پولیس ایف آئی آر درج کرنے کی پابند ہے، انصاف کے دروازے بند نہ کیے جائیں: سپریم کورٹ
فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا، جس کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے، جبکہ دیگر ججز میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان شامل تھے


سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک اہم اور تفصیلی فیصلے میں قرار دیا ہے کہ پولیس کی جانب سے ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر یا انکار، خاص طور پر کمزور اور محروم طبقات کے مقدمات میں، اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہے، جس سے عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مجروح ہوتا ہے۔
یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے سنایا، جس کی سربراہی جسٹس اطہر من اللہ کر رہے تھے، جبکہ دیگر ججز میں جسٹس عرفان سعادت اور جسٹس ملک شہزاد احمد خان شامل تھے۔ 30 صفحات پر مشتمل یہ فیصلہ "سیتا رام" نامی ملزم کی جیل اپیل کے تناظر میں جاری کیا گیا، جسے عمرکوٹ میں قتل کے الزام پر سزائے موت سنائی گئی تھی۔
فیصلے کے اہم نکات:
جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں تحریر کیا کہ فوجداری قانون کی دفعہ 154 کے تحت پولیس اسٹیشن انچارج ایف آئی آر درج کرنے کا پابند ہے۔ اس میں تاخیر یا انکار نہ صرف قانونی خلاف ورزی ہے بلکہ انصاف کے عمل پر سوالیہ نشان بھی ہے۔
عدالت نے کہا کہ یہ طرزِ عمل پولیس اسٹیٹ کی عکاسی کرتا ہے، نہ کہ ایک ایسی آئینی ریاست کی جہاں قانون کی حکمرانی ہو۔ اگر پولیس طاقتور طبقے کی محافظ بن جائے تو عام شہری اسے ریاست کا ادارہ نہیں، طاقتوروں کا آلہ کار سمجھنے لگتا ہے۔
سیتا رام کیس کا پس منظر:
عدالت نے سیتا رام کو مقدمے میں ناقابلِ اعتبار شواہد اور تحقیقات میں بے ضابطگیوں کے باعث بری کر دیا۔ فیصلے میں اس مقدمے کو "برف کی چوٹی" سے تعبیر کیا گیا جو پورے نظامِ انصاف میں موجود خرابیوں کو ظاہر کرتا ہے۔
ناقابلِ قبول جواز:
عدالت نے سندھ پولیس چیف اور قائم مقام پراسیکیوٹر جنرل کی طرف سے پیش کردہ جواز — جیسے ثقافتی رسوم، فریقین کی رضامندی، مصالحت، مذہبی وجوہات یا طبی مسائل — کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جواز صرف غیر جمہوری نظاموں میں دیے جا سکتے ہیں، نہ کہ ایک آئینی ریاست میں۔
آئندہ کے لیے ہدایات:
سپریم کورٹ نے تمام صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت دی کہ وہ ایسے ایس او پیز (SOPs) بنائیں جن کے ذریعے پولیس کے جانب سے ایف آئی آر میں تاخیر یا انکار کی روک تھام ممکن ہو۔ ساتھ ہی پراسیکیوٹر جنرلز کو مشورہ دیا کہ پولیس کو قانونی دائرے میں رہ کر کام کرنے کی تربیت دی جائے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں زور دیا کہ "حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ پولیس کو دباؤ کا آلہ نہیں بلکہ عوام کی خدمت کا ادارہ بنایا جائے۔"

ایشین گیمز: پاکستان کبڈی اور ہاکی ٹیموں نے دوسری کامیابی اپنے نام کر لی
- 5 hours ago

علیمہ خان کے بعد عمران خان کی بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی نظربند
- a day ago

ملک میں سونے کی قیمت مزید کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- a day ago

بلوچستان میں مسلح افراد کا مند کے کسٹمز اسٹیشن پر حملہ، دفتر کو آگ لگادی، سپاہی زخمی
- 3 hours ago

اسٹیج اور ٹی وی کے سینئر فنکار آصف اقبال منوں مٹی تلے جا سوئے
- a day ago

ساڑھے سترہ لاکھ سے زائد افراد فیول ریلیف سکیم میں رجسٹرڈ ہو چکے ہیں، شزہ فاطمہ
- 3 days ago

مسلح افواج دہشتگردی کو شکست دینے اور ملک میں پائیدار امن و استحکام یقینی بنانے کیلئے پرعزم ہیں: فیلڈ مارشل عاصم منیر
- 6 hours ago

لاہور ہائیکورٹ کی این سی سی آئی اےکو محمد رضوان کو ہراساں نہ کرنے کی ہدایت
- a day ago
کے پی اور پاک افغان سرحدی علاقے میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیاں، 37 دہشتگرد جہنم واصل
- a day ago

پیٹرول ریلیف اسکیم: 5 لیٹر سے کم پیٹرول ڈلوانے والوں کے لیے بھی رعایت کا اعلان
- 3 days ago
ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں کمی کا رجحان جاری
- 3 hours ago
پی ٹی آئی حکومت سے مذاکرات کیلئے تیارہو گئی، راجا ناصر عباس
- 19 hours ago


