جی این این سوشل

پاکستان

پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات آج ہوگی

کراچی میں آج دن 13 گھنٹے 41 منٹ کا ہوگا جب کہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ کی ہوگی

پر شائع ہوا

کی طرف سے

پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات آج  ہوگی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

 آج پاکستان میں سال کا طویل ترین دن اور مختصر ترین رات ہوگی۔ 21 جون کا دن شمالی نصف کرے میں 2024 کا سب سے طویل ترین دن ہے۔

کراچی میں آج دن 13 گھنٹے 41 منٹ کا ہوگا جب کہ رات 10 گھنٹے 19 منٹ کی ہوگی ۔ یکم جولائی کے بعد دن کا دورانیہ بتدریج کم ہونا شروع ہو جاتاہے اور 22 ستمبر کو دن اور رات کا دورانیہ تقریباً برابر ہوجاتا ہے۔

چیف میٹرولوجسٹ سردار سرفراز کے مطابق 22 دسمبر کو سال کا مختصر ترین دن اور رات طویل ترین ہوتی ہے۔ اسلام آباد میں آج دن کا دورانیہ 14 گھنٹے 32 منٹ طویل ہوگا۔ رات 9 گھنٹے 28 منٹ کی ہوگی۔

یہ دن ’سمر سولِسٹِس‘ نامی ایک فلکیاتی وقوعہ ہے جو سال کے طویل ترین دن اور ناردرن ہیمسفیئر (جنوبی نصف کرے) میں موسمِ گرما کے آغاز کی نشان دہی کرتا ہے۔ یہ وقوعہ عموماً 21 جون کو ہی پیش آتا ہے لیکن مختلف ٹائم زون ہونے کی وجہ سے یہ 20 یا 22 جون کو بھی رونما ہوسکتا ہے۔

اس دن خطِ استواء سے اوپر شمالی ہیمسفیئر میں رہنے والی دنیا کی 90 فی صد آبادی سال کا سب سے طویل مدت کا دن اور قلیل مدت کی رات گزارتی ہے۔

’سمر سولسٹِس‘ کے وقوعہ میں سورج آسمان میں اپنے بلند ترین مقام پر ہوتا ہے۔ ایسا سال میں صرف ایک بار ہوتا ہے جس کی وجہ دنیا کے محور کا سورج کے گرد اپنے مدار کی مناسبت سے 23.5 ڈگری کے ذاویے پر جھکا ہوا ہونا ہے۔ اس ہی جھکاؤ کی وجہ سے دنیا کے موسموں میں تبدیلی آتی ہے۔

21 جون سے پہلے اور بعد میں کئی دنوں تک الاسکا، کینیڈا، گرین لینڈ اور اسکینڈینیویا سمیت آرٹک خطے میں رہنے والے لوگ مِڈ نائٹ سن یعنی مسلسل دن کی روشنی میں رہتے ہیں۔

دوسری جانب سدرن ہیمسفیئر(جنوبی نصف کرے) میں 21 جون سال کا سب سے چھوٹا دن ہوتا ہے اور دنیا کی 10 فی صد آبادی جو ارجنٹینا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ میں رہنے والوں کے یہ موسمِ سرما کی ابتداء ہوتی ہے۔

تجارت

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے جبکہ سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے، گوہر اعجاز

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے  750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے، سابق وزیر تجارت

سابق وزیر تجارت گوہر اعجاز نے کہا ہے کہ حکومت آئی پی پیز معاہدوں کی وجہ سے ایک پاور پلانٹ سے 750 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہی ہے۔

گوہر اعجاز کا کہنا ہے کہ میں نے ڈیٹا شیئر کرکے چالیس خاندانوں کے خلاف آواز اٹھائی کہ ان سے ملک کو بچایا جائے، حکومت کول پاور پلانٹس سے اوسطاً 200 روپے فی یونٹ بجلی خرید رہا ہے، سولر اور ونڈ پاور پلانٹس سے فی یونٹ 50 سے زائد میں خریدا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ تمام پاور پلانٹس 20 فیصد سے کم کپیسٹی پر چل رہے ہیں، ان آئی پی پیز کو 1.95 ٹریلین روپے کی ادائیگیاں ہوچکی ہے اور بقایا 160 ارب روپے کی تصدیق ہورہی ہے، حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 150 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد سے کم ہے۔

سابق وزیر تجارت کا کہنا تھا کہ حکومت ایک ایسے پاور پلانٹ کو 140 ارب روپے ادا کررہی ہے جس کا لوڈ فیکٹر 15 فیصد ہے، ایک ایسے پاور پلانٹ کو 120 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 17 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہا ہے، حکومت 22 فیصد لوڈ پر چلنے والے پلانٹ کو 100 ارب روپے ادا کررہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ حکومت تین پاور پلانٹس کو 370 ارب روپے ادا کررہی ہے جو 15 فیصد لوڈ فیکٹر پر چل رہے ہیں، حل صرف ایک ہی ہے" نو کپیسٹی پیمنٹس"، آئی پی پیز کو صرف بجلی کے پیداوار کی رقم ادا کی جائے، آئی پی پیز کے ساتھ بھی دیگر کاروبار کی طرح سلوک کیا جائے۔

