Advertisement
پاکستان

جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط: 6 اہم عدالتی معاملات پر وضاحت طلب

خط میں جسٹس منصور نے کہا کہ "بطور سینئر جج، ادارے کی ذمہ داری کے تحت آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ اس سے قبل بھی متعدد بار خطوط ارسال کیے، لیکن تاحال کسی کا جواب موصول نہیں ہوا

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 5th 2025, 9:47 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
جسٹس منصور علی شاہ کا چیف جسٹس کو خط: 6 اہم عدالتی معاملات پر وضاحت طلب

سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی کو سات صفحات پر مشتمل ایک تفصیلی خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے چھ اہم عدالتی امور پر وضاحت طلب کی ہے۔

خط میں جسٹس منصور نے کہا کہ "بطور سینئر جج، ادارے کی ذمہ داری کے تحت آپ کو یہ خط لکھ رہا ہوں۔ اس سے قبل بھی متعدد بار خطوط ارسال کیے، لیکن تاحال کسی کا جواب موصول نہیں ہوا۔"

خط میں انہوں نے خاص طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کے خلاف دائر درخواستوں پر فل کورٹ کیوں نہیں تشکیل دیا گیا؟

جسٹس منصور علی شاہ کے دیگر سوالات میں درج ذیل امور شامل ہیں:

پریکٹس اینڈ پروسیجر کمیٹی کا اجلاس کیوں نہیں بلایا گیا؟

سپریم کورٹ رولز کی منظوری سرکولیشن کے ذریعے کیوں دی گئی؟

اختلافی نوٹ جاری کرنے کے لیے انفرادی مشاورت کی پالیسی کیوں اپنائی جا رہی ہے؟

ججز کی رخصت سے متعلق جنرل آرڈر جاری کرنے کی بنیاد کیا ہے؟

ججز کو "کنٹرولڈ فورس" کے طور پر رکھنے کی حکمت عملی کیا ہے؟

فل کورٹ اجلاس کے انعقاد سے متعلق شفاف پالیسی کیوں نہیں اپنائی گئی؟

جسٹس منصور علی شاہ نے امید ظاہر کی ہے کہ نئے عدالتی سال کی افتتاحی تقریب کے موقع پر ان سوالات کے جوابات سامنے لائے جائیں گے۔

Advertisement