حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی


چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑیں گے، حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی۔
حکومت کی جانب سے آئی پی پیز کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ کے ہوشربا اعدادو شمار سامنے آ گئے، مہنگائی کے اس دور میں بجلی کی تقسیم کار آزاد کمپنیاں (آئی پی پیز) کو کی جانے والی کپیسٹی پیمنٹ نے عوام کا خون نچوڑ لیا۔
حکومت نے ایک سال میں ایک یونٹ بجلی تو نہیں خریدی مگر معاوضے میں 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی، مجموعی طور پر آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں۔
چاہے بجلی خریدیں یا نہ خریدیں پیسے تو دینے ہی پڑتے ہیں اور حکومت ایسا ہی کرتی آرہی ہے۔ گزشتہ سال آئی پی پیز سے 1198 ارب روپے کی بجلی خریدی گئی مگر 3127 ارب کی ادائیگیاں کی گئیں، یعنی بجلی خریدے بغیر 1929 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کر دی گئی۔ آئی پی پیز کو کی گئی کل ادائیگیوں میں 38 فیصد پیداواری لاگت آئی اور 62 فیصد کپیسٹی پیمنٹ کا انکشاف ہوا۔
افسر شاہی کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ 85 فیصد آئی پی پیز کی پیداوار 50 فیصد سے کم مگر ادائیگیاں 100 فیصد کی گئیں، صرف زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پاور پلانٹس کو ایک سال میں 46 ارب 40 کروڑ روپے کیپسٹی پیمنٹ ادا کی گئی۔حکومت کو جانب سے جنہیں بھر پور انداز میں نوازا گیا ان زیرو فیصد پلانٹ فیکٹر والے پلانٹس میں حبکو، کیپکو، ایچ سی پی سی شامل ہیں۔
4 فیصد پلانٹ فیکٹر رکھنے والے ایک پلانٹ کو 7 ارب روپے سے زائد کی ادائیگی کی گئی، 8 فیصد پیداوار والے نندی پور پلانٹ کو 15 ارب روپے جبکہ گنجائش سے 25 فیصد کم بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 568 ارب روپے کی ادائیگی کی گئی۔اسی طرح 25 سے 83 فیصد تک بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کو 1314 ارب روپے، چائنا پاور حب جنریشن کمپنی کو 9 ماہ میں 103 ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کی گئی۔
چینی کمپنی نے 5 ماہ سے کوئی بجلی پیدا نہیں کی جبکہ 4 ماہ پیداوار 18 فیصد تک رہی، ہوانینگ شانڈنگ روئی انرجی کو 9 ماہ میں 95 ارب روپے ،پورٹ قاسم الیکٹرک پاور کمپنی کو83 ارب روپے، پنجاب تھرمل پاور پرائیویٹ کمپنی کو26 ارب اور واپڈا ہائیڈل کو 76 ارب روپے کی کپیسٹی پیمنٹ کی گئی، بند نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کو 10 ارب روپے سے نوازا گیا۔
وزارت توانائی نے انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) سے معاہدوں پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حبکو کے ساتھ پاور پرچیز ایگریمنٹ کی مدت مارچ 2027 کو ختم ہو جائے گی، حبکو کے ساتھ کسی بھی معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔حکام کے مطابق حبکو پلانٹ فرنس آئل پر چلتا ہے، پلانٹ کو کوئلے پر چلانے کے لیے کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ کیپکو نے 2022 میں اپنی 25 سال کی مدت مکمل کی، کیپکو کے ساتھ بجلی کی خرید و فروخت کے معاہدے میں کوئی توسیع نہیں کی گئی۔

ملک میں ہفتہ وار مہنگائی کی شرح 3.57 فیصد تک جا پہنچی، ٹماٹر، آٹا اور چکن مزید مہنگے
- 12 گھنٹے قبل

امریکی ٹیرف کے بعد بھارتی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخی کم ترین سطح پر پہنچ گیا
- 13 گھنٹے قبل

سیلابی صورتحال کے باعث بلوچستان سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس معطل
- 9 منٹ قبل

حکومت کا سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا فیصلہ
- 12 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کا سیلاب متاثرین سے اظہارِ یکجہتی، پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش
- 12 گھنٹے قبل

دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ، این ڈی ایم اے کا ہنگامی الرٹ جاری
- 12 گھنٹے قبل

امریکا نے یوکرین کے لیے 179 ملین ڈالر کے فضائی دفاعی نظام کی منظوری دے دی
- 18 منٹ قبل

ایشیا ڈیولپمنٹ بینک کی پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے 3 ملین ڈالر کی ہنگامی امداد
- 14 گھنٹے قبل

وزیر آباد میں فلڈ ریلیف کیمپ عارضی نکلا، مریم نواز کے دورے کے بعد متاثرین واپس، کیمپ بند
- 12 گھنٹے قبل

تحریک انصاف کے مزید ارکان کا کمیٹیوں سے استعفیٰ، پارٹی نے پارلیمانی عمل سے مکمل لاتعلقی اختیار کرلی
- 12 گھنٹے قبل

تین ملکی ٹی ٹوئنٹی سیریز کا آغاز: پاکستان کا افغانستان کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ
- 15 گھنٹے قبل

ایرانی صدر کا وزیراعظم سے ٹیلیفونک رابطہ، سیلابی صورتحال میں مدد کی پیشکش
- 15 گھنٹے قبل