گوہر اعجازکا مزید کہنا تھا کہ آئی پی پیز میں 52 فیصد حکومت کے اور 28 فیصد پاکستانی پرائیویٹ سیکٹر کے ہیں ، ہم 60 روپے فی یونٹ ان کرپٹ معاہدوں کی وجہ سے ادا کرتے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

فارغ بیٹھے گورنر توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، مشیر اطلاعات

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

فارغ بیٹھے گورنر  توجہ حاصل کرنے کے لیے ہمارے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں ، بیرسٹر سیف

مشیر اطلاعات  خیبر پختونخواہ بیرسٹر ڈاکٹر سیف کا کہنا ہے کہ فارغ بیٹھا گورنر میڈیا کی توجہ حاصل کرنے کے لیے صوبائی حکومت کے خلاف نفرت انگیز بیانات دے رہے ہیں۔  

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں بیرسٹر سیف کا گورنر کے پی کے فیصل کریم کنڈی کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے میں لاقانونیت اس وقت عروج پر تھی جب وفاق اور یہاں آپ کی پارٹی کی حکومت تھی، آپ کے دور حکومت میں پشاور ٹو ڈی آئی خان سفر کرنا ممکن نہیں تھا۔

میشر اطلاعات نے مزید کہا کہ فارغ گورنر وہ دن بھول گئے جب وہ خود ڈی آئی خان سے پشاور کا سفربراستہ اسلام آباد کرتے تھے، فارغ گورنر عہدہ سنبھالنے کے بعد خیبر پختونخوا میں انوکھے بن بلائے مہمان بن چکے ہیں، گورنر بغیر دعوت تقریبات میں شرکت کرنے سے پہلے اپنا نا صحیح عہدے کا لحاظ تو رکھیں۔ 

انہوں نے مزید کہا گورنر 12 سال تک مسلسل مسترد اور بے روزگار بیٹھنے کے بعد اب مجھے کام بتاؤ میں کیا کروں والا جن بن چکے ہیں، فارغ بیٹھے گورنر کے پاس کرنے کو کام نہیں اس لیے الٹے سیدھے بیانات سے کام ڈھونڈ رہے ہیں، گورنر 3بار علی امین گنڈاپور سمیت تینوں بھائیوں سے شکست خوردہ شخص ہے۔

رہنما پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ جعلی سرکار نے فیصل کریم کنڈی کو صرف اور صرف خیبر پختونخوا میں ترقی کی راہ میں رخنہ ڈالنے کے لئے گورنر کا عہدہ دیا ہے، علی امین گنڈاپور کی سربراہی میں صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے، وزیر اعلی علی امین گنڈاپور انکے فضول باتوں پر کان نہیں دھرتے ہیں۔    

واضح رہے کہ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈا پور کو پی ٹی آئی حکومت کی 10 سالہ کارکردگی پر مناظرے کا چیلنج دیا تھا۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

جو سیاستدان 9 مئی میں ملوث نہیں ان کیخلاف کارروائی مناسب نہیں، گورنر پنجاب

پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ ن لیگ کا اپنا تھا ہم سے اس بارے مشاورت نہیں ہوئی بعد میں ایک میٹنگ ضرور ہوئی تھی

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جو سیاستدان 9 مئی میں ملوث نہیں ان کیخلاف کارروائی مناسب نہیں، گورنر پنجاب

گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خانے کہا کہ پی ٹی آئی میں جو سیاستدان 9 مئی میں ملوث نہیں ان کےخلاف کارروائی مناسب نہیں۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سردار سلیم حیدر خان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف پر پابندی کا فیصلہ ن لیگ کا اپنا تھا ہم سے اس بارے مشاورت نہیں ہوئی بعد میں ایک میٹنگ ضرور ہوئی تھی، پاکستان پیپلز پارٹی پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے پارٹی اجلاس میں مشورہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ پابندی کے معاملے کو پارٹی کے سی ای سی اجلاس میں لیجایا جائے گا، پی ٹی آئی پر پابندی کے حوالے سے فیصلہ پارٹی کے اعلیٰ سطح اجلاس میں ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں ذاتی طور پر سیاسی جماعتوں پر پابندی کو مناسب نہیں سمجھتا، پی ٹی آئی کو دو حصوں میں رکھ کر سوچیں ایک 9 مئی والے دوسرے محب وطن سیاستدان ہیں، 9 مئی میں ملوث افراد پر کیسز چلا کر اگر وہ ذمہ دار ہوں تو سزائیں دیں۔

گورنر پنجاب نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی میں جو سیاستدان 9 مئی میں ملوث نہیں ان کے خلاف کارروائی مناسب نہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll