جی این این سوشل

دنیا

ایام تشریق کا اختتام، 20 جون سے حجاج کرام کی واپسی شروع

مناسک حج کی ادائیگی کے آخری دن بیشتر حجاج کرام تینوں جمرات کی رمی کے بعد منیٰ سے رخصت ہو کر مکہ مکرمہ پہنچنے لگے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

ایام تشریق کا اختتام، 20 جون سے حجاج کرام کی واپسی شروع
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ایام تشریق کا اختتام ہوگیا جس کے بعد حجاج کرام کی واپسی 20 جون سے ہونا شروع ہو جائے گی۔

مناسک حج کی ادائیگی کے آخری دن بیشتر حجاج کرام تینوں جمرات کی رمی کے بعد منیٰ سے رخصت ہو کر مکہ مکرمہ پہنچنے لگے ہیں۔

مقامی حجاج نے جدہ، مکہ مکرمہ، طائف، مدینہ منورہ، ریاض اور دیگر شہروں کی طرف روانگی شروع کردی۔

منیٰ سے مکہ مکرمہ اپنی رہائش گاہ واپسی کے بعد حجاج اب مدینہ منورہ جائیں گے، مسجد نبوی میں نمازیں ادا کریں گے اور روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حاضری دیں گے۔

حجاج مسجد قباء، مسجد قبلتیں، سباء مساجد اور مقدس مقامات کی زیارت بھی کریں گے، تقریباً 20 فیصد حجاج منیٰ میں قیام کریں گے اور رمی کے بعد اپنی رہائش گاہوں کی جانب روانہ ہوں گے۔

پاکستان

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کیلئے 40 ہزار امید وار اسلام آباد میں موجود

اسلام آباد : اسلام آباد پولیس میں بھرتیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔ 

تفصیلات کے مطابق 40 ہزار سے زائد امید وار اس وقت اسلام آباد پولیس کا ٹیسٹ دینے اسلام آباد موجود ہیں ۔ 

اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ میدواروں کیلئے ایمبولینسز اور ڈاکٹرز کی سہولت بھی موجود ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے نمٹا جا سکے ۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے، اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، ملک احمد بھچر

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد بھچر نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی ملک کی سب سے بڑی جماعت ہے اس پر پابندی نہیں لگائی جا سکتی، آرٹیکل 6 لگا کر دیکھیں، حکومت کو دن میں تارے نظر آ جائیں گے۔

لاہور پریس کلب میں  پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما سنی اتحاد کونسل ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں۔ آپ ہمارے بندوں اور لیڈر کو ناجائز مقدمات میں گرفتار کرتے ہیں، آپ خود 18کروڑ کی گاڑیاں لے رہے ہیں،اسپیکر پنجاب اسمبلی نے 28 جون کو اپوزیشن کے چیمبر کو تالہ لگا دیا۔

ملک احمد بھچر نے کہا کہ سپیکر صاحب آپ اپنے ناجائز اختیارات کا بھرپور استعمال کررہے ہیں، آپ کسی کی خوشی کیلئے اپنی شخصیت کو کیوں داغدار کررہے ہیں، انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔ پیکا ایکٹ ک تحت سائبر عدالتیں قائم کی جا رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا کوئی ایم پی اے ٹی اے ڈی اے لینے نہیں گیا، آپ پچھلی تمام حاضریاں نکلوائیں، ہمارے 11اراکین اسمبلی کو بغیر نوٹس معطل کردیا گیا، ہماری جمہوری جماعت ہے اپنی ٹیم کے بغیر نہیں چل سکتا۔ آمریت جیسی حکومت چل رہی ہے۔ یہ جتنے بھی مقدمات بنا رہے ہیں ان کے تابوت میں آخری کیل ہو گا۔

اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ ہم اپنی اور ایم پی ایز کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا اختیار رکھتے ہیں، ہم عدالتوں کے دروازے پر دستک دیں گے۔ 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے، جرمن سفیر


لاہور:  جرمن سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے پاکستان اور جرمنی کے مابین دوطرفہ تجارت میں توسیع، ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور تجارت اور سرمایہ کاری کے آپشنز کی نشاندہی کے لیے کاروباری وفود کے دوطرفہ تبادلے پر زور دیا ہے۔

