Advertisement
پاکستان

خیبرپختونخوا میں KPCIP منصوبے میں 32 ارب کا اسکینڈل، پی اے سی نے نوٹس لے لیا

کمپنی نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Jul 13th 2025, 9:18 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
خیبرپختونخوا میں KPCIP منصوبے میں 32 ارب کا اسکینڈل، پی اے سی نے نوٹس لے لیا

خیبرپختونخوا میں ایک اور بڑے مالیاتی اسکینڈل کا انکشاف ہوا ہے، جہاں کے پی سٹیز امپروومنٹ پراجیکٹ (KPCIP) میں مبینہ طور پر 32 ارب روپے کی بے ضابطگیاں سامنے آئی ہیں۔ اس صورتحال پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے فوری نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، سرکاری دستاویزات سے پتا چلا ہے کہ یہ منصوبہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک، ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک اور خیبرپختونخوا حکومت کی شراکت سے شروع کیا گیا تھا، جس کا مقصد پشاور، مردان، ایبٹ آباد، کوہاٹ اور مینگورہ سمیت متعدد شہروں میں شہری انفراسٹرکچر اور بلدیاتی خدمات کو بہتر بنانا تھا۔

دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک غیر رجسٹرڈ کمپنی کو ٹھیکہ دیا گیا، جو نہ صرف ایف بی آر، کے پی ریونیو اتھارٹی اور پاکستان انجینئرنگ کونسل سے غیر منظور شدہ تھی، بلکہ اس کی قانونی حیثیت ٹینڈرنگ کے وقت بھی مشکوک تھی۔ اس کے باوجود، کمپنی کو جعلی یا گمراہ کن پیش رفت رپورٹس کی بنیاد پر 32 ارب روپے کی ادائیگیاں کر دی گئیں۔

مزید برآں، کمپنی نے ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس سے متعلق کوئی ریکارڈ فراہم نہیں کیا، جس سے قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچا۔

اس سنگین صورتحال پر ایم پی ایز سجاد اللہ، محمد ریاض، تاج محمد، منیر حسین لغمانی اور پی ٹی آئی کے محمد عارف نے چیئرمین پی اے سی کو باضابطہ خط ارسال کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کو نیب، ایف بی آر اور دیگر تحقیقاتی اداروں کے سپرد کیا جائے۔ ان اراکین نے ان افسران کو بھی کٹہرے میں لانے کا مطالبہ کیا جنہوں نے جعلی یا نامکمل دستاویزات پر ادائیگیوں کی منظوری دی۔

چیئرمین پی اے سی اور اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے فوری کارروائی کرتے ہوئے جمعرات کے روز اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اس اجلاس میں ڈپٹی آڈیٹر جنرل (نارتھ)، سیکریٹری مواصلات و تعمیرات، اور سیکریٹری بلدیات و دیہی ترقی کو بھی طلب کیا گیا ہے۔

Advertisement
Advertisement