گرفتاری کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ بیرسٹر سلمان صفدر اور خالد یوسف چوہدری کے ذریعے درخواست دائر کی گئی ہے۔

درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو سیاسی انتقام کے لیے جعلی مقدمات میں بغیر جواز گرفتار کیا گیا، سیاسی مخالف وفاقی اور پنجاب حکومت بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو زیر حراست رکھنا چاہتے ہیں۔

دونوں ملزمان کو طلبی کے نوٹسز کے خلاف درخواستیں زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتار کیا گیا، اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست زیر سماعت ہونے کے دوران گرفتاری بدنیتی کا ثبوت ہے۔

درخواست گزاروں کے مطابق سیاسی مخالفین نیب کو مسلسل سیاسی انتقام کے لیے استعمال کر رہے ہیں، اعلیٰ عدالتیں اپنے فیصلوں میں زور دے چکیں کہ محض مقدمہ درج ہونے پر گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

استدعا کی گئی کہ گرفتاری غیر قانونی ہے رہا کرنے کے احکامات کیے جائیں اور آئندہ کسی بھی مقدمے میں گرفتاری ہائیکورٹ کے احکامات سے مشروط کی جائے۔
 

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll