جی این این سوشل

دنیا

جنوبی کوریا فیکٹری میں آتشزدگی سے 22 افراد ہلاک

مقامی فائر آفیشل کم جن ینگ نے ٹیلی ویژن پر بریفنگ میں بتایا کہ سیئول کے بالکل جنوب میں واقع ہواسیونگ شہر میں واقع فیکٹری میں ریسکیو کارکنوں نے جائے وقوع کو تلاش کرنے کے بعد لاشوں کو نکال لیا

پر شائع ہوا

کی طرف سے

جنوبی کوریا فیکٹری میں آتشزدگی سے 22 افراد ہلاک
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

جنوبی کوریا کے دارالحکومت کے قریب لیتھیم بیٹری بنانے والی فیکٹری میں آگ لگنے سے کم از کم 22 افراد ہلاک ہو گئے ہیں ، 7 زخمی اور6 لاپتہ ہو گئے۔

مقامی فائر آفیشل کم جن ینگ نے ٹیلی ویژن پر بریفنگ میں بتایا کہ سیئول کے بالکل جنوب میں واقع ہواسیونگ شہر میں واقع فیکٹری میں ریسکیو کارکنوں نے جائے وقوع کو تلاش کرنے کے بعد لاشوں کو نکال لیا۔

کِم نے پہلے کہا تھا کہ لاپتہ ہونے والے زیادہ تر غیر ملکی شہری تھے جن میں چینی بھی شامل تھے۔ انہوں نے کہا کہ لاپتہ افراد کے موبائل فون سگنلز کو فیکٹری کی دوسری منزل تک ٹریک کیا گیا تھا۔ ایک عینی شاہد نے حکام کو بتایا کہ آگ بیٹریوں کے پھٹنے کے بعد شروع ہوئی جب کارکنان ان کی جانچ اور پیکنگ کر رہے تھے، لیکن اصل وجہ اب تک سامنے نہیں آسکی ہے جس کیلئے تحقیقات جاری ہیں۔ 
کم جن ینگ نے کہا کہ مردہ پائے جانے والے ممکنہ طور پر زمین پر سیڑھیوں کے ذریعے بھاگنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ حکام اس بات کی تحقیقات کریں گے کہ آیا آگ بجھانے کے نظام نے کام کیا یا نہیں۔ کم نے بتایا کہ آگ لگنے سے پہلے فیکٹری میں کل۱۰۲؍ لوگ کام کر رہے تھے۔ ان کے دفتر کے مطابق، صدر یون سک یول نے قبل ازیں حکام کو زندہ بچ جانے والوں کی تلاش کیلئے تمام دستیاب اہلکاروں اور آلات کو متحرک کرنے کا حکم دیا تھا۔

پاکستان

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا، مقبول باقر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی

سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم کے بعد جسٹس (ر) مقبول باقر نے بھی ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی۔

سابق نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا تھا کہ ذاتی مصروفیات کی وجہ سے ایڈہاک جج کا عہدہ قبول نہیں کرسکتا۔ ایڈہاک جج بننا قانونی عمل ہے اس میں کوئی عیب نہیں۔

واضح رہے کہ 16 جولائی کو سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس مشیر عالم نے ایڈہاک جج بننے سے معذرت کرلی، اپنے فیصلے سے جوڈیشل کمیشن کو خط لکھ کر آگاہ کردیا۔

سابق جسٹس مشیر عالم نے جوڈیشل کمیشن کے نام خط میں لکھا تھا کہ اللہ نے انھیں ان کی حیثیت سے زیادہ عزت دی ہے، ایڈہاک جج کی نامزدگی کے بعد سوشل میڈیا پر جو مہم شروع کی گئی، اس سے شدید مایوسی ہوئی ہے۔ وہ موجودہ حالات میں بطور ایڈہاک جج کام کرنے سے معذرت چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے 4 ریٹائرڈ ججز کے نام تجویز کیے تھے، ان ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مشیر عالم کا نام بھی شامل تھا، دیگر ججز میں جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ، جسٹس ریٹائرڈ مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس ریٹائرڈ طارق مسعود کے نام شامل ہیں۔

چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ میں ایڈہاک ججز کی تقرری کے لیے جوڈیشل کمیشن کا اجلاس 19 جولائی کو طلب کر رکھا ہے۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا عدالت جانے کا فیصلہ

ہمیں سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا، ممبران کا موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران کا  عدالت جانے کا فیصلہ

پارلیمنٹ میں مخصوص نشستوں پر حلف لینے والے ممبران نے ذاتی طور پر عدالت جانے کا فیصلہ کرلیا۔ اس سے قبل ان ممبرانِ قومی و صوبائی اسمبلی کو حلف لینے کے بعد سپریم کورٹ نے معطل کردیا تھا۔

مخصوص نشستوں پر منتخب نمائندے،  جنہوں نے مسلم لیگ ن، پی پی پی، ایم کیو ایم-پی، جے یو آئی-ایف اور دوسری جماعتوں کی سفارشات پر حلف اٹھایا تھا اور اب سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے کی وجہ سے انہیں نکالے جانے کا سامنا ہے، نے اس کے خلاف اپیلٹ کورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ 

یہ ممبران علیحدہ علیحدہ سپریم کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کریں گے جس میں ممبران موقف اپنائیں گے کہ ان کو سنے بغیر ان کے خلاف فیصلہ دیا گیا۔ ان ممبران نے رٹ پٹیشن کے مندرجات پر مشاورت مکمل کرلی ہے اور ان اراکین کو رٹ پٹیشن دائر کرنے کا حکم سیاسی پارٹیوں نے دیا۔

بظاہر ممبران ذاتی طور پر رٹ دائر کریں گے لیکن پارٹیوں کی در پردہ حمایت حاصل ہوگی، یہ رٹ پٹیشن آئندہ ہفتے سپریم کورٹ میں دائر کیے جانے کا امکان ہے۔

واضح رہے کہ 12 جولائی کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق درخواست پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے پشاور ہائیکورٹ اور الیکشن کمیشن کا فیصلہ کالعدم قرار دیا تھا اور مخصوص نشستیں پی ٹی آئی کو دینے کا حکم دیا گیا تھا۔

 

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

مہاتیر محمد کی ایک بار پھر طبیعت بگڑ گئی ، ہسپتال منتقل

ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم کو سینے میں تکلیف اور مسلسل کھانسی کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

مہاتیر محمد کی ایک بار پھر طبیعت بگڑ گئی ، ہسپتال  منتقل

ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم مہاتیر محمد کی ایک بار پھر طبیعت بگڑ گئی اور انھیں اسپتال میں داخل کیا گیا ہے وہ چند برسوں سے دل کے مرض میں مبتلا ہیں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کو سینے میں تکلیف اور مسلسل کھانسی کی وجہ سے اسپتال میں داخل کیا گیا۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم ابھی چند روز تک زیر علاج رہیں گے۔ 

99 سالہ مہاتیر محمد دل کے مرض میں مبتلا ہیں اور حال ہی میں ان کا بائی پاس بھی ہوا ہے اور وہ سال کے آغاز میں تین ماہ تک اسپتال میں زیرعلاج رہے تھے۔

مہاتیر محمد کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر سُن کر لوگوں کی بڑی تعداد اسپتال کے باہر جمع ہوگئی۔ ملکی و غیر ملکی رہنماؤں نے بھی دعائے صحت کی ہے۔

واضح رہے کہ مہاتیر محمد پہلی بار 16 جولائی 1981 سے 31 اکتوبر 2003 اور پھر 10 مئی 2018 سے 24 فروری 2020 تک ملک کے وزیراعظم رہے ہیں اور ان کے پہلے دور میں ملائیشیا نے ریکارڈ معاشی ترقی کی تھی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll