پی ٹی آئی کے پرتشدد مظاہروں اور احتجاج سے ہونے والے کی نقصانات کی رپورٹ جاری
پی ٹی آئی کے مظاہروں سےقانون نافذ کرنے والے اداروں کو مجموعی طور پر 450 ملین سے زائد مالی نقصان کا ہوا ،رپورٹ


اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے پُرتشدد مظاہروں اور احتجاج سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شدید مالی اور جانی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
انسپکٹر جنرل (آئی جی) اسلام آباد کے دفتر کی طرف سے 9 مئی 2023، 4 اکتوبر 2024 اور 26 نومبر 2024 کو ہونے والے تین بڑے احتجاجی واقعات کے حوالے سے مرتب کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق پولیس کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر تباہی کا سامنا کرنا پڑ ا، ان مظاہروں سے مجموعی طور پر 450 ملین روپے سے زائد مالی نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 مئی 2023 کے مظاہروں کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا جس میں 82 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، جبکہ اس دوران احتجاجی مظاہرین نے پولیس کی دو عمارتوں کو نقصان پہنچایا جس سے 30 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا مظاہروں کے دوران پی ٹی آئی شر پسندوں نےپولیس کی 12 گاڑیوں کو نقصان پہنچا جن کی لاگت تقریباً 4.5 ملین روپے تھی۔
پر تشدد مظاہروں کے دوران سب سے زیادہ نقصان 367 سیف سٹی سرویلنس کیمروں کی تباہی کا تھا، جس کی تبدیلی کی لاگت کا تخمینہ 251.37 ملین روپے تھا، اہم نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانے والوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی آپریشنل صلاحیتوں کو بری طرح متاثر کیا۔
پی ٹی آئی کے 4 اکتوبر 2024 کے احتجاج میں ایک پولیس اہلکار شہید اور 42 زخمی ہوئے، حملوں کے نتیجے میں پولیس کی 13 گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا، جس کا تخمینہ 2.7 ملین روپے کا ہے جبکہ 221 سیف سٹی کیمروں کی تباہی سے مزید 63.64 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
اسی طرح 26 نومبر 2024 کا احتجاج سب سے زیادہ پرتشدد ثابت ہوا جس کے نتیجے میں چار رینجرز اہلکار شہید اور 103 پولیس اہلکار زخمی ہوئے، احتجاج کے دوران 246 سیف سٹی کیمروں کو تباہ کر دیا گیا جس سے 87.03 ملین جبکہ پولیس کی 43 گاڑیوں کو نقصان سے تقریباً 10.7 ملین روپے کا نقصان ہوا۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر پی ٹی آئی کی زیر قیادت احتجاج کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 5 اہلکار شہید اور 227 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔
اسلام آباد پولیس نے تشدد اور تباہی کی ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور قصورواروں کا احتساب کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ریاستی اداروں کو بار بار نشانہ بنانے سے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں متاثر ہوتی ہیں بلکہ سکیورٹی اداروں پر عوام کا اعتماد بھی ختم ہوتا ہے۔
پی ٹی آئی کے پر تشدد مظاہروں اور احتجاج پر محکمہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں نے پولیس کے اثاثوں کو نشانہ بنانے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے اور ان پُرتشدد واقعات کے منصوبہ سازوں اور ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

گال ٹیسٹ میں بڑا حادثہ، سری لنکن اسٹار خطرناک انجری کے بعد اسپتال منتقل
- 17 hours ago

ہم اپنے سپر اسٹار کو عزت نہیں دیتے، اظہر محمود کا بابر اعظم پر بڑا بیان
- 17 hours ago

نصرت فتح علی خان کی آخری آرام گاہ پر ایسا کیا ہوا؟ نئی ویڈیو نے نئی بحث چھیڑ دی
- 19 hours ago

غازی آباد تھانے میں لڑکی سے مبینہ زیادتی کیس میں اہم پیش رفت، بھکاری بھی نہ چھوڑا
- 4 days ago

ایک ہی دن دو نابالغ لڑکیاں لاپتا، علاقے میں خوف کی فضا
- 17 hours ago

اداکارہ میرا مشکل میں؟ سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی
- 20 hours ago
نوجوانوں کو ایکسپورٹ انڈسٹری سے جوڑنے کا عملی قدم
- 2 days ago
سپریم کورٹ نےعمران خان کو شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا
- a day ago
ہیلی کاپٹرحادثے کا شکار، ہلاکتیں
- 20 hours ago

عوام پر بجلی بم گرانے کی تیاری،کتنی مہنگی ہونے کا امکان؟
- 20 hours ago
پی ایس ڈی ایف کا سر سید ڈیف ایسوسی ایشن سے معاہدہ، سماعت سے محروم افراد کیلئے ہنرمندی و روزگار کے مواقع بڑھانے کا عزم
- 4 days ago

بیوی کو لینے سسرال پہنچا، چند لمحوں بعد 5 لاشیں ملیں
- 17 hours ago


