بھارت بوکھلاہٹ کا شکار،جی این این سمیت معتدد پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی عائد
بھارت کی جانب سے جن یوٹیوب چینلز پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے مجموعی سبسکرائبرز کی تعداد 63 ملین سے بھی زیادہ ہے


نئی دہلی:پہلگام فالس فلیگ آپریشن کے بعد انتہا پسند مودی حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئی،جی این این سمیت معتددپاکستانی نیوز چینلز پر پابندی عائد کر دی۔
پہلگام واقعہ کے بعدبھارت کوپاکستانی میڈیا کی جانب سے پیش سچ ایک آنکھ نہ بھایا اور دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور آزادی اظہار کے علمبردار ہونے کے دعویدار بھارت نے پہلگام واقعے پر حقائق نشر کرنے والے پاکستان چینلز پر پابندی عائد کی۔
تفصیلات کے مطابق پہلگام فالیس فلیگ آپریشن اور جھوٹا پروپیگنڈا ناکام ہونے پر انتہا پسند اور جنگی جنون میں مبتلا بھارتی حکومت نے جی این این سمیت دیگر 16 پاکستانی نیوز چینلز پر پابندی عائد کر دی۔
بھارتی پابندی کا شکار ہونے والے چینلز میں جی این این نیوز کے علاوہ’ ڈان نیوز‘، سما ٹی وی، اے آر وائی نیوز، بول نیوز، جیو نیوز، رفتار، سنو اور صحافیوں کے چینلز جن میں عاصمہ شیرازی، ارشاد بھٹی، عمر چیمہ، منیب فاروق، پاکستان ریفرنس، سما اسپورٹس، عزیر کرکٹ اور رضی نامہ شامل ہیں۔

ان چینلز نے بھارت کے فالس فلیگ آپریشن سمیت دیگر جھوٹے دعوؤں کی قلعی کھول کر رکھ دی تھی جس کے بعد ان پر بھارت اور بھارتی فوج کے خلاف گمراہ کن معلومات پھیلانے کا الزام لگایا گیا ہے،جس کے بعد بھارتی وزارت داخلہ کی سفارش پر پابندی عائد کی گئی۔
بھارت کی جانب سے جن یوٹیوب چینلز پر پابندی لگائی گئی ہے ان کے مجموعی سبسکرائبرز کی تعداد 63 ملین سے بھی زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام کے سیاحتی مقام پر فائرنگ کے واقعے میں 26 افراد ہلاک اور ایک درجن کے قریب زخمی ہو گئے تھے جس کے بعد بھارت نے بنا کسی ثبوت کے پاکستان پر الزام تراشی شروع کردی اور سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کردیا۔
تاہم دوسری طرف پاکستان کی جانب سے پہلگام واقعے کی ناصرف مذمت کی گئی بلکہ وزیراعظم شہباز شریف نے یہ پیشکش بھی کی کہ اگر بھارت معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کروانا چاہتا ہے تو پاکستان ہر قسم کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

فیلڈمارشل کا ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کے حوالے سے صدرٹرمپ سے رابطہ، رائٹرز کا دعویٰ
- 16 گھنٹے قبل

محسن نقوی کی ایرانی سفیررضا مقدم سے ملاقات،مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کیلئے سفارتی حل پرزور
- 10 گھنٹے قبل

بنوں: سیکیورٹی فورسزکی کامیاب کارروائی، فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے 2 خوارجی جہنم واصل
- 15 گھنٹے قبل

ایران اپنے جوہری ہتھیاروں سے دستبردار ہونا پڑےگا ، اس معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا، صدر ٹرمپ
- 10 گھنٹے قبل

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونا اچانک ہزاروں روپے سستا ،نئی قیمت کیاہو گئی؟
- 16 گھنٹے قبل

وزیراعظم شہباز شریف کا یورپی کونسل کے صدر سے ٹیلی فونک رابطہ،مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو
- 10 گھنٹے قبل

ایران کے معاملے میں روس ثالث نہیں لیکن ضرورت پڑنے پر ہم مدد کے لیے تیار ہیں،کریملن
- 9 گھنٹے قبل

ایران اور امریکا کے مابین مذاکرات کل اسلام آباد میں ہونگے،امریکی وفدآج پہنچے گا
- 14 گھنٹے قبل

وزیر خارجہ کا عباس عراقچی سے ٹیلیفونک رابطہ امن و استحکام اور مذاکرات کےحوالے سے تبادلہ خیال
- 10 گھنٹے قبل

جاپان میں 7.5 شدت کا زلزلہ،عمارتیں لرز اٹھیں، سونامی کا خطرہ
- 15 گھنٹے قبل

پاکستان مصر مشترکہ فوجی مشق "تھنڈر ٹو" کامیابی سے مکمل،افواج کااعلیٰ پیشہ ورانہ مہارت اور عملی صلاحیتوں کا مظاہرہ
- 13 گھنٹے قبل

محسن نقوی کی امریکی سفیر نیٹلی بیکرسے ملاقات، پاک امریکہ تعلقات اور مذاکرات کے حوالے سے تبادلہ خیال
- 13 گھنٹے قبل








