نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی


بجٹ میں جہاں اشیائے خورد ونوش ،ضروری استعمال کے دیگر چیزیں مہنگی کرکے عوام کو ہزار واٹ کے جھٹکے دیئے گئے وہی ایک اور جھٹکا ان سب چیزوں پر بھاری رہا ۔
خیبر پختونخوا حکومت نے تمباکو کے ساتھ نسوار پر بھی ٹیکس عائد کردیا جس نے نسوار ڈالے بغیر اس کے بنانے اور استعمال کرنے والوں کو چکراکررکھ دیا، نسوار کا ایک پیکٹ میں 10روپے کا اضافہ کردیا گیا جو اب 30روپے میں دستیاب ہوگی ۔نسوار پر ٹیکس لگانے کے حق میں دلیل دیتے ہوئے صوبائی مشیر خزانہ مزمل اسلم کہتے ہیں اس سے اگر ایک جانب صوبے کو مالی فائدہ ہوگا تو دوسری جانب نسوار استعمال کرنے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کی جائے تاکہ اسکا استعمال کم ہو لوگ اس کے مضر اثرات سے محفوظ ہو جائے ۔
مشیر خزانہ کی منطق اپنی جگہ لیکن صوبہ بھر میں اس کاروبار سے بھی لاکھوں لوگ وابستہ جن کے کاروبار پر بھی انتہائی برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ٹیکسوں تلے دھب کر اگر یہ کاروبار بھی ختم ہونے لگا تو ان لاکھوں لوگوں کو کیا ہوگا جو بے روزگار ہونگے ۔

