گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے بھی ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ کی جانب آج جمعہ کے روز لانگ مارچ کا اعلان کیا گیاتھا۔


جمہوری وطن پارٹی کے رہنما نوابزادہ گہرام بگٹی کو پولیس نے ڈیرہ بگٹی کے بگٹی ہاؤس سے گرفتار کرلیا۔
ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی نے نوابزادہ گہرام بگٹی کی گرفتاری کےلیے تھری ایم پی او کے تحت احکامات جاری کئے تھے،پولیس کی ٹیم نے بگٹی ہاؤس ڈیرہ بگٹی سے بغیر کسی مزاحمت کے نوابزادہ گہرام بگٹی کو حراست میں لیا۔
خیال رہے کہ نوابزادہ گہرام بگٹی نے بلوچستان حکومت کے خلاف آج لانگ مارچ کا اعلان کیاتھا۔
نوابزادہ گہرام بگٹی کا کہنا تھا کہ وہ لانگ مارچ کرنے کے لیے اپنا آئینی حق استعمال کر رہے ہیں، لیکن انہیں گرفتار کیا جارہا ہے۔
واضح رہےکہ نوابزادہ گہرام بگٹی، طلال اکبر بگٹی کے بیٹے اور اکبر بگٹی کے پوتے ہیں۔
جب ایک پولیس افسر نوابزادہ گہرام بگٹی کو گرفتار کرنے آیا تو اس وقت دلچسپ صورت حال پیدا ہوگئی۔گہرام بگٹی پولیس افسر سے کہتے رہےکہ گرفتار کرنا ہےتو انہیں ہتھکڑی پہنائی جائے،تب وہ جائیں گے۔
اس پر پولیس افسر کا کہنا تھاکہ آپ ہمارے بڑےہیں،عزت دار ہیں، نواب زادہ ہیں۔اس کےبعد نوابزادہ گہرام بگٹی پولیس افسر کے ساتھ چل پڑے۔
یاد رہےکہ گزشتہ روز جمہوری وطن پارٹی کی جانب سے بھی ڈیرہ بگٹی سے کوئٹہ کی جانب آج جمعہ کے روز لانگ مارچ کا اعلان کیا گیاتھا۔
جمہوری وطن پارٹی کے صوبائی رہنما ایڈوکیٹ محمد ابراہیم نے پریس کانفرنس کرتےہوئے کہا کہ نواب گہرام بگٹی نے بلوچ خواتین ماہ رنگ بلوچ سمی دین بلوچ سمیت دیگر رہنماوں کی رہائی کےلیے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا۔ الٹی میٹم کے بعد سمی دین بلوچ کو حکومت سندھ نے رہا کر دیا۔جس کا جمہوری وطن پارٹی نے خیرمقدم کیا۔
محمد ابراہیم ایڈوکیٹ نے کہاکہ لانگ مارچ کو روکنے کےلیے ہر جائز و نا جائز حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکومت سندھ کارکنان کو ہراساں کر رہی ہے جس کی مذمت کرتے ہیں۔
ایڈوکیٹ محمد ابراہیم نے کہاکہ لانگ مارچ کا آغاز 72 گھنٹے گزانے کے بعد 4 اپریل کو ہونا تھا۔ لیکن ہمارے لانگ کو روکنے کےلیے حکومت نے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال شروع کر دیا۔
انہوں نے کہاکہ لانگ مارچ ہر صورت میں ہوگا کل لانگ مارچ اکبر بگٹی کے قلعے سے روانہ ہوگا۔جمہوری وطن پارٹی سیاسی جماعت ہے اور لانگ مارچ ہمارا آئینی حق ہے۔
قبل ازیں بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اعلان کیا تھاکہ وہ 6 اپریل کو صبح 9 بجے ہم کوئٹہ کی جانب اپنے مارچ شروع کریں گے ، اختر مینگل کا کہنا تھاکہ ہم نے اس نااہل اور جعلی حکومت کو بارہا سمجھانے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے ہماری بات سننا تو دور، تسلیم کرنا بھی گوارا نہ کیا۔ اب ہماری آواز کوئٹہ کی گلیوں میں گونجے گی۔
انہوں نےکہا کہ ہمارا مارچ پرامن ہے اور اگر اس پرامن احتجاج کےخلاف کوئی کارروائی کی گئی تو اس کی تمام تر ذمہ داری انتظامیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوگی۔میں ہر بلوچ اور پشتون سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنی بہنوں کے شانہ بشانہ کھڑےہوں۔

گلوکارہ ماریہ میر نے لیجنڈ گائیک استاد حامد علی خاں کی شاگردی اختیار کر لی
- ایک دن قبل

نوشکی: مسلح افرادکی گرلز ڈگری کالج میں فائرنگ، تین طالبات زخمی
- 16 گھنٹے قبل

قومی اسمبلی میں تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے حق میں قرارداد منظور
- 16 گھنٹے قبل

شاہکار’دیوداس‘ اسٹیج پر پیش کیا جائے گا
- ایک دن قبل

گلوکار جبران راحیل کی عالمی سطح پر کامیابیاں، بطور پلے بیک سنگر بھی مداحوں کے دل جیت لیے
- 11 گھنٹے قبل

لاہور: لام فیشن ویک کا آغاز، شوبز ستاروں کی ماڈلز کے ہمراہ ریمپ پر واک
- 3 دن قبل

سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبد الوحید کاکڑ انتقال کرگئے
- 2 دن قبل

پی سی بی نےسری لنکا کے خلاف ٹیسٹ اسکواڈ کا اعلان کر دیا، بابر اعظم کپتان، 3 نئے کھلاڑی شامل
- 3 دن قبل

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کا اعلان کر دیا، شرح سود میں اضافہ
- 2 دن قبل

ایرانی صدر پزشکیان کا مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پر علاقائی اتحاد کے لیے زور
- ایک دن قبل

بھارتی سکیورٹی فورس نے سرکریک سے 4 پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتارکرلیا
- ایک دن قبل

لام فیشن ویک تمام ترجلوے اور رنگینیاں بکھیرتا اختتام پذیر
- 11 گھنٹے قبل





