جی این این سوشل

دنیا

ایران کیخلاف پروپیگنڈے کا الزام: نوبل انعام یافتہ خاتون کو ایک سال قید کی سزا

سزا سنائے جانے کی ایک وجہ نرگس محمدی کی طرف سے پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم چلانا بھی ہے، وکیل نرگس محمدی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایران کیخلاف پروپیگنڈے کا الزام: نوبل انعام یافتہ خاتون کو ایک سال قید کی سزا
ایران کیخلاف پروپیگنڈے کا الزام: نوبل انعام یافتہ خاتون کو ایک سال قید کی سزا

ایرانی عدالت نے اسلامی حجاب کے خواتین کیلئے لازمی ہونے کیخلاف مہم اور ایرانی ریاست کیخلاف پروپیگنڈے کے الزام میں نوبل انعام یافتہ خاتون نرگس محمدی کو ایک سال کی قید کی سزا سنا دی۔

نرگس محمد کے وکیل مصطفیٰ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا ہے کہ ایرانی نظام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کی وجہ سے نرگس کو ایک سال کی سزا ہوئی ہے۔

وکیل کے مطابق سزا سنائے جانے کی ایک وجہ نرگس محمدی کی طرف سے پارلیمانی انتخابات کے بائیکاٹ کی مہم چلانا بھی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں سویڈن اور ناروے کے قانون سازوں کو خط بھی لکھے تھے۔

انسانی حقوق گروپ کا کہنا ہےکہ غالیباف صحافی اور طالبعلم ہیں، جنہوں نے اس حوالے سے تبصرہ کیا تھا۔ جنہیں سکیورٹی فورسز کے خلاف سوشل میڈیا پر الزامات لگانے کی وجہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ غالیباف کو رہا کیا جا چکا ہے۔

عدالتی ویب سائٹ نے اپریل 2022 کو لکھا تھا کہ غالیباف کا زیادتی کا الزام غلط ہے اور ان کے خلاف غلط الزام لگانے کا مقدمہ چلایا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نوبل انعام یافتہ خاتون نرگس محمدی نومبر 2021 سے جیل میں قید ہیں۔ وہ خواتین میں سے حجاب کے معاملے میں بڑی سزا پانے والی پہلی ایرانی خاتون ہیں۔

موسم

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ جاری

شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش جاری ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ جاری

کراچی کے مختلف علاقوں میں بادلوں کے برسنے کا سلسلہ ایک بار پھر شروع ہوگیا، شہر کے مختلف علاقوں میں کہیں ہلکی اور کہیں تیز بارش جاری ہے۔

محکمہ موسمیات کی جانب سے آج بھی کراچی میں ہلکی اور تیز بارش کی پیشگوئی کی گئی تھی۔ بارش کا یہ سلسلہ شہر کے مختلف علاقوں میں ریکارڈ کیا گیا، کہیں تیز اور کہیں ہلکی بارش نے گرمی کا زور توڑ دیا۔

شہر کے علاقوں لانڈھی، کورنگی، شاہ فیصل، ملیر، ائیرپورٹ، سہراب گوٹھ، صفورا چورنگی، گلشن اقبال، یونیورسٹی روڈ اور گلستان جوہر سمیت ملحقہ علاقوں میں بارش ریکارڈ کی گئی، اس کے علاوہ شارع فیصل، سرجانی ٹاؤن اور ایف بی ایریا میں بھی بادل برسے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بارش برسانے والے بادل ضلع غربی اور وسطی میں پھیل سکتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

تجارت

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے جبکہ سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے  750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ میں نے ڈیٹا شیئر کرکے چالیس خاندانوں کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان سے ملک کو بچایا جائے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پاور پلانٹس 20 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہے ہیں، ان آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہے اور بقایا 160 ارب روپے کی تصدیق ہورہی ہے، حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 150 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد سے کم ہے۔

سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 140 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد ہے، ایک ایسے پاور پلانٹ کو 120 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہا ہے، حکومت 22 فیصد لوڈ پر چلنے والے پلانٹ کو 100 ارب روپے ادا کررہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، حل صرف ایک ہی ہے" نو کپیسٹی پیمنٹس"، آئی پی پیز کو صرف بجلی کے پیداوار کی رقم ادا کی جائے، آئی پی پیز کے ساتھ بھی دیگر کاروبار کی طرح سلوک کیا جائے۔

