Advertisement
پاکستان

مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ روکنا ایجنڈے میں شامل تھا ، اسحاق ڈار

وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی وزیرِ خارجہ اس مسئلے پر مسلسل رابطے میں رہے اور پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Sep 30th 2025, 6:59 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضہ روکنا ایجنڈے میں شامل تھا ، اسحاق ڈار

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ آٹھ اسلامی ممالک کے مشترکہ منصوبے کے تحت فلسطین میں امن فورس تعینات کی جائے گی اور امید ہے کہ پاکستان بھی اس فورس میں حصہ بھیجنے کا فیصلہ کرے گا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس میں اسحاق ڈار نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات میں آٹھ اسلامی ممالک کا واحد ایجنڈا غزہ میں فوری جنگ بندی کے حصول، جنگ بندی کے بعد غزہ کی تعمیرِ نو اور مغربی کنارے پر جاری اسرائیلی قبضے کو روکنا تھا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس مشترکہ اعلامیے کو خوش آمدید کہتا ہے۔ منصوبے کے تحت امن فورس تعینات کی جائے گی جبکہ انڈونیشیا نے 20 ہزار فوجی بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان بھی فورس بھیجنے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں فلسطین کے معاملے پر پاکستان نے بھرپور آواز اٹھائی، غزہ میں جاری ظلم و بربریت اور فوری جنگ بندی و امداد کی فراہمی کے لیے بات چیت کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں فلسطینی عوام کی دوبارہ آباد کاری اور بھوک کے شکار لوگوں کے لیے اقدامات پر زور دیا گیا۔

وزیرِ خارجہ نے مزید کہا کہ سعودی وزیرِ خارجہ اس مسئلے پر مسلسل رابطے میں رہے اور پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی سمیت آٹھ مسلم ممالک نے مشترکہ بیان جاری کیا ہے جو 1967ء سے پہلے کی سرحدوں کے تحت خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے پرعزم ہیں اور اس ریاست کا دارالحکومت قدس شریف ہونا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ فلسطینی اتھارٹی نے آٹھ ممالک کے مشترکہ اقدام کا خیرمقدم کیا ہے اور کہا کہ فلسطین کے مسئلے کو سیاست سے پاک رکھا جائے۔ اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی اور دیگر سات ممالک بھی پاکستان کی پالیسی کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زمینی سطح پر فلسطینی قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملات کو نمٹائیں گے اور اُنہیں توقع ہے کہ حماس معاہدے کی مخالفت نہیں کرے گا۔

Advertisement