زیر استعمال وی پی اینز کو رجسٹر کرائیں،پی ٹی اے کی آئی ٹی کمپنیوں، سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز، بینکوں اور دیگر کاروباری اداروں سے اپیل


اسلام آباد:پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ملک میں ورچوئل پرائیویٹ نیٹ ورکس (وی پی اینز) کو بلاک کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
پی ٹی اے نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ایک بیان میں حالیہ دنوں میں میڈیا میں پھیلنے والی ان خبریں مسترد کیں جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت وی پی اینز کو بلاک کرنے جا رہی ہے۔
تاہم پی ٹی اے نے آئی ٹی کمپنیوں، سافٹ ویئر ہاؤسز، فری لانسرز، بینکوں اور دیگر کاروباری اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے زیر استعمال وی پی اینز کو رجسٹر کرائیں۔ اس رجسٹریشن کا مقصد یہ ہے کہ اگر مستقبل میں انٹرنیٹ سروسز میں کوئی خلل پڑتا ہے تو ان اداروں کی کاروباری سرگرمیوں متاثر نہ ہوں۔
پی ٹی اے کے مطابق یہ رجسٹریشن کا عمل مفت ہے اور اس میں صرف 2 سے 3 دن کا وقت لگتا ہے۔ کاروباری ادارے پی ٹی اے اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کی ویب سائٹس کے ذریعے یہ رجسٹریشن کروا سکتے ہیں۔
گورننس فورم ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے بہترین فورم ثابت ہوگا،شہباز شریف
- ایک دن قبل

بانی پی ٹی آئی کو شفا اسپتال منتقل کرنے کیلئے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- ایک دن قبل

وزیر داخلہ محسن نقوی کی اطالوی ہم منصب سے ملاقات،دونوں ممالک کا 10,500 ورک ویزوں پر اتفاق
- ایک دن قبل

سپر ایٹ : نیوزی لینڈ نے سری لنکا کو باآسانی 61 رنز سے شکست دے کر ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا
- ایک دن قبل

اسلام آباد ہائی کورٹ میں 190 ملین پاؤنڈ کیس میں عمران، بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست سماعت کے لئے منظور
- 6 گھنٹے قبل

سونے، چاندی کی قیمتوں میں اچانک کتنی کمی ہوئی؟
- 7 گھنٹے قبل

لاہور: بسنت کے دوران 17 اموات ہوئیں،محکمہ داخلہ نے رپورٹ جمع کرا دی
- ایک دن قبل
تہران جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، ایرانی صدر
- 7 گھنٹے قبل

سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان اور خیبر پختونخوا کارروائیاں، 34خارجی دہشتگرد جہنم واصل
- ایک دن قبل
ٹی 20 ورلڈکپ: سپر ایٹ مرحلے میں جنوبی افریقا نے ویسٹ انڈیز کو 9 وکٹوں سے شکست دے دی
- 3 گھنٹے قبل

اسلام آباد، پشاور سمیت ملک کے مختلف شہروں میں زلزلے کے جھٹکے،لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
- ایک دن قبل
افغانستان میں کارروائیاں پاکستانی شہریوں کے تحفظ اور ممکنہ دہشت گرد حملوں کی روک تھام کے لیے کی گئیں: دفترِ خارجہ
- 2 گھنٹے قبل