گوہر اعجازکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت کے اور 28 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ، ہم 60 روپے فی یونٹ ان کرپٹ معاہدوں کی وجہ سے ادا کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

 جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

 عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے، وزیراعظم

وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عوام کی ترقی، صحت اور تعلیم پر کبھی سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

اسلام آباد جناح میڈیکل کمپلیکس کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہم سب کو اللہ کے حضور سجدہ شکر بجالانا چاہیے، اسلام آباد میں آج جناح میڈیکل سینٹر کا سنگ بنیاد رکھا ہے، یہ منصوبہ نوازشریف کی مخلوط حکومت کا تحفہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹرکی سہولیات سےدیگرعلاقوں کےلوگ بھی مستفیدہوں گے، یہ منصوبہ صرف اسلام آباد اور راولپنڈی کےلیے نہیں ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر میں نرسنگ اسکول اور لیبارٹریز بنیں گی، غریب کا علاج 100 فیصد ہوگام، غریب کاحق ہےکہ صحت اورتعلیم کی سہولت ان کی دہلیز پر دی جائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا کی جدید ترین سہولیتیں اس ہسپتال میں ہوں گی، عوام کی ترقی کے معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔

شہباز شریف نے کہا کہ جناح میڈیکل سینٹر موذی امراض کا سینٹر ہے، جب سے ہماری حکومت آئی پہلے دن سے اس پر کام شروع کیا، چیئرمین حبیب بینک،پرنس رحیم آغا خان کے صاحبزادے نے تمام تکنیکی معاونت دی ہے، امریکا میں ان کے کنسلٹنٹ سے میٹنگ ہوئی جنہوں نے آغا خان ہسپتال بنایا، پرنس رحیم آغا خان کی پاکستان سے والہانہ محبت ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ آغا خان فاؤنڈیشن نے کنسلٹنسی مفت دی ہے، اس ہسپتال کیلئے 600کنال زمین مختص کی گئی ہے، یہ وہی ماڈل ہے جس کا پورے پاکستان میں میرے قائد نوازشریف نے اجرا کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اشرافیہ اور صاحب حیثیت کو اللہ نے جائز حلال وسائل دیئے ہیں، اشرافیہ اور صاحب حیثیت دنیا میں کہیں سے بھی علاج کراسکتے ہیں، غریب آدمی علاج کیلئے کہاں جائے گا؟ ہم نے سرکاری ہسپتالوں میں مفت سٹی سکین مشینیں لگائیں، ہم نے لیبارٹری ٹیسٹ پر بھی 10روپے فیس رکھی۔

شہباز شریف نے کہا کہ غریب آدمی کا حق ہے کہ اس کی دہلیز پر تعلیم اور علاج مفت پہنچایا جائے، ایک منصف نے سازش کرکے پی کے ایل آئی کو تباہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، پی کے ایل آئی بننے سے پہلے مریض جگر کے علاج کیلئے ہندوستان جاتے تھے، گردے کی پیوند کاری کیلئے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، آج پی کے ایل آئی میں گردے کے امراض میں مبتلا مریضوں کا مفت علاج ہوتا ہے، اب یہاں جناح میڈیکل سینٹرمیں مفت علاج ہوگا۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 2011آپ کو یاد ہوگا 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، میں نے کہا تھا اندھیرے ختم کردیں گے ،اس بات پر بہت مذاق اڑایا گیا، نوازشریف کی قیادت میں 2013سے18تک ملک میں 20،20گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ میں نے منصوبے کی تعمیر کے ذمہ داروں کو کہا ہے مجھے یہ جناح میڈیکل سینٹرایک سال میں مکمل چاہیے، ایک سال بڑا چیلنجنگ ٹائم ہے، یہاں پر 24گھنٹے دن رات کام ہوگا، کل پاکستان کے شاندار آئی ٹی پارک کے دورے پر گیا تھا، ہدایت کی ہے آئی ٹی پارک کو ایک سال میں مکمل کریں، اس ہسپتال کیلئے جتنے وسائل چاہئیں ہم مہیا کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll