القادر یونیورسٹی کوئی ادارہ نہیں جعلی نام رکھا ہوا ہے، اسے کالج کا درجہ دینا بھی توہین ہے،وزیر دفاع
ملک ریاض کو اب کسی فورم سے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملے گا، یو اے ای سے ان کی حوالگی کا عمل مکمل کرکے یہاں مقدمات چلائے جائیں گے


اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے کہ القادر یو نیورسٹی کوئی ادارہ نہیں بلکہ جعلی نام رکھا ہوا ہے، اس کو کالج کا درجہ دینا بھی تو ہین ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نےاسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ لوگ مال ودولت کیلئے بدل جاتے ہیں، آخری واردات 190ملین پاؤنڈ والی ہوئی ہے، کابینہ میں کاغذ لہرایا گیا تھا، القادر یونیورسٹی کیلئے 438ایکڑ زمین دی گئی، پی ٹی آئی والے بتادیں ریاست کا پیسہ ان کے اکاؤنٹ میں کیسے چلا گیا؟
پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ 190 ملین پاؤنڈز کیس بڑی واردات ہے، اب احتساب اور حساب ضرور ہو گا،انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ حسن نواز نے بھی تو پراپرٹی خریدی، نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے)نے حسن نوازکی پراپرٹی کی بھی تحقیقات کیں، حسن نواز نے کوئی ٹرانزیکشن نہیں چھپائی، حسن نواز کی ٹرانزیکشن پوری طرح انویسٹی گیٹ ہوئی، اس کے بعد ان کی بھی تحقیقات ہوئی۔
وزیر دفاع نے کہا کہ پاکستان میں صحافت آزاد نہیں، میڈیا اداروں کے مالکان اپنے گریبانوں میں ضرور جھانکیں، پاکستان میں دوغلا پن جاری رہے گا تو جمہوریت کا سلسلہ اصل روح کے مطابق نہیں آسکتا، صحافت، سیاست اور عدلیہ میں دوغلے پن کا خاتمہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب میڈیا، سیاستدان یا عدالتیں جب مل جاتی ہیں تو ایک جرم کی پشت پناہی ہوتی ہے، حکومت اور ملک کو بلیک میل کیا گیا، یہ ریاست کو چیلنج کرتے ہیں،پھر سمجھتے ہیں پیسے کے زور پر چکما دے جائیں گے، ان پر نیب نے ڈیٹیل چارج شیٹ لگائی، ہم سب جیل میں تھے ٹی وی پر جھوٹے الزامات کی بھرمار ہوتی تھی۔
بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض پر تنقید کرتے ہوئے وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ملک ریاض کو اب کسی فورم سے کسی قسم کا ریلیف نہیں ملے گا، ان کی متحدہ عرب امارات سے پاکستان کی حوالگی کا عمل مکمل کرکے یہاں مقدمات چلائے جائیں گے، انہوںنے کہا کہ یو اے ای کے ساتھ ملزمان کی حوالگی کا معاہدہ موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ وقت گیا جب ملک ریاض پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا تھا، کوئی بھی پاکستانی ملک سے باہر بحریہ ٹاون کے منصوبے میں پیسہ لگاتا ہے تو اسے بھی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا، اس کا پیسہ ڈوب جائے گا۔

پاکستان کا ایٹمی پروگرام رہتی دنیا تک اسکا دفاعی اثاثہ رہے گا،شہباز شریف
- 13 hours ago

ایس او پیز کی خلاف ورزی: 7 اداکاراؤں اور ایک اداکار پر پنجاب بھر میں کام کرنے پر پابندی عائد
- 10 hours ago

معروف مصنفہ، اور دانشور ڈاکٹر صائمہ شہزادی کی نئی کتاب "سلطنتِ عثمانیہ کا عروج و زوال" شائع کر دی گئی
- 13 hours ago

آرمی راکٹ فورس کا مقامی تیار کردہ فتح 4 کروز میزائل کا کامیاب تجربہ
- 14 hours ago

نامور شاعر ایس ایم صادق کو گراں قدر ادبی خدمات پر صدارتی اعزاز سے نواز دیا گیا
- 11 hours ago

آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز کیلئے پی سی بی نے میچ آفیشلز کا اعلان کر دیا
- 11 hours ago

لاہور میں ویب کون 2026 کا انعقاد:ورک پلیس پر صنفی عدم مساوات اور خواتین کی قیادت پرزور
- 8 hours ago

مجھے سابق پولیس افسر شوہر نے اپنے منشیات فروش گینگ کا حصہ بنایا،گرفتار پنکی کا بیان
- 8 hours ago

ایوانِ صدر میں فوجی اعزازات کی پروقار تقریب، افسران و جوانوں کو تمغوں سے نوازا گیا
- 10 hours ago

معروف ادیب اورمشہور کٹھ پتلی شو انکل سرگم کے خالق فاروق قیصر کو مداحوں سے بچھڑے پانچ برس بیت گئے
- 13 hours ago

ایک دن کی کمی کے بعد سونا پھر مہنگا،فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 9 hours ago

ایرانی طیاروں کی پاکستان میں موجودگی سے متعلق الزامات بے بنیاد ہیں،دفتر خارجہ
- 13 hours ago