ظہور شاہ پشاور پھندو روڈ پر ایک چھوٹے سے دکان میں نسوار بناتا ہے جن کا کہنا ہے ٹیکس لگنے کے بعد نسوار بنانے کےلئے پنجاب سے منگوائے جانے والے تمباکو کی قیمت میں 10سے 15ہزار روپے تک کا اضافہ ہوگیا ہے پہلے 60کلو کی ایک بوری 30ہزار میں خریدتے تھے تو اب اس کی قیمت 40سے 45ہزار روپے تک پہنچ گئی جبکہ نسوار بنانے والی مشین بجلی سے چلتی اور یہاں کام کرنے والوں کی مزدوری سمیت کل ملاکر 30روپے فی پیکٹ میں بھی اب گزارہ مشکل ہوگیا ہے جبکہ صوبائی ٹیکس اور انکم ٹیکس الگ مسئلہ ہے جس میں اب کاروبار چلانا بھی مشکل ہوگیا ہے ۔
خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے ریسرچ پیپر "نسوار (سموک لیس ٹوبیکو پراڈکٹ) ،اورل کینسر اینڈ ٹوبیکو کنٹرول ان خیبر پختونخوا میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 13.3فیصد جبکہ خیبر پختونخوا کے کل آبادی کے 15 فیصد لوگ نسوار کے عادی ہیں ۔اس کے نقصانات کے بارے میں پیپر میں واضح لکھا گیا ہے کہ عام لوگوں کی نسبت نسوار استعمال کرنے والوں میں اورل کینسر کا رجحان 20 درجے زیادہ ہوتا ہے ،جبکہ اس کے زیادہ استعمال سے اورل کینسر خدشات میں مزید اضافہ ہوتا ہے ۔ریسرچ پیپر کے مطابق اگر نسوار کا استعمال ترک کیا جائے تو صوبہ بھر میں اورل کینسر کے کیسز میں 70فیصد کمی واقع ہوجائے گی ۔
طبی ماہر ڈاکٹر شفیع اللہ کہتے ہیں یہ بات سچ ہے کہ نسوار کےمسلسل استعمال سے منہ کا کینسر ہوسکتا ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے نسوار کے تمام اجزاء بذات خود کینسر کے اسباب میں شامل ہے۔تمباکو میں کئی اقسام کے کیمیکل موجود ہے اسی نسوار میں چونا اور راکھ بھی استعمال ہوتا ہے جس میں بھی مختلف اقسام کے خطرناک جراثیم موجود ہوتے ہیں ۔نسوار کے مسلسل استعمال سے منہ کے اندرونی عضلات متاثر ہونا شروع ہو جاتے ہیں اور آخر کار قوت مدافعت ختم ہو جاتی ہے جس کی وجہ کینسر کے جراثیم طاقتور ہوکر اپنا کام شروع کردیتے ہیں ۔
اگر طبی ماہرین نسوار کو ترک کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں تو صوبائی مشیر خزانہ کے منطق کو بھی اپنی جگہ درست مانا جاسکتا ہے کہ ٹیکس لگنے سے شائد استعمال کرنے والوں کو نسوار چھوڑنے پر مجبور کیا جائے تاہم اس کے نقصانات سے بے خبر سالوں سے نسوار استعمال کرنے والے شہریوں نے نسوار مہنگا ہونے کے باوجود استعمال ترک کی بجائے مزید بڑھا دی ہے کہتے ہیں یہ تو ہمارا پرانا نشتہ چاہئے قیمت جو بھی ہو ترک نہیں کرینگے بلکہ اب تو استعمال اور بھی بڑھ گیا ہے
ادھیڑ عمر نور محمد جو محنت مزدوری کرتا ہے عرصےبیس سال سے نسوار استعمال کر رہا ہے کہتا اس کا اپنا ایک نشہ ہے ۔نسوار کے پیکٹ کی قیمت میں 10روپے اضافہ ہوگیا ہے لیکن ہم نے بھی استعمال مزید بڑھا دی ہےپہلے ایک پیکٹ روزانہ استعمال کرتے تھے اب دو پیکٹ کا استعمال ہو رہا ہے ہاں اگر کوئی مفت مانگے تو انکی طرف پرانا پیکٹ آگے بڑھا دیتے اس تاکید کے ساتھ کہ مہنگے ہیں زیادہ استعمال نہ کرو ۔
پختونوں میں نسوار استعمال کرنے کی روایت بہت ہی پرانی ہے جیسے جیسے وقت گزرتا گیا نسوار کے اقسام اور استعمال میں بھی اضافہ ہوتا گیا ۔تاہم افغان مہاجرین نے پاکستان آمد کے ساتھ خشک نسوار کی ایک قسم یہاں متعارف کرائی ۔اس وقت صوبے کے مختلف علاقوں میں استعمال ہونے والے نسوار کی 30اقسام ہے جس میں بہت سے اب برانڈ بن گئے جو پاکستان سے خلیجی ممالک بھی بھجوائے جاتے ہیں ۔ریمنڈ ڈیوس کے مشہور واقعہ میں انوسٹیگیشن کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے چارسدہ کے باچا نسوار کے مالک سے بھی پوچھ گچھ کی گئی تھی کیونکہ ریمنڈ ڈیوس کے سامان سے باچا نسوار کا پیکٹ برآمد ہوا تھا اورا سی بنیاد پرنسوار بنانے والے سے پوچھ گچھ کی گئی تھی
نسوار کے استعمال کو طبی ماہرین بھی مضر صحت قرار دے رہے ہیں جبکہ صوبائی حکومت نے ٹیکس لگا کر یہ منطق اختیار کی ہے کہ اس کے استعمال میں کمی آئی گی جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ وہ کبھی نسوار کا استعمال ترک نہیں کرینگے ۔اب اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ۔
(تحریر جی این این رپورٹر سید کامران علی شاہ)

خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث پارا چنار بنیاد ی سہولتوں سے محروم
- 10 hours ago

وفاقی حکومت کا کسانوں کو 300ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان
- 10 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا پیشرفت پر اطمینان کا اظہار
- 13 hours ago

افغانستان میں موجود دہشت گرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے،دی ڈپلومیٹ
- 13 hours ago

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- a day ago

وویمنر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ :بھارت کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- 11 hours ago

ملک میں معاشی استحکام آ چکا، حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے،عطا تارڑ
- 11 hours ago

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےاحتجاج پرآزاد کشمیرکےعوام کا شدید ردعمل
- 10 hours ago

سینیٹ کا اجلاس پیر کو طلب، پانچ نکاتی ایجنڈا جاری
- 11 hours ago

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم شقیں سامنے آ گئیں
- 13 hours ago

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- a day ago

شوبز حلقوں میں جوش، عون علی خان نئی فیچر فلم "ریڈ لائن" کا حصہ بن گئے
- 10 hours ago









