ممنوعہ جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع ہوئے تو کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہوگا، جسٹس جمال
پاکستان میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ تو شروع سے موجود ہے، کیا ملٹری کورٹس میں زیادہ سزائیں ہوتی ہیں، اس لیے کیسز جاتے ہیں؟جج آئینی بینچ


اسلام آباد:پاکستان سپریم کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیئے اگر ممنوعہ جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع ہوئے تو کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہو گا، ملٹری ٹرائل کے لیے آزادانہ فورم کیوں موجود نہیں؟
تفصیلات کے مطابق جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 7 رکنی آئینی بینچ نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کی۔
دوران سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس نعیم اختر افغان نےریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کنٹونمنٹ کے اندر شاپنگ مالز بن گئے ہیں، اگر میں زبردستی اندر داخل ہوں تو کیا میرا بھی ملٹری ٹرائل ہو گا؟۔
جسٹس امین الدین نے ریمارکس دیے کہ شق 175 کے پارٹ کو کسی نے چیلنج نہیں کیا، جسٹس جمال مندو خیل نے استفسار کیا کہ کیا 175 سے ہٹ کر بھی سویلینز کے ملٹری ٹرائل کی اجازت ہے؟ ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں جو کمی ایف بی علی میں تھی وہ آج بھی ہے۔
کیس کی سماعت کےدوران جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ ڈیفنس آف پاکستان اور ڈیفنس سروسز آف پاکستان دو علیحدہ چیزیں ہیں، وزارت دفاع کے وکیل خواجہ حارث نے موقف اپنایا کہ سول ڈیفنس کا ملک کے ڈیفنس سے کوئی تعلق نہیں ، اس میں جرم اس نوعیت کا ہونا چاہیے جو آرمڈ فورسز پر اثر کرے، سروس میں تو سارے ممبر آف آرمڈ فورسز آجاتے ہیں، 8 تھری اے میں دیکھیں ڈسپلن کی بات ہو رہی ہے۔
جسٹس نعیم اختر افغان نے استفسار کیا کہ کیا ممنوع جگہ پر داخل ہونا بھی خلاف ورزی میں آتا ہے؟ کنٹونمنٹ کے اندر شاپنگ مالز بن گئے ہیں، اگر کسی دن مجھے اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو؟ اگر میرے پاس، اجازت نامہ نہیں اور میں زبردستی اندر داخل ہوں تو کیا میرا بھی ملٹری ٹرائل ہو گا؟۔
جس پر وکیل خواجہ حارث نے کہا کہ ایسا تب ہو گا جہاں کسی علاقے کو ممنوعہ قرار دیتے ہوئے اسے نوٹیفائی کیا گیا ہو، جسٹس مظہر نے کہا ممنوع جگہوں میں کون کون سی جگہیں آتی ہیں؟ اس کی تعریف پڑھ دیں۔
دوسری جانب کیس میں دوران سماعت جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے اگر ممنوع جگہوں پر جانے پر ملٹری ٹرائل شروع ہوئے تو کسی کا بھی ملٹری ٹرائل کرنا بہت آسان ہو گا، ملٹری ٹرائل کے لیے آزادانہ فورم کیوں موجود نہیں؟۔
جسٹس مظہر نے ریمارکس دیے کہ کراچی میں 6 سے 7 کینٹ ایریاز ہیں، وہاں ایسا تو نہیں کہ مرکزی شاہراہوں کو بھی ممنوعہ علاقہ قرار دیا گیا ہو۔
دوران سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا ہم سپریم کورٹ کے 5 سے 6 ججز کلفٹن کینٹ کے رہائشی ہیں، وہاں تو ممنوعہ علاقہ نوٹیفائڈ نہیں، جسٹس جمال مندو خیل نے ریمارکس دیے کہ مجھے ایک مرتبہ اجازت نامہ نہ ہونے کے سبب کینٹ ایریا میں داخل نہیں ہونے دیا گیا۔
گیا۔
انہوں نے ریمارکس میں مزید کہا کہ ڈیفنس آف پاکستان کی تعریف میں جائیں تو سپریم کورٹ، پارلیمنٹ، ریلوے اسٹیشنز بھی ڈیفنس آف پاکستان کی تعریف میں آتے ہیں، پاکستان میں آفیشل سیکریٹ ایکٹ تو شروع سے موجود ہے، کیا ملٹری کورٹس میں زیادہ سزائیں ہوتی ہیں، اس لیے کیسز جاتے ہیں؟
بعد ازاں عدالت نے فوجی عدالتوں میں سویلینز کے ٹرائل سے متعلق کیس کی سماعت 15 اپریل تک ملتوی کر دی۔
وزیر خارجہ کی امریکی ناظم الامور نیتالی بیکر سے ملاقات،قیام امن اور جنگ میں توسیع کی تجویز
- a day ago

سی ٹی ڈی کی کراچی میں کامیاب کارروائی،کالعدم تنظیم کے متعدد کارندے گرفتار
- a day ago

امریکا کے ساتھ مجوزہ مذاکرات میں شرکت کا حتمی فیصلہ تاحال نہیں ہوا،ایران
- a day ago

اسلام آباد امن مذاکرات میں شرکت کیلئے ایرانی جواب کا تاحال انتظار ہے،عطا تارڑ
- a day ago
مایہ نازمزاحیہ اداکار معین اختر کی آج پندرہویں برسی منائی جا رہی ہے
- 5 hours ago

اسحاق ڈار کا سعودی وزیر خارجہ سے ٹیلیفونک رابطہ، خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال
- a day ago
اپنے اثر و رسوخ کو ایشیا و بحرالکاہل کے خطے تک پھیلانے کی کوششیں نیٹو کو زوال سے نہیں بچا سکیں گی، چینی اخبار
- 4 hours ago

پاکستان اور ایران کاعلاقائی استحکام کیلئے مل کر کام کرنے پر اتفاق
- 6 hours ago

سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز بھی نمایاں کمی، فی تولہ کتنے کا گیا؟
- a day ago
.jpg&w=3840&q=75)
پنجاب حکومت کا مہلک بیماریوں سے بچاؤ کیلئے صوبے بھر میں آگاہی مہم چلانے کا فیصلہ
- a day ago
نئی آئی سی سی پلیئرز رینکنگ: ون ڈے بیٹرز میں بابراعظم کا چھٹا نمبر
- 4 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
جنگ بندی میں توسیع نہیں کرنا چاہتا،ایران کے پاس معاہدے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے،ٹرمپ
- a day ago











