جی این این سوشل

پاکستان

محرم الحرام کے دوران  قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے:محسن نقوی

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سے داودی بوہرہ برادری کے سربراہ سیدنا مفضل سیف الدین کی ملاقات

پر شائع ہوا

کی طرف سے

محرم الحرام کے دوران  قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے:محسن نقوی
محرم الحرام کے دوران  قیام امن کیلئے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے:محسن نقوی

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ محرم الحرام کے دوران قیام امن کیلئے تمام صوبوں کے ساتھ ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے کراچی میں برہانی محل اور شاہ شہیدان امام بارگاہ کا دورہ کیا اور برہانی محل میں داودی بوہرہ برادری کے سربراہ سیدنا مفضل سیف الدین سے ملاقات کی۔اس موقع پر سیدنا مفضل سیف الدین کے صاحبزادے شاہزادہ حسین برہان الدین بھی موجود تھے۔

وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سیدنا مفضل سیف الدین کے لئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آمد پر آپ کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہاہے کہ آپ کی آمد ہمارے لئے باعث افتخار ہے، آپ سے عقیدت و احترام کا رشتہ ہے جو ہمیشہ قائم و دائم رہے گا، داودی بوہرہ برادری امن پسند اور محبت کرنے والی کمیونٹی ہے۔

وزیرداخلہ محسن نقوی نے سولجر بازار میں شاہ شہیدان امام بارگاہ میں انتظامات کا جائزہ لیا اور سکیورٹی انتظامات کا معائنہ کیا۔

اس موقع پر سیدنا مفضل سیف الدین نے داودی بوہرہ کمیونٹی سے متعلق امور کے فوری حل پر وزیرداخلہ محسن نقوی کا شکریہ ادا کیا اور خوبصورت چادر اور تبرکات کا تحفہ دیا۔

شاہ شہیدان امام بارگاہ کے دورہ کے موقع پر وزیرداخلہ محسن نقوی کی مولانا آیت اللہ عقیل الغربی اور سابق نگران وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سے ملاقات ہوئی۔

دنیا

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے، امریکی صدر

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردارہوا ہوں، جو بائیڈن

امریکی صدر جو بائیڈن نے گزشتہ روز اوول آفس میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ وہ ملک کو متحد کرنے کے لیے 2024 کے انتخابات سے دستبردار ہوئے، جب کہ اب مشعل ’نوجوان آوازوں‘ تک پہنچانے کا وقت آگیا ہے۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے۔

غیر ملکی خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق 81 سالہ امریکی صدر نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے اس دفتر کا بے حد احترام ہے لیکن میں اپنے ملک سے زیادہ پیار کرتا ہوں، انہوں نے عوام پر زور دیا کہ عوام جمہوریت کو اپنائیں اور نفرت سے بچیں۔ میرے لیے جمہوریت کسی بھی عہدے سے زیادہ اہم ہے جو اس وقت داؤ پر لگی ہوئی ہے، لہذا میں نے فیصلہ کیا کہ آگے بڑھنے کا یہی بہترین طریقہ ہے کہ مشعل کو نئی نسل کے حوالے کیا جائے اور یہی قوم کو متحد کرنے کا بہترین طریقہ ہے۔

یاد رہے کہ ڈیموکریٹس رہنماؤں کی جانب سے شدید دباؤ کے بعد امریکی صدر جوبائیڈن نے 21 جولائی کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے مقابلے میں صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوگئے تھے۔

 بائیڈن نے کہا ’وہ بطور امیدوار دستبردار ہورہے ہیں لیکن جنوری 2025 میں اپنی مدت ختم ہونے تک صدر اور کمانڈر ان چیف کے طور پر کام کرتے رہیں گے۔

انتخاب سے دستبرداری کے اعلان کے بعد قوم سے اپنے پہلے ٹیلی ویژن خطاب میں امریکی صدر نے اپنی نائب 59 سالہ کاملا ہیریس کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ کاملا ہیرس تجربہ کار ہونے کے ساتھ قابل بھی ہیں۔

ایک سروے کے مطابق ڈیموکریٹک کی نئی صدارتی امیدوار اور نائب صدر کاملا ہیرس کو ری پبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ پر 2 پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔

خیال رہے کہ جوبائیڈن امریکی تاریخ کے کسی بھی دوسرے صدر کے مقابلے میں بعد میں انتخابی دوڑ سے تاخیر سے دستبردار ہوئے، ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مباحثے کے دوران بدترین کارکردگی کے بعد بائیڈن کو اپنی عمر کے حوالے سے شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا، اور گزشتہ دو ہفتوں سے انہیں اپنے ہی پارٹی ارکان کی جانب سے دباؤ کا سامنا تھا۔

بعد ازاں، کورونا کا شکار ہونے کے بعد امریکی صدر کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ اب آگے بڑھنے کا وقت آگیا ہے، انہوں نے کہا ’نئی

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

 نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے، درخواست میں موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

