اسلام آباد: اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا کہنا ہے کہ لوگوں کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا لیکن برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا ہے۔ چند لنگر خانوں اور مہمان خانوں سے ترقی نہیں ہوتی ہے۔ آئندہ الیکشن میں عوام حکمرانوں کودیوارسےلگادیں گے۔

شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے 2018 میں جی ڈی پی 5.8 فیصد پر چھوڑی، عمران خان نیازی مسلط ہوئے توجی ڈی پی پہلے سال 2.1 فیصد اوراگلے سال جی ڈی پی منفی 0.5 ہوگئی، دو کروڑ افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں،آج عام آدمی ایک وقت کی روٹی کو ترس گیا ہے، سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد غربت کی لکیر سے نیچے جاچکی ہے۔
شہبازشریف نے کہا کہ عمران خان نیازی نے ایک کروڑ نوکریوں کا وعدہ کیا وہ نوکریاں کہاں ہیں،کہاں ہیں وہ تین سو ارب ڈالر جو ملک میں واپس لانے تھے، تین ماہ میں کرپشن ختم کرنے کا دعوی کہاں گیا؟آج ملک میں بدترین کرپشن کا نظام جاری ہے،کوئی پوسٹنگ اورٹرانسفرکرپشن کے بغیر نہیں ہوتی ہے۔
شہباز شریف نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف نے بجلی کے کارخانے لگا کر لوڈ شیڈنگ ختم کردی،ایک دھیلے کی کرپشن تو دور کی بات لیکن بجلی کارخانوں میں اربوں روپے کی بچت کی۔انہوں نے کہا کہ کورونا کے بارہ سو ارب کے فنڈز کرپشن کی نظر ہوگئے ہیں، اگر اس ملک میں عمران خان مسلط نہ ہوتے تو کورونا کی سے وجہ سے یہ حالت نہ ہوتی،جو ویکسین امداد میں ملی اسی پر اکتفا کیا گیا۔
اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ حکومت نے کون سی ترقی کی ہے،وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی خوشحالی برآمدات کے ذریعے ہے لیکن تین سالوں میں روپے کی قدر 33 فیصد کم کردی گئی،لوگوں کو مہنگائی کی چکی میں پیس دیا لیکن برآمدات میں اضافہ نہیں ہوا۔نواز شریف کے تین ادوار کا مالیاتی خسارہ ایک طرف اور تین سال کا دوسری طرف ہے، چند لنگر خانوں اور مہمان خانوں سے ترقی نہیں ہوتی ہے، حکمرانوں کو انتقامی کارروائیوں سے ہی فرصت نہیں ۔آئندہ الیکشن میں عوام حکمرانوں کودیوارسےلگادیں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ن لیگ کے دور میں ریکارڈ مدت میں بجلی اور سی پیک کے منصوبے لگائے گئے،یہ تین سال میں کروڑوں افراد کو خط غربت سے نیچے لے گئے ہیں ،یہ حکومت تین ہزار چار سو بیس ارب روپے کے مزید قرضے لیں گے،اس میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ مہنگائی کا طوفان آئے گا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نیازی کنٹینر پر کھڑے ہو کر بھاشن دیا کرتے تھے،تین سال میں جو ان ڈائریکٹ ٹیکس لگائے گئے وہ پندرہ سال میں نہیں لگے۔
مسلم لیگ ن کے صدر نے قومی اسمبلی میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے بتایا نہیں کہ یہ بجٹ آئی ایم ایف کی مرضی سے بنایا ہے یا نہیں،یہ حکومت تین سال سے سفید جھوٹ بول رہی ہے،کیا وزیر خزانہ اپنی اس بات پر قائم رہیں گے کہ کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا،اطلاع ہے کہ تین سو تراسی ارب روپے کے نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔وزیر خزانہ یہاں آ کر تسلیم کریں کہ نئے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں،اطلاع ہے کہ ایل این جی اور خام تیل کی درآمد پر 17فیصد سیلز ٹیکس لگایا جا رہا ہے،عوام کی زندگی اجیرن ہو جائے گی۔

پاکستان نے اگلے سال کے لیے شنگھائی تعاون تنظیم کی صدارت سنبھال لی
- a day ago
بلوچستان میں متعدد کارروائیوں کے دوران فتنہ الہندستان اور فتنہ الخوارج کے 21 دہشت گرد ہلاک
- a day ago
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 3 days ago

خریداروں کے لیے خوشخبری، سونے کی قیمت میں مزید کمی
- 2 days ago

کتنے پاکستانی کرپٹو اکاؤنٹس کے مالک بن گئے؟ بلال بن ثاقب نے بتا دیا
- 2 days ago

اسٹیج اداکار محمد صدیق المعروف عابد چارلی شدید علیل
- 2 days ago
پنجاب اسمبلی میں 16سال سے کم عمربچوں کے سوشل میڈیا استعمال پرپابندی کی قرارداد منظور
- a day ago

وزیراعظم کی بشکیک میں عالمی رہنماؤں سے غیر رسمی ملاقاتیں، علاقائی و عالمی امور پر تبادلہ خیال
- a day ago

مکہ دفاعی اتحاد کے پہلے سیکریٹری جنرل کا تعلق پاکستان سے ہوگا، حاقان فیدان
- 2 days ago
’مکہ دفاعی اتحاد‘ کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد، عسکری و سیاسی قیادت کی شرکت
- 2 days ago
راولپنڈی، اسلام آباد میں طوفانی بارش، نالہ لئی بپھر گیا، فوج طلب، تعلیمی اداروں میں تعطیل
- a day ago

فیملی ڈرامے وقت کی اہم ضرورت ہے، اداکار شان شاہد
- 2 days ago



