نئےمعاشی وژن کے تحت 2028-29 تک پاکستان کی معیشت 2.5 فیصد سے 6 فیصد تک بڑھنے کے لیے تیار ہے


پاکستا ن نئےمعاشی وژن کے ساتھ ایک تبدیلی کا سفر شروع کر رہا ہے، جس میں ایک مضبوط اور جامع معیشت کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔
نئےمعاشی وژن کے تحت 2028-29 تک پاکستان کی معیشت 2.5 فیصد سے 6 فیصد تک بڑھنے کے لیے تیار ہے، جو کہ اقتصادی بحالی کا وعدہ کرتی ہے، تعلیمی اخراجات جی ڈی پی کے 2.1 فیصد سے 4 فیصد تک دوگنا ہو جائیں گے، خواندگی کی شرح 60 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو جائے گی اور اسکولوں کے اندراج میں 24فیصد اضافہ ہوگا۔
پائیدار انفراسٹرکچر اور توانائی کی اصلاحات پاکستان کو سبز ترقی کے لیے ایک ماڈل کے طور پر پیش کریں گی۔ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں 50 فیصد کمی اور الیکٹرک گاڑیوں میں 0.3 فیصد سے 25 فیصد تک اضافہ ماحولیاتی استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
سالانہ 1.5 ملین ملازمتیں پیدا کرنے کے ساتھ،یہ منصوبہ نوجوانوں اور خواتین کو ترجیح دیتا ہے، افرادی قوت کی شرکت کو 17 فیصد تک بڑھاتا ہے۔برآمدات اور ترسیلات زر بڑھیں گی، مضبوط معاشی استحکام اور ترقی کو یقینی بنایں گی۔ برآمدات 39 بلین ڈالر سے بڑھ کر 63 بلین ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے، جس سے عالمی تجارتی پارٹنر کے طور پر پاکستان کی پوزیشن مستحکم ہو گی۔
صحت کی اصلاحات کا مقصد زچہ کی شرح اموات میں 35فیصد اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرح اموات میں 18فیصد کمی کرنا ہے، اس کے ساتھ ساتھ یونیورسل ہیلتھ کوریج انڈیکس میں 12فیصد بہتری لانی ہے۔ صحت کا بنیادی ڈھانچہ ویکسین کی کوریج کو 70 فیصد سے بڑھا کر 80 فیصد کر دے گا، جس سے روک تھام کی جانے والی بیماریوں کے خلاف زیادہ قوت مدافعت یقینی ہو گی۔
غذائی عدم تحفظ کو 16فیصد سے کم کر کے 8 فیصد تک، نیا معاشی وژن کمزور آبادی کے لیے ضروری وسائل تک رسائی کو یقینی بناتا ہے۔سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل(ایس آئی ایف سی) 29 بلین ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری کرے گی، جن میں سعودیہ عرب، متحدہ عرب امارات اور کویت شامل ہیں۔ سٹارٹ اپ سالانہ 300 سے 10 ہزار تک بڑھیں گے، تکنیکی جدت اور انٹرپرینیورشپ کو فروغ دیں گے۔
پبلک ٹرانسپورٹ میں اضافہ کرتے ہوئے مسافر ٹرین کے استعمال میں 5 فیصد سے 15فیصد اور مال بردار آپریشن کو 8 فیصد سے 25 فیصد تک بڑھا دے گا، تجارتی لاجسٹکس میں بہتری آئے گی۔قرض سے جی ڈی پی کا تناسب 67 فیصد سے کم ہو کر 60 فیصد ہو جائے گا، جو مالیاتی نظم و ضبط اور پائیدار معاشی انتظام کی عکاسی کرتا ہے۔
2028-29 تک غربت کو 41.6 فیصد سے کم کرکے 21 فیصد تک آدھا کر دیا جائے گا، ہدف بنائے گئے سماجی پروگراموں کے ذریعے لاکھوں لوگوں کو غربت سے نکالا جائے گا۔پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 13.54 ملین ایکڑ فٹ سے بڑھ کر 23.54 ملین ایکڑ فٹ ہو جائے گی جس سے زراعت اور کمیونٹیز کے لیے پانی کے وسائل محفوظ ہوں گے۔
پاکستان کی معیشت 2035 تک1 ٹریلین ڈالر تک بڑھنے کے راستے پر ہے، جو NETP کے جامع اور بصیرت والے اہداف کی وجہ سے کارفرما ہے۔

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 3 days ago

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- 4 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 10 hours ago

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ
- 4 days ago

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا
- 4 days ago

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- 4 days ago

پاکستان کے بجلی ترسیلی نظام میں فرانسیسی سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی کا اظہار
- 10 hours ago

اسپین: دو تیز رفتار ٹرینوں میں خوفناک تصادم، 68 افراد ہلاک
- a day ago

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 3 days ago

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 3 days ago

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- 4 days ago

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 3 days ago