شہر ملک ناجی اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست شہری ملک ناجی اللہ کے وکیل اظہر صدیق نے جمع کروائی۔درخواست میں سیکرٹری کابینہ، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں ریمانڈ کا دورانیہ 14 سے بڑھا کر 40 دن کردیا گیا، نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اب یہ نیا ترمیمی آرڈیننس آگیا ہے جسے پارلیمنٹ میں بھی پیش نہیں کیا گیا، 14 دن سے زائد ریمانڈ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بدنیتی پر مبنی جھوٹا مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا صرف 2 سال کیوں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز کے ملزمان 14، 14 سال سزائیں بھگتتے ہیں، یہ ایک ظالمانہ قانون ہے، ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے، چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا تھا کہ آرڈیننس کے ذریعے ایک شخص کی رائے پوری قوم پر مسلط کردی جاتی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ جمہوریت کے خلاف نہیں؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ کیا یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ صدر آرڈیننس جاری کرتے ہوئے وضاحت بھی دے، یہ آرڈیننس بھی پارلیمنٹ لے جائے بغیر پاس کیا گیا، یہ قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی احتساب آرڈیننس 2024 کو آئین کی شقوں کے برخلاف قرار دیا جائے اور قومی احتساب آرڈیننس 2024 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید اپیل کی کہ فریقین کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ 27 مئی کو قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی منظوری سے 2 آرڈیننس جاری کردیے گئے تھے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2 اہم ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت نیب کے ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کردی گئی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق مقدمے میں بدنیتی ثابت ہونے پر نیب افسران کی سزا 5 سال سے کم کرکے 2 سال کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

تمام ممبرز خود کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے، جسٹس عامر فاروق

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ

چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ عامر فاروق کا کہنا ہے کہ ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، تمام ممبرز خود کو ٹیکنالوجی کے مطابق ڈھالیں ورنہ پیچھے رہ جائیں گے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسائل ابھی ہیں ختم نہیں ہوئے اور رہیں گے، 2023سے اب تک مدعی اور جوڈیشری کیلئے بہت ساری سہولیات فراہم کی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دوسرے پروفیشنز کی طرح ہمارا بھی بدل رہا ہے، ہمارے پروفیشن میں بھی ٹیکنالوجی آرہی ہے، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے، سب کیلئے ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی میں خود کو بہترین بنانا ہے، ٹیکنالوجی کے مطابق خود کو ڈھالنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب نوٹسزای میل اور ایس ایم ایس کے ذریعے موصول ہونگے، وکلا کو ایس ایم ایس کے ذریعے بتایا جارہا ہے کہ آپکا کیس کل کس عدالت میں ہے، ای نوٹس مدعی کیلئے بہت بڑی سہولت ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہا کہ ہم نے اسلام آباد میں اس ای نوٹس کو شروع کیا ہے، آن لائن پروسیڈنگز بھی چل رہی ہیں، آٹو میشن کے حوالے سے آج کچھ چیزوں کا افتتاح کیا ہے، سمن یا نوٹس کی تعمیل کیلئے پیادہ جاتا تھا وقت ضائع ہوتا تھا، ہمارے زمانے میں نوٹسز کو ڈھونڈنا پڑتا تھا، ایسے وکلا ،سائلین کو میسج کے ذریعے کیس سے متعلق معلوم ہوجاتا ہے۔

ان کاکہنا تھا کہ نوٹس ٹریکنگ سسٹم کو بھی جلد عدلیہ میں لارہے ہیں، عدلیہ میں مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم بھی آن لائن دستیاب ہے، انفارمیشن مشین کی رونمائی بھی کردی ہے، انفارمیشن مشین سے سائلین کو کیس کی تفصیلات معلوم ہوجائیں گی، پیپر فری ہونا ضروری ہے اب ای فائلنگ کی طرف جانا ہے۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے کہاکہ اسلام آباد میں نئے ججز کی تعیناتی کا معاملہ ابھی زیر التوا ہے،جلد مکمل کرلیں گے، نئے وکلا کا ٹریننگ پروگرام ایک خوش آئند اقدام ہے، آج ینگ وکلا کی ڈویلپمنٹ کیلئے کچھ نہ کیا تو وہ ہمیں معاف نہیں کریں گے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ کتاب اور قانون سے رشتہ نہ توڑیں، اگر وہ رشتہ کسی وجہ سے ٹوٹ گیا ہے اس کو قائم کریں، ہم نے جو انصاف دینا ہے وہ قانون کے مطابق دینا ہے، ہم سب کیلئے قانون سے شناسائی ضروری ہے، ہم نے قانون کے بغیر یا ضمیر کے مطابق انصاف نہیں کرنا۔
 
چیف جسٹس نے کہا کہ ہم نے مل کر مسائل کو حل کرنا ہے، ہمارا تعلق بھی بار سے ہے کوئی علیحدہ نہیں ہیں، بار ہمارا گھر ہے ہم مسائل حل کریں گے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll