دریائے چناب کا سیلاب تحصیل شجاع آباد اور تحصیل جلالپور میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے


پنجاب کے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ میں کمی نہ آسکی، دریائے چناب میں ہیڈ تریمو پر اونچے درجےکا سیلاب برقرار ہے جہاں بہاؤ بڑھ کر5 لاکھ 8 ہزار کیو سک ہو گیا۔
حکام نے بتایا کہ ملتان سے گزرنے والا دریائے چناب کا سیلاب تحصیل شجاع آباد اور تحصیل جلالپور میں تباہی مچاتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔
انتظامیہ کے مطابق 2 دریاؤں کے سنگم پر واقع ہونے کی وجہ سے ضلع ملتان میں سب سے زیادہ نقصانات تحصیل جلال پور پیر والہ میں ہوئے جہاں 50 سے زائد مواضعات متاثر ہو ئے ہیں۔محکمہ انہار کے مطابق شہر کو بچانے کے لئے 8کلومیٹر لمبا عارضی بند تیزی سے بنایا جا رہا ہے۔
ملتان اکبر فلڈ بند اور شیر شاہ فلڈ بند پر پانی کے بہاؤ میں وقتی طور پر کچھ کمی آ گئی ہے، 48 گھنٹے سے پانی کی سطح 394 فٹ پر موجود ہے شیر شاہ فلڈ بند کو مزید مضبوط بنانے کےلیے بند پر مسلسل مٹی ڈالنے کا عمل جاری ہے۔
ادھر ہیڈ پنجند پر بھی اونچے درجےکا سیلاب ہے جہاں پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 70 ہزار کے قریب پہنچ گیا۔ چنیوٹ کے مقام پر بھی درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے اور اس مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ہیڈ سلیمانکی پر اونچے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کے سیلاب ہیں۔
دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی اور سدھنائی پر اونچے درجے کے سیلاب ہیں، ہیڈ بلوکی پر بہاؤ ایک لا کھ 54 ہزار کیوسک ہو گیا جبکہ ہیڈ سدھنائی پر پانی کے بہاؤ میں کمی کا سلسلہ جاری ہے جہاں پانی کا بہاؤ کم ہو کر 91 ہزار کیوسک رہ گیا ہے۔
علی پور میں سپر بند کے ٹوٹنے سے درجنوں مواضعات زیر آب آ گئے ہیں۔ موضع عظمت پور کے علاقے میں سپر بند ٹوٹنے سے تحصیل علی پور کے وسیع علاقے میں پانی داخل ہوگیا، جس کے نتیجے میں لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
بہاولنگر میں سیلاب کی شدت نے 143 دیہات کو زیر آب کر دیا ہے اور ایک لاکھ سے زائد افراد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ اس علاقے میں سیلاب نے گھروں، فصلوں اور دیگر ضروریات زندگی کو تباہ کر دیا ہے، جس سے مقامی عوام شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی آئی ہے، لیکن اس کے باوجود اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، جس سے مزید علاقوں میں پانی کی آمد کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
اسی دوران، دریائے راوی کے مائی صفوراں بند سے نکلنے والے سیلابی ریلے نے کبیروالا کے 40 دیہات کو ڈبو دیا ہے، جس سے 80,000 سے زائد افراد بے گھر ہو گئے ہیں۔ سیلاب نے فصلوں، گھروں اور سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
عمران ہاشمی کا نیا گیت "مجبوریاں" ریلیز
- 4 hours ago

لندن کی تقریب میں پاکستانی اداکارہ چھا گئیں، تصاویر اور ویڈیوز وائرل
- 9 hours ago

الخدمت فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام فلسطینی طلبہ کی گریجویشن تقریب، 38 نوجوانوں نے ڈینٹل سرجری کی ڈگریاں حاصل کر لیں
- 8 hours ago
نورین نیازی کیخلاف پیکا ایکٹ کے تحت مقدمہ درج، وجہ سامنے آگئی
- 10 hours ago
آزاد کشمیر انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ جاری
- a day ago
جنرل سید عامر نےکمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈکا منصب سنبھال لیا، فیلڈ مارشل سے بھی ملاقات
- a day ago

پاکستان پیپلز پارٹی حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی، گورنر پنجاب
- a day ago

سابق قومی کرکٹر کے گھر افسوسناک حادثہ، 10 ماہ کی بیٹی زندگی کی بازی ہار گئی
- 9 hours ago

سونا خریدنے والوں کے لیے بڑی خبر، قیمت میں اچانک کمی
- 9 hours ago
آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ: تمام 13 حلقوں کے نتائج مکمل، ن لیگ کو 9 نشستوں کیساتھ برتری، پیپلزپارٹی کا دوسرا نمبر
- 10 hours ago

پاکستان میں مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود کتنا ہو گیا؟
- a day ago
29 جولائی کوعام تعطیل کا سرکاری اعلان کر دیا گیا
- a day ago