انہوں نے بدھ کو آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) لاہور کے دفتر کے دورے کے دوران کیا ہے۔ ان کے ساتھ جنین روہور، فرسٹ سیکرٹری اکنامک اینڈ پولیٹیکل اور ڈاکٹر سیبسٹین پاسٹ، ہیڈ آف ڈیولپمنٹ کوآپریشن بھی تھیں۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے ایسوسی ایشن کے دیگر سینئر ممبران کے ہمراہ ان کا استقبال کیا۔

جرمن سفیرنے کہا کہ حکومت پاکستان کو جی ایس پی پلس کی تعمیل کو یقینی بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی برآمد کنندگان کو جرمنی میں سپلائی چین کے ضوابط کو سمجھنے کی بھی ضرورت ہے تاکہ برآمدات میں اضافہ ہو۔ان کے مطابق جرمن ترقیاتی تعاون پاکستان میں ایک ہیلپ ڈیسک قائم کرے گا۔ اپٹما نارتھ کے چیئرمین کامران ارشد نے مکمل لاجسٹک سپورٹ کے ساتھ اپٹما لاہور کے احاطے کی پیشکش کی۔ جرمنی کے ویزوں کے اجراء میں تاخیر کے حوالے سے سفیر نے کاروباری ویزوں کے حصول کے طریقہ کار کی تفصیل سے وضاحت کی ۔

انہوں نے یقین دلایا کہ اگر درخواست دہندگان کی طرف سے مقررہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے تو کاروباری مقاصد کے لیے ویزے دو ہفتے کے وقت کے ساتھ جاری کیے جائیں گے۔

قبل ازیں اپنے خطبہ استقبالیہ میں چیئرمین اپٹما نے کہا کہ یورپی یونین کی جانب سے جی ایس پی پلس میں مزید 10 سال کی توسیع سے پاکستان کو معاشی طور پر بہت زیادہ فوائد حاصل ہوں گے اور انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات، گڈ گورننس اور شفافیت وغیرہ میں بہتری آئے گی۔

انہوں پاکستان اور جرمنی کے درمیان 45 ملین یورو کے تکنیکی تعاون کے معاہدے کو دوطرفہ تجارت بڑھانے پر توجہ دینی چاہیے۔ انہوں نے ٹیکسٹائل کے شعبوں میں باہمی استعداد کار بڑھانے اور یورپی یونین کے نئے ڈیجیٹل پروڈکٹ پاسپورٹ کی ضروریات کے بارے میں تربیت کی ضرورت پر بھی زور دیا۔انہوں نے اپٹما کے اراکین کو ویزوں کے فوری اجراء کے لیے ایک طریقہ کار تیار کرنے پر بھی زور دیا۔ان کے مطابق،جی ایس پی پلس کی سہولت نے پاکستانی برآمدات تک رسائی کی اجازت دی ہے تاکہ وہ اپنے حریفوں جیسے کہ بنگلہ دیش، سری لنکا وغیرہ سے مقابلہ کر سکیں، جس سے پاکستان یورپی یونین میں اپنی 4 مصنوعات میں سے 78 فیصد ڈیوٹی فری برآمد کرنے کا اہل بناتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سہولت نے 2013 سے 2024 تک یورپی یونین کو پاکستان کی برآمدات میں 73 فیصد اور جرمنی کو 40 فیصد اضافہ کیا ہے۔انہوں نےجرمن سفیر کو بتایا کہ اپٹما کے اراکین جی ایس پی پلس کے 27 کنونشنز کی مکمل پاسداری کر رہے ہیں اور نئے کنونشنز کی تعمیل کے لیے بھی کوششیں کر رہے ہیں۔

ٹیکسٹائل ملوں نے توانائی کے جاری عالمی بحران کے دوران صاف ستھرا ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف کے نفاذ اور جیواشم ایندھن سے دور رہنے کے لیے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعت نے ترجیحی ریشوں جیسے آرگینک، بی سی آئی کاٹن اور ری سائیکل شدہ پالئیےسٹر کے استعمال پر بھی توجہ مرکوز کی ہے اور فضلہ اور پانی کی صفائی کے پلانٹ لگانے، سبز ماحول اور سماجی طور پر ذمہ دار صنعت کو مغربی دنیا کے ساتھ مستقبل میں تعاون کے قابل بنانا ہے۔

اپٹما کے سابق چیئرمین عبدالرحیم ناصر نے جی ایس پی پلس کو پاکستان کے لیے ایک بڑا پلس قرار دیتے ہوئے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے بائیو ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll