Advertisement
پاکستان

آئین ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم کرے، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ نے اردو میں اضافی نوٹ جاری کردیا گیا

GNN Web Desk
شائع شدہ 2 years ago پر Oct 30th 2024, 8:59 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
آئین ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم کرے، جسٹس اطہر من اللہ

سپریم کورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا ہے کہ آئین ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم یا محدود کرے، یہ ناقابل تصورہے کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے، عوامی اعتماد ختم ہوا توعدلیہ کی آزادی کمزور پڑجائے گی، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے۔

سپریم کورٹ میں معلومات تک رسائی کے کیس میں جسٹس اطہرمن اللہ نے اردو میں اضافی نوٹ جاری کردیا گیا، نوٹ کے متن کے مطابق درست ہے آرٹیکل 19اے کے بنیادی حق کا استعمال مناسب پابندیوں کے تابع ہے، مناسب پابندیوں کی اصطلاح مگر پارلیمان کو آئینی حق کا دائرہ محدود کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔

جسٹس اطہرمن اللہ نے کہا کہ آرٹیکل 8 ریاست کو ایسی قانون سازی سے روکتا ہے جو بنیادی حقوق کو ختم یا محدود کرے، سپریم کورٹ بنیادی حقوق کے تناظر میں دیگر اداروں کے اقدامات کا عدالتی جائزہ لیتی ہے یہ ناقابل تصورہے کہ سپریم کورٹ شہریوں کے بنیادی حقوق چھین لے۔

اضافی نوٹ کے مطابق عوام یہ سمجھیں کہ بنیادی حقوق کے محافظ خود حقوق محدود کرنے میں ملوث ہیں توان کا اعتماد ختم ہوجائے گا، عوامی اعتماد ختم ہوا تو عدلیہ کی آزادی کمزور پڑجائے گی، سپریم کورٹ کے پاس تلواریا خزانے کا کوئی کنٹرول نہیں، سپریم کورٹ کی قوت صرف عوام کا اعتماد ہے۔

اضافی نوٹ میں جسٹس اطہر من اللہ نے سابق چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ معلومات تک رسائی کا حق بدعنوانی کے خلاف ایک قلعہ ہے، ججز،ملازمین کی مراعات سپریم کورٹ کا بجٹ عوامی اہمیت کے حامل اور شہریوں کی دلچسپی کے موضوع ہیں، شہریوں کو معلومات کی فراہمی کے لیے درخواست دائر کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہونی چاہیئے، معلومات تک رسائی کے قانون کو سختی سے نافذ کیا جائے۔

Advertisement
 فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام ،8 خارجی جہنم واصل ، جوابی کارروائی میں6 اہلکار شہید

 فیڈرل کانسٹیبلری پر بزدلانہ حملہ ناکام ،8 خارجی جہنم واصل ، جوابی کارروائی میں6 اہلکار شہید

  • 20 گھنٹے قبل
قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی

قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ کی منظوری دے دی

  • 18 گھنٹے قبل
روزگارکے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری اورپیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،وزیراعظم

روزگارکے مواقع، برآمدات، معاشی بہتری اورپیداواری صلاحیت بڑھانا سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے،وزیراعظم

  • 15 گھنٹے قبل
ایک روز کے اضافے کے بعد سونا آج پھر کئی ہزار روپے سستا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

ایک روز کے اضافے کے بعد سونا آج پھر کئی ہزار روپے سستا، نئی قیمت کیا ہو گئی؟

  • 21 گھنٹے قبل
وفاقی حکومت کا بجٹ اجلاس 12 جون سے منظوری تک بلا تعطل جاری رکھنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت کا بجٹ اجلاس 12 جون سے منظوری تک بلا تعطل جاری رکھنے کا فیصلہ

  • 14 گھنٹے قبل
سیکیورٹی فورسز کی افغان سرحد پر بڑی کارروائی، 26 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

سیکیورٹی فورسز کی افغان سرحد پر بڑی کارروائی، 26 بھارتی حمایت یافتہ دہشتگرد ہلاک، 4 اہم اہداف تباہ

  • 21 گھنٹے قبل
مظفرآباد میں پاک فوج کا  Mi-17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید 

مظفرآباد میں پاک فوج کا  Mi-17 ہیلی کاپٹر تکنیکی خرابی کے باعث گر کر تباہ، تمام اہلکار شہید 

  • 19 گھنٹے قبل
مری: سیاحوں کی وین میں ٹریفک حادثے کے بعد آگ بھڑک اٹھی،10 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

مری: سیاحوں کی وین میں ٹریفک حادثے کے بعد آگ بھڑک اٹھی،10 افراد جاں بحق ،متعدد زخمی

  • 20 گھنٹے قبل
بلوچستان:سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ  14 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

بلوچستان:سیکیورٹی فورسز کی کامیاب کارروائی میں بھارتی حمایت یافتہ 14 خارجی دہشت گرد جہنم واصل

  • 2 دن قبل
اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد امریکہ کے ایران کے مختلف شہروں پرفضائی حملے

اپاچی ہیلی کاپٹر مار گرائے جانے کے بعد امریکہ کے ایران کے مختلف شہروں پرفضائی حملے

  • 21 گھنٹے قبل
ٹرمپ نے ایران کے پُلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے پر غور شروع کردیا،امریکی میڈیا 

ٹرمپ نے ایران کے پُلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنانے پر غور شروع کردیا،امریکی میڈیا 

  • 17 گھنٹے قبل
اسلام آباد کے نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، مصطفیٰ کمال

اسلام آباد کے نجی اسپتالوں میں علاج کے اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، مصطفیٰ کمال

  • 20 گھنٹے قبل
Advertisement