Advertisement
پاکستان

صدر مملکت سے آرمی چیف کی ملاقات، ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو

پاک فوج کی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ a year ago پر Oct 15th 2025, 5:34 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
صدر مملکت سے آرمی چیف کی ملاقات، ملکی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو

 

صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق، آرمی چیف نے صدر کو حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً افغان طالبان کے اشتعال انگیز اقدامات کے تناظر میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔

فوجی سربراہ نے صدر کو 15 اکتوبر کو اسپن بولدک اور اس سے قبل کرم سیکٹر میں افغان طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سرحد پار حملوں اور پاکستانی فورسز کے مؤثر دفاعی اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس دوران کئی دہشت گرد مارے گئے، دشمن کی چوکیوں اور ٹینکوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔

صدر آصف علی زرداری نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، چوکسی اور وطن سے وفاداری کو سراہا اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے پاک فوج کی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔

ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق، 15 اکتوبر کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں چار مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے فی الفور اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں 15 سے 20 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ الگ تھلگ نہیں بلکہ اس سے قبل 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔

جھڑپوں کا آغاز 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب اُس وقت ہوا جب کابل نے الزام لگایا کہ پاکستان نے افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کیے تھے۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی لیکن افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو پناہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان فورسز اور عسکری گروہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

Advertisement
Advertisement