Advertisement
Mobin
Advertisement

صدرٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’’نو کنگز‘‘ کے نام سے تمام ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے

ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کر سکیں

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 ماہ قبل پر اکتوبر 19 2025، 10:45 صبح
ویب ڈیسک کے ذریعے
صدرٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ’’نو کنگز‘‘ کے نام سے تمام ریاستوں میں  احتجاجی مظاہرے

امریکہ کے مختلف شہروں میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف ‘نو کنگز’ کے نام سے بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں

ہفتے کے روز تمام 50 امریکی ریاستوں میں ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے تاکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کر سکیں، ان مظاہروں کو ’نو کنگز‘ کے نام سے منظم کیا گیا، جنہیں اعلیٰ ریپبلکن رہنماؤں نے طنزیہ طور پر ’ہیٹ امریکا ریلیاں‘ قرار دیا۔

غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق نیویارک اور واشنگٹن سے لے کر مشی گن کے چھوٹے شہروں تک، ملک بھر میں 2 ہزار 700 سے زائد احتجاجی مظاہرے منصوبہ بندی کے تحت کیے گئے، منتظمین کا کہنا تھا کہ انہیں لاکھوں افراد کی شرکت کی توقع ہے، جو امریکی تاریخ کے سب سے بڑے عوامی احتجاجوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔

یہ بڑی عوامی تحریک جون میں ہونے والے اسی طرح کے مظاہروں کے بعد دوسری بار سامنے آئی ہے، یہ تحریک ان پالیسیوں کے خلاف ہے جنہیں ناقدین ملک کو آمریت کی طرف دھکیلنے کے مترادف سمجھتے ہیں۔

مظاہرین اس بات پر برہم تھے کہ ریپبلکن ارب پتی صدر کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک میں سخت گیر اقدامات بڑھ گئے ہیں، ان کے خدشات میں میڈیا پر حملے، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اور امیگریشن پر وسیع کریک ڈاؤن شامل ہیں، جس کے تحت نیشنل گارڈ کے دستے لاس اینجلس، واشنگٹن اور میمفس جیسے شہروں میں تعینات کیے گئے ہیں۔

یہ مظاہرے ایسے وقت میں ہوئے جب امریکی حکومت کے شٹ ڈاؤن کو 3 ہفتے ہو چکے ہیں، اور ٹرمپ انتظامیہ نے قانون سازی میں رکاوٹ کے باعث ہزاروں وفاقی ملازمین کو برطرف کر دیا ہے۔

ہزاروں افراد نیویارک کے ٹائمز اسکوائر، بوسٹن کامن، اور شکاگو کے گرانٹ پارک میں جمع ہوئے، لاس اینجلس میں منتظمین کو ایک لاکھ مظاہرین کی آمد کی توقع تھی اور وہاں ’ٹرمپ کا ڈائپر پہنے ہوئے ایک دیو ہیکل غبارہ‘ فضا میں اُڑانے کی منصوبہ بندی بھی کی گئی تھی۔

ٹرمپ کا ان مظاہروں پر ردِعمل نسبتاً محتاط تھا، مگر ان کے حامیوں نے بھرپور جوابی بیانات دیے، ایوانِ نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس دن کو ’ہیٹ امریکا ریلی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ دیکھیں گے کہ مارکسسٹ، سوشلسٹ، اینٹیفا، انارکسٹ اور ڈیموکریٹ پارٹی کے پرو-حماس دھڑے کے لوگ سب اکٹھے ہوں گے۔

ریپبلکن رکن ٹام ایمر نے بھی مظاہرین کو ’ہیٹ امریکا‘ ریلی کا حصہ کہا اور انہیں ڈیموکریٹک پارٹی کے ’دہشت گرد ونگ‘ کے طور پر بیان کیا۔ کچھ ریپبلکن رہنماؤں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ مظاہرے سیاسی تشدد کو ہوا دے سکتے ہیں، خاص طور پر اس واقعے کے بعد جب ستمبر میں سیاسی کارکن چارلی کرک، جو ٹرمپ کے قریبی ساتھی تھے، کو قتل کر دیا گیا تھا۔

فاکس نیوز کے پروگرام ’سنڈے مارننگ فیوچرز‘ میں انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے ’نو کنگز‘ نام کے حوالے سے کہا تھا کہ وہ کہتے ہیں کہ وہ مجھے بادشاہ کہہ رہے ہیں، میں بادشاہ نہیں ہوں۔

یہ تحریک 300 سے زائد مقامی تنظیموں کے اتحاد کی قیادت میں چلائی جا رہی ہے، جس کی سربراہی ترقی پسند گروپ انڈیویزیبل پروجیکٹ کر رہا ہے۔

