Advertisement

انتخابات میں شکست پر جاپانی وزیرِ اعظم شیگیرو اشیبا نے استعفیٰ دے دیا

ان کے مستعفی ہونے کے بعد نئے لیڈر کے انتخاب کے لیے دوڑ شروع ہوگی، جس میں شینجرو کوئزوومی اور سانائے تاکائیچی کے نام نمایاں سمجھے جا رہے ہیں،رپورٹ

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 7th 2025, 7:14 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
انتخابات میں شکست پر جاپانی وزیرِ اعظم شیگیرو اشیبا نے استعفیٰ دے دیا

ٹوکیو:جاپان کے وزیرِ اعظم شیگیرو اشیبا نے اتوار کو ہونے والےانتخابات میں شکست کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، جس سے دنیا کی چوتھی سب سے بڑی معیشت کے لیے پالیسی کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہو گا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 68 سالہ اشیبا، جنہوں نے امریکا کے ساتھ تجارتی معاہدے کی آخری تفصیلات طے کی تھیں تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ٹیرف دبائو کو کم کیا جا سکے، نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ انہیں انتخابات میں تسلسل سے شکستوں کی ذمہ داری قبول کرنی ہے۔

انہوں نے اپنی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی کو ہدایت دی کہ وہ ایمرجنسی لیڈرشپ ریس منعقد کرے، اور کہا کہ وہ اپنے جانشین کے منتخب ہونے تک اپنے فرائض جاری رکھیں گے۔

ان کے مستعفی ہونے کے بعد حکمران جماعت کے نئے لیڈر کے انتخاب کے لیے دوڑ شروع ہوگی، جس میں شینجرو کوئزوومی اور سانائے تاکائیچی جیسے رہنماؤں کے نام نمایاں سمجھے جا رہے ہیں۔

جاپانی وزیراعظم کے استعفیٰ کا فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب کچھ ہفتے قبل انہوں نے ان رپورٹس کی تردید کی تھی کہ وہ جولائی میں ہونے والے انتخابات میں ایل ڈی پی کی تاریخی ناکامی کے بعد عہدہ چھوڑنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں،اس وقت جاپانی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ وہ امریکا کے ساتھ ٹیرف معاہدے کو یقینی بنانا چاہتے ہیں۔

واضح رہے کہ انہوں نے اکتوبر 2024 میں وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا تھا، مگر اکتوبر میں ہی انتخابی ناکامی کے بعد ان کی جماعت کو پارلیمان کے ایوان زیریں میں اکثریت سے محروم ہونا پڑا تھا، اس ناکامی نے شیگیرو اشیبا کے لیے پالیسیوں کا نفاذ مشکل بنا دیا تھا۔

Advertisement