جی این این سوشل

موسم

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بھی بارش کا امکان

لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے

پر شائع ہوا

کی طرف سے

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بھی بارش کا امکان
لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بھی بارش کا امکان

لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں آج بھی بارش کا امکان ہے۔

محکمہ موسمیات نے پنجاب کے مختلف علاقوں میں آج بھی بادل برسنے کی پیشگوئی کر دی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 جبکہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 38 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کی توقع ہے۔

اعدادو شمار کے مطابق شہر کا موجودہ درجہ حرارت 31 ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا ہے، ہوا کی رفتار 5 کلومیٹر فی گھنٹہ ریکارڈ کی جا رہی ہے جبکہ ہوا میں نمی کا تناسب 69 فیصد تک جا پہنچا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش برسنے کا سلسلہ 15 جولائی تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا، مغربی ہواؤں سے بننے والا ایک نیا نظام افغانستان کے راستے ملک میں داخل ہوا جو کہ بارشوں کا باعث بن رہا ہے۔

پاکستان

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

 نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے، درخواست میں موقف

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

نیب ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج

قومی احتساب بیورو (نیب) ترمیمی آرڈیننس 2024 اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔

شہر ملک ناجی اللہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی، درخواست شہری ملک ناجی اللہ کے وکیل اظہر صدیق نے جمع کروائی۔درخواست میں سیکرٹری کابینہ، صدر مملکت، چیئرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں موقف اختیار کیا کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں ریمانڈ کا دورانیہ 14 سے بڑھا کر 40 دن کردیا گیا، نئے ترمیمی آرڈیننس میں بدنیتی پر مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا 5 سے گھٹا کر 2 سال کردی گئی، پی ڈی ایم نیب قوانین میں میں 3 بار ترامیم کر چکی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق اب یہ نیا ترمیمی آرڈیننس آگیا ہے جسے پارلیمنٹ میں بھی پیش نہیں کیا گیا، 14 دن سے زائد ریمانڈ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بدنیتی پر مبنی جھوٹا مقدمہ بنانے والے افسر کی سزا صرف 2 سال کیوں؟۔

ان کا کہنا تھا کہ نیب ریفرنسز کے ملزمان 14، 14 سال سزائیں بھگتتے ہیں، یہ ایک ظالمانہ قانون ہے، ترمیمی آرڈیننس کو فوری طور پر واپس لینا چاہیے، چیف جسٹس پاکستان نے قرار دیا تھا کہ آرڈیننس کے ذریعے ایک شخص کی رائے پوری قوم پر مسلط کردی جاتی ہے۔

درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ چیف جسٹس پاکستان نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا یہ جمہوریت کے خلاف نہیں؟ چیف جسٹس پاکستان نے کہا تھا کہ کیا یہ ضروری نہیں ہونا چاہیے کہ صدر آرڈیننس جاری کرتے ہوئے وضاحت بھی دے، یہ آرڈیننس بھی پارلیمنٹ لے جائے بغیر پاس کیا گیا، یہ قانون کی منشا کے خلاف ہے۔

شہری نے عدالت سے استدعا کی کہ قومی احتساب آرڈیننس 2024 کو آئین کی شقوں کے برخلاف قرار دیا جائے اور قومی احتساب آرڈیننس 2024 کے تحت اٹھائے گئے اقدامات کو سیاسی اور انتقامی قرار دے کر کالعدم قرار دیا جائے۔

مزید اپیل کی کہ فریقین کو معلومات تک رسائی کے حق کے تحت مطلوبہ معلومات فراہم کرنے کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ 27 مئی کو قائم مقام صدر و چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کی منظوری سے 2 آرڈیننس جاری کردیے گئے تھے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کے ذریعے 2 اہم ترامیم کی گئی ہیں جس کے تحت نیب کے ریمانڈ کی مدت 14 دن سے بڑھا کر 40 دن کردی گئی ہے۔نیب ترمیمی آرڈیننس کے مطابق مقدمے میں بدنیتی ثابت ہونے پر نیب افسران کی سزا 5 سال سے کم کرکے 2 سال کردی گئی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

علاقائی

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی

پابندی کا اطلاق جمعے 26 جولائی سے اتوار 28 جولائی تک ہوگا، محکمہ داخلہ پنجاب

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں دفعہ 144 نافذ کر دی

پنجاب حکومت نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں 3 روز کیلئے دفعہ 144 نافذ کر دی ہے جس کے تحت صوبے میں جلسہ جلوس، ریلیوں، دھرنوں اور احتجاج پر پابندی ہو گی۔

ترجمان محکمہ داخلہ پنجاب کا کہنا ہے کہ پابندی کا اطلاق جمعے 26 جولائی سے اتوار 28 جولائی تک ہوگا، امن و امان کے قیام، انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کیلئے دفعہ 144 نافذ کی گئی۔

پابندی کا اطلاق دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔

واضح رہے ک پاکستان تحریک انصاف نے 26 جولائی بروز جمعہ کو ملک بھر میں پر امن احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

پاکستان

شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری

پراسیکیوشن  کا کیس مضبوط نہیں، ثبوت ریکارڈ بھی کئے تو ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

پر شائع ہوا

ویب ڈیسک

کی طرف سے

شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی و دیگر ملزموں کو 9مئی کے مقدمہ سے بری کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔

جوڈیشل مجسٹریٹ  نے درخواست بریت منظور ہونے کا حکم نامہ جاری کیا،حکمنامہ میں کہا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی پر پینل کوڈ سیکشن 109 تب نافذ ہوتا ہے جب کسی سے کوئی جرم سرزد ہوا ہو، کسی ملزم کے جرم میں بغیرکسی شرکت کے پینل کوڈ سیکشن 109کا جرم ثابت نہیں ہوتا۔

حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ ریکارڈ کے مطابق شاہ محمود قریشی کی حد تک پینل کوڈسیکشن 109ثابت نہیں ہوا، شاہ محمود قریشی ودیگر ملزموں پر 16ایم پی او، 144کی دفعات بھی لگی ہیں،پراسیکیوشن  کا کیس مضبوط نہیں، ثبوت ریکارڈ بھی کئے تو ملزموں کو سزا نہیں دی جا سکتی۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll