اسرائیل ،فلسطین کوآزاد ریاست تسلیم کرلے تو مسلم ممالک کے مجوزہ اتحاد میں شامل ہوسکتا ہے،ہاقان فیدان
اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں،ترک وزیر خارجہ


انقراہ:ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان نے مشرقِ وسطیٰ میں ایک نئے سیکیورٹی اتحاد کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اسرائیل 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کرلے تو وہ بھی پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کے مجوزہ سیکیورٹ اتحاد کا حصہ بن سکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ترک وزیرِ خارجہ ہاکان فیدان نے جاپانی اخبار نکی ایشیا کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں مشرقِ وسطیٰ کے لیے ایک نئے علاقائی سکیورٹی ڈھانچے کا تصور پیش کر دیا ہے، جس میں پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب، مصر اور خلیجی ممالک کو شامل کیا گیا ہے۔
انٹرویو میںترک وزیرِ خارجہ نے اس اتحاد کو خطے کے ممالک کے لیے ایک سنہری موقع قرار دیا اور کہا کہ تمام ریاستوں کو ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری اور سلامتی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ یہ مجوزہ اتحاد پاکستان سے خلیجِ فارس تک پھیلے ممالک کو ایک مشترکہ تعاون کے فریم ورک میں جوڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں حالات معمول پر آنے کی صورت میں ایران کو بھی اس نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔
دورا ن انٹرویو اسرائیل کے ممکنہ کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ اس کی شمولیت فلسطین تنازع کے حل سے مشروط ہوگی۔انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل مسئلہ فلسطین کے حل پر راضی ہوتا ہے تو میرا خیال ہے کہ خطے کے ممالک اسرائیل کی سلامتی میں بھی اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ہاکان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی ایک طویل تاریخ موجود ہے۔ دونوں ممالک 1949 سے سفارتی تعلقات رکھتے ہیں اور غزہ جنگ سے قبل دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 10 ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ تاہم غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد ترکیہ نے اس تجارتی سلسلے کو معطل کر دیا تھا۔
انٹرویو کے دوران انہوں نے غزہ، مغربی کنارے، شام اور لبنان میں اسرائیلی فوج کی موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو اسرائیل کو ایسے اقدامات سے روکنا چاہئے جو نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی نظامِ امن و استحکام کو بھی متاثر کر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ فلسطین کا منصفانہ حل اور دو ریاستی فارمولے پر پیش رفت ناگزیر ہے، جس کے بغیر خطے میں دیرپا استحکام کا حصول مشکل ہوگا۔
خیال رہے کہ ہاکان فیدان کے یہ بیانات اس سوال کے جواب میں سامنے آئے جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ترکیہ سمیت مسلم ممالک کو ’ابراہام معاہدے‘ میں شامل کرنے کی مبینہ کوششوں کا ذکر کیا تھا۔
ابراہام معاہدے اسرائیل اور متعدد عرب ممالک کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے طے پانے والے ایک معاہدہ ہے، جس کا آغاز صدر ٹرمپ کے پہلے صدارتی دور میں ہوا تھا۔
امریکی پابندیوں، بحری ناکہ بندی سے ایرانی تجارت 35 فیصد سکڑ گئی، صدر مسعود پزشکیان
- a day ago

وزیراعظم کا پاکستان، سعودی عرب کے درمیان اقتصادی و زرعی تعاون بڑھانے پر زور
- 2 days ago
ناروے کے بادشاہ کا 89 سال کی عمر میں انتقال
- 2 days ago
فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ہارورڈ بزنس سکول کے طلبہ کے وفد کی ملاقات
- 2 days ago
لاہور چیمبر کی ایکسپورٹ کمیٹی نے ایک سالہ کارکردگی پیش کردی
- 2 hours ago

ملک میں سونا اچانک سستا، قیمت میں بڑی کمی
- a day ago
لارڈز ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلینڈ کے خلاف پاکستان ٹیم 110 رنز پر ڈھیر
- 2 days ago

پمز آتشزدگی: وزیراعظم نے ایگزیکٹو ڈائریکٹرسمیت 8 افرادکو معطل کردیا، فوجداری کارروائی کی ہدایت
- 19 hours ago

فیلڈ مارشل عاصم منیر کا پاکستان آرڈیننس فیکٹریز واہ کا دورہ، پیداواری صلاحیتوں کا جائزہ لیا
- a day ago
ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہنے کا امکان
- 2 days ago

پی کے 404: 37 سال سے لاپتہ طیارے کا راز برقرار
- a day ago
انسپکٹر جمشید پر بننے والی فلم کا پہلا ٹریلر جاری
- 2 days ago




