امریکی کی جانب سے عائد نئے ٹیرف کا نفاذ 9 اپریل سے ہوگا


امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا کے مختلف ممالک پر جوابی ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کردیا۔
امریکی صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں جوابی ٹیرف کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے اور خطاب میں کہا کہ جوابی ٹیرف کا نفاذ امریکا کیلئے اچھا ہوگا، آج کا دن امریکی تاریخ کے اہم دنوں میں سے ایک ہے۔ آج ہماری اقتصادی آزادی کا دن ہے، ٹیرف سے حاصل رقم اپنے قرضوں کی ادائیگی کیلئے استعمال کریں گے.
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ برسوں امریکی شہریوں کو سائیڈ لائن رکھا گیا، دوسری قومیں طاقتوربن گئیں، اب امریکا کی خوشحالی کی باری ہے اور اضافی ٹیرف عائد کرنے سے مضبوط مسابقت اور اشیاکی قیمتیں کم ہوں گی، اس رقم کواپنے ٹیکسوں کو کم کرنے کیلئے استعمال کریں گے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ امریکا تمام درآمدات پر 10 فیصد اور غیرملکی ساختہ گاڑیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا۔ یورپی یونین پر 20 فیصد اضافی، چین پر 34 فیصد اور جاپان پر 24 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بھارت پر 26 فیصد اسرائیل پر 17 فیصد اور برطانیہ پر 10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔
امریکی صدر کا کہنا تھاکہ پاکستان ہم سے 58 فیصد ٹیرف چارج کرتا ہے، پاکستان پر 29 فیصد ٹیرف عائد کریں گے جبکہ بنگلا دیش پر 37 فیصد ٹیرف عائدہوگا۔ترکیہ، سعودی عرب، قطر اور افغانستان پر 10، 10 فیصد ٹیرف عائد کر نے کا اعلان کیا۔
ویتنام پر 46، تائیوان پر32، جنوبی کوریا پر 25 فیصد، تھائی لینڈ پر36، سوئٹزرلینڈ پر 31، انڈونیشیا پر 32 اورملائیشیا پر 24فیصد جوابی ٹیرف عائد کیا گیا جبکہ کمبوڈیا پر 49، جنوبی افریقا پر 30، برازیل اور سنگاپورپر10،10 فیصد ٹیرف عائد ہوگا۔ امریکی کی جانب سے عائد نئے ٹیرف کا نفاذ 9 اپریل سے ہوگا۔
دوسری جانب جن ممالک پر "جوابی" محصولات لاگو کیے جا رہے ہیں، ان میں زیادہ تر غریب اور ترقی پذیر معیشتیں شامل ہیں۔ ان میں دنیا کے غریب ترین ممالک جیسے جنوبی سوڈان، برونڈی اور وسطی افریقی جمہوریہ شامل ہیں جبکہ جنگ زدہ ملک سوڈان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا گیا۔
امریکا کی جانب سے اعلان کردہ یہ ٹیرف 100 سے زائد ممالک پر لاگو ہوں گے۔
ٹرمپ کی جانب سے ٹیرف کے اعلان پر اعلیٰ سطح کے ڈیموکریٹس ارکان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔
سینیٹر ران وائیڈن نے ان ٹیرف کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ قیمتوں میں اضافہ کریں گے اور غیر یقینی صورتحال کو بڑھا دیں گے، ٹرمپ کا یہ قلیل مدتی ٹیرف منصوبہ امریکی مینوفیکچرنگ کو بحال نہیں کرے گا اور نہ ہی کام کرنے والے خاندانوں کی مدد کرے گا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ یہ ہر اس چیز پر ٹیکس ہے جو عام لوگ خریدتے ہیں تاکہ ٹرمپ اپنے ارب پتی دوستوں کو ٹیکس میں رعایت دے سکیں۔

بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی
- 19 گھنٹے قبل
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس
- ایک دن قبل

ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے دوسری کامیابی اپنے نام کر لی
- 21 گھنٹے قبل

ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 2 دن قبل
امریکی ایف 16 لڑاکا طیارہ گر کر تباہ، حادثہ کہاں پیش آیا؟
- 16 گھنٹے قبل

مسلح افواج دہشتگردی کو شکست دینے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- ایک دن قبل
کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل
- 2 دن قبل

لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت
- 2 دن قبل

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے
- 2 دن قبل

علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند
- 2 دن قبل

پاکستان اور سعودی عرب: بھائی چارے سے بڑھ کر مضبوط اتحاد
- 27 منٹ قبل
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری
- 19 گھنٹے قبل





