فرانسیسی وزیراعظم نے اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کیلئے 8 ستمبر کو پارلیمنٹ کا اجلاس طلب کر لیا
فرانسوا بیرو کے پاس ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پہلے ہی واضح اکثریت نہیں ہے


فرانس کے وزیراعظم فرانسوا بیرو نے اعلان کیا ہے کہ ان کی حکومت 8 ستمبر کو قومی اسمبلی میں اعتماد کا ووٹ طلب کرے گی۔
اس اقدام کو ملک میں بڑھتے ہوئے عوامی قرضے کے بحران کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جو ان کی اقلیتی حکومت کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن سکتا ہے۔
بیرو نے پیرس میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ’’میں نے صدر سے درخواست کی ہے، اور انہوں نے منظوری دے دی ہے، کہ پیر 8 ستمبر کو پارلیمنٹ کا غیر معمولی اجلاس بلایا جائے۔‘‘ ان کے مطابق حکومت تقریباً 44 ارب یورو (51 ارب ڈالر) سالانہ بچت کے اقدامات کرنے جا رہی ہے تاکہ فرانس کے مالیاتی خسارے کو کم کیا جا سکے۔
وزیراعظم کے اعلان کے فوراً بعد ہی دائیں بازو کی انتہا پسند جماعت نیشنل ریلی (آر این) کے رہنما جارڈن بارڈیلا نے واضح کر دیا کہ ان کی جماعت مجوزہ کٹوتیوں کی حمایت نہیں کرے گی۔
انہوں نے کہا: ’’فرانسوا بیرو نے ابھی اپنی حکومت کے خاتمے کا اعلان کیا ہے، جو اپنی غفلت آمیز بے عملی سے کھوکھلی ہو چکی ہے۔ آر این ایسی حکومت کے حق میں کبھی ووٹ نہیں دے گی جس کے فیصلے عوام کو اذیت پہنچاتے ہیں۔‘‘
اسی طرح سخت بائیں بازو کی جماعت فرانس انبووڈ (ایل ایف آئی) نے بھی حکومت کے خلاف ووٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ آنے والے دنوں میں بیرو کی حکومت کو شدید دباؤ اور شکست کے خطرے کا سامنا ہے۔
فرانسوا بیرو کے پاس ایوان زیریں قومی اسمبلی میں پہلے ہی واضح اکثریت نہیں ہے۔ اگر ان کی حکومت اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہتی ہے تو اس کا مطلب ہوگا کہ انہیں اقتدار چھوڑنا پڑے گا اور ممکنہ طور پر ملک میں نئے انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔
یاد رہے کہ جولائی میں فرانسوا بیرو نے 2026 کے بجٹ کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ قومی تعطیلات کی تعداد کم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تاکہ پیداواری صلاحیت بڑھے اور مالی بحران پر قابو پایا جا سکے۔ انہوں نے بڑھتے ہوئے قرض کو ’’ملک پر لعنت‘‘ قرار دیا تھا۔
یورپی یونین کے قوانین کے مطابق، فرانس کو اپنے عوامی خسارے کو قابو کرنے اور قرضوں کو کم کرنے کی سخت ہدایات ملی ہیں کیونکہ کئی برسوں سے مقررہ اخراجاتی حد عبور کی جا رہی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر وزیراعظم بیرو کو ووٹ میں شکست ہوتی ہے تو یہ نہ صرف ان کی حکومت کا خاتمہ ہوگا بلکہ فرانس کے سیاسی منظرنامے میں ایک نیا بحران کھڑا ہو جائے گا۔ اس صورت میں نیشنل ریلی جیسی جماعتوں کے لیے انتخابات کا راستہ کھل سکتا ہے جو حالیہ برسوں میں مقبولیت میں اضافہ کر چکی ہیں۔

وفاقی حکومت کا کسانوں کو 300ارب کے بلاسود قرضے دینے کا اعلان
- 6 hours ago

سینیٹ کا اجلاس پیر کو طلب، پانچ نکاتی ایجنڈا جاری
- 7 hours ago

امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے کی اہم شقیں سامنے آ گئیں
- 9 hours ago

خیبرپختونخوا صوبائی حکومت کی نا اہلی کے باعث پارا چنار بنیاد ی سہولتوں سے محروم
- 6 hours ago

چیئرمین یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد کی پنجاب یونیورسٹی کے فلم اینڈ براڈکاسٹنگ ڈیپارٹمنٹ کو مکمل تعاون کی یقین دہانی
- a day ago

کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےاحتجاج پرآزاد کشمیرکےعوام کا شدید ردعمل
- 6 hours ago

وویمنر ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ :بھارت کا پاکستان کے خلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ
- 7 hours ago
.jpg&w=3840&q=75)
اسحاق ڈار اور ترک وزیر خارجہ کا رابطہ، ایران امریکا پیشرفت پر اطمینان کا اظہار
- 9 hours ago

شوبز حلقوں میں جوش، عون علی خان نئی فیچر فلم "ریڈ لائن" کا حصہ بن گئے
- 6 hours ago

افغانستان میں موجود دہشت گرد پورے خطے کیلئے بڑا خطرہ ہے،دی ڈپلومیٹ
- 9 hours ago

ملک میں معاشی استحکام آ چکا، حکومت نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کیا ہے،عطا تارڑ
- 7 hours ago

اسحاق ڈارکا سعودی وزیر خارجہ سے ا ٹیلیفونک رابطہ،امریکہ،ایران مذاکرات کا خیرمقدم
- a day ago













