پاک فوج کی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔


صدرِ مملکت آصف علی زرداری سے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایوانِ صدر میں ملاقات کی، جس میں ملک کی داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ایوانِ صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق، آرمی چیف نے صدر کو حالیہ سرحدی کشیدگی، خصوصاً افغان طالبان کے اشتعال انگیز اقدامات کے تناظر میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بریفنگ دی۔
فوجی سربراہ نے صدر کو 15 اکتوبر کو اسپن بولدک اور اس سے قبل کرم سیکٹر میں افغان طالبان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی جانب سے سرحد پار حملوں اور پاکستانی فورسز کے مؤثر دفاعی اقدامات سے آگاہ کیا۔ اس دوران کئی دہشت گرد مارے گئے، دشمن کی چوکیوں اور ٹینکوں کو بھاری نقصان پہنچایا گیا۔
صدر آصف علی زرداری نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ مہارت، چوکسی اور وطن سے وفاداری کو سراہا اور قومی خودمختاری کے دفاع کے لیے پاک فوج کی کوششوں پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہے۔
ادھر آئی ایس پی آر کے مطابق، 15 اکتوبر کی صبح افغان طالبان نے بلوچستان کے علاقے اسپن بولدک میں چار مختلف مقامات پر بزدلانہ حملے کیے، جنہیں پاکستانی فورسز نے فی الفور اور مؤثر کارروائی سے ناکام بنا دیا۔ جوابی کارروائی میں 15 سے 20 دہشت گرد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ یہ واقعہ الگ تھلگ نہیں بلکہ اس سے قبل 14 اور 15 اکتوبر کی شب افغان طالبان اور فتنۃ الخوارج نے کرم سیکٹر میں بھی پاکستانی چوکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی، جسے ناکام بنا دیا گیا۔
جھڑپوں کا آغاز 11 اور 12 اکتوبر کی درمیانی شب اُس وقت ہوا جب کابل نے الزام لگایا کہ پاکستان نے افغان دارالحکومت پر فضائی حملے کیے تھے۔ پاکستان نے اس الزام کی تردید کی لیکن افغان سرزمین سے تحریک طالبان پاکستان (TTP) کو پناہ دینے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی کے بعد افغان فورسز اور عسکری گروہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔

تھیٹر پروڈیوسرز کی پنجاب آرٹس کونسل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محبوب عالم چودھری سے ملاقات
- 12 گھنٹے قبل

اسحاق ڈارکا یورپی یونین کی نائب صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، مکالمے اور باہمی روابط کے فروغ کے عزم کا اعادہ
- 12 گھنٹے قبل

افغان طالبان رجیم کی فتنہ الخوارج کی سرپرستی کے ناقابل تردید ثبوت منظرعام پر آگئے
- 11 گھنٹے قبل

کراچی: تھیلیسیمیا کے مریضوں کیلئے کام کرنا ہم سب کی ذمہ دار ی ہے،گورنر نہال ہاشمی
- 6 گھنٹے قبل

وفاقی حکومت بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے،وزیر اعظم
- 6 گھنٹے قبل

آبنائے ہرمز میں کشیدگی یا عدم استحکام کی مکمل ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے،ایرانی صدر
- 11 گھنٹے قبل

خلیج فارس میں نئے باب کا آغاز، آبی راستوں پر دشمن کی رکاوٹوں کا خاتمہ کیا جائے گا،سپریم لیڈر
- 10 گھنٹے قبل

وزیر اعظم کاموٹر سائیکل اور پبلک ٹرانسپورٹ کیلئے سبسڈی میں ایک ماہ کی توسیع کا فیصلہ
- 6 گھنٹے قبل

اسلام آباد ہائیکورٹ کے 3 ججز کے تبادلے سپریم کورٹ میں درخواست دائر
- 12 گھنٹے قبل

صومالیہ میں بحری قزاقوں کے ہاتھوں یرغمال 11 پاکستانیوں کی رہائی کیلئے کوششیں جاری ہیں،دفتر خارجہ
- 12 گھنٹے قبل

روٹی تو مل ہی جاتی ہے، گلاب کب ملے گا؟
- 6 گھنٹے قبل

پاکستان اور چین سدابہار شراکت دار ہیں، چین کے ساتھ دوستی ملکی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے،صدر مملکت
- 10 گھنٹے قبل