انڈیویزیبل کی شریک بانی لیا گرین برگ نے کہا کہ اپنے بادشاہ نہ ہونے کا اعلان کرنا اور پُرامن احتجاج کا حق استعمال کرنا سب سے زیادہ امریکی عمل ہے۔

ڈیئرڈری شیفیلنگ، جو امریکن سول لبرٹیز یونین (اے سی ایل یو) کی چیف پولیٹیکل اور ایڈووکیسی آفیسر ہیں، انہوں نے کہا کہ مظاہرین یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ایک مساوی ملک ہیں۔

اے سی ایل یو نے بتایا کہ اس نے ہزاروں افراد کو بطور مارشل تربیت دی ہے، تاکہ وہ احتجاج کے دوران قانونی اور پرامن ماحول کو یقینی بنائیں۔احتجاج کی حمایت میں کئی معروف ڈیموکریٹ رہنماؤں نے بھی بیانات دیے، جن میں سینیٹر چَک شومر، سینیٹر برنی سینڈرز اور رکنِ کانگریس الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز شامل ہیں۔

شومر نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ میں اپنے ہم وطنوں سے اس ‘نو کنگز ڈے’ پر کہتا ہوں، ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکنز کو آپ کو خاموش مت کرنے دیں، آواز بلند کریں، بات کریں، اور اپنے اظہارِ رائے کے حق کو استعمال کریں۔ 

امریکا کے علاوہ لندن، میڈرڈ، مالاگا (اسپین) اور مالمو (سوئیڈن) میں بھی چھوٹے احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

امریکن یونیورسٹی کی پروفیسر اور سیاسی سرگرمیوں پر کئی کتابوں کی مصنفہ ڈانا فشر نے کہا کہ اس دن کا مقصد اتحاد پیدا کرنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس دن کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ تمام لوگ جو ٹرمپ انتظامیہ اور اس کی پالیسیوں سے خوفزدہ یا متاثر محسوس کر رہے ہیں، ان کے درمیان اجتماعی شناخت اور یکجہتی پیدا کی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مظاہرے ٹرمپ کی پالیسیوں کو براہِ راست تبدیل نہیں کریں گے، لیکن یہ اُن منتخب نمائندوں کو حوصلہ دے سکتے ہیں جو ٹرمپ کی مخالفت میں کھڑے ہیں۔

Advertisement
Moib
فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

فورسزکی افغان طالبان کے خلاف مؤثر جوابی کارروائیاں،جلال آباد اورننگرہار میں سٹوریج سائٹس تباہ

  • ایک دن قبل
پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار

پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات،حکومتی قانون سازی پر تحفظات کا اظہار

  • ایک دن قبل
 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

 ہم خطے کے ممالک پر نہیں ،امریکی اڈوں پر حملہ کرتے ہیں،جو ہمارا جائز ہدف ہیں،عباس عراقچی

  • ایک دن قبل
پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کا اجلاس، شرکاء کا ملی اتحاد، اتفاق و یگانگت کی ضرورت پر زور

  • 5 گھنٹے قبل
174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

174 ایرانی بیلسٹک میزائل میں 161 تباہ کیے، 13 سمندر میں گرے،اماراتی حکام

  • ایک دن قبل
پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

پاکستان سپر لیگ کا گیارہویں ایڈیشن: افتتاحی تقریب اور میچ کی تفصیلات سامنے آ گئیں 

  • ایک دن قبل
اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق

اسرائیلی فورسزکی جارحیت جاری ، لبنان میں زمینی کارروائی شروع کردی، 52 افراد جاں بحق

  • ایک دن قبل
ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

ایران کی جوابی کارروائی جاری، فوجی اڈوںسمیت مختلف اسرائیلی شہروں پر حملہ، امریکی سفارتخانے میں آگ لگ گئی

  • ایک دن قبل
آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

آیت اللہ خامنہ ای کے بعد ان کے ہر جانشین کو نشانہ بنائیں گے، اسرائیلی وزیردفاع کی دھمکی

  • 4 گھنٹے قبل
مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی

مودی سرکار نے اسرائیل کی حمایت کر کے بھارت کی سفارتی خودمختاری کو قربان کردیا ہے،سونیا گاندھی

  • ایک دن قبل
کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

کئی روز کے مسلسل اضافے کے بعد سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

  • ایک دن قبل
ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

ایران پر حملے کا مقصد اسرائیلی اثر و رسوخ پاکستانی سرحد تک لانا ہے،وزیر دفاع

  • ایک دن قبل
Advertisement