Advertisement
پاکستان

پاک افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج ہوگا

اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے، ترکیہ وزارت خارجہ

GNN Web Desk
شائع شدہ 10 months ago پر Nov 6th 2025, 9:28 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاک افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج  ہوگا

پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان دہشت گردی کی روک تھام کے لیے مذاکرات کا تیسرا دور آج استنبول میں ہوگا۔

ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کے مطابق اجلاس میں دونوں ممالک جنگ بندی کے نفاذ کے طریقہ کار کو حتمی شکل دیں گے اور ایک نگرانی و تصدیقی نظام قائم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، جو جنگ بندی کی خلاف ورزی پر کارروائی یقینی بنائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان کا وفد مذاکرات کے لئے جا چکا ہے، ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی نہ ہو، مذاکرات میں پیش رفت کا امکان ہوتا ہے تبھی بات کی جاتی ہے، اگر پیش رفت کا امکان نہ ہو تو پھر وقت کا ضیاع ہی ہے۔امید ہے خطے میں قیام امن کے لیے افغان طالبان دانش مندی سے کام لیں گے۔

اس سے قبل  پاک افغان مذاکرات کا دوسرا دور 25 اکتوبر کو استنبول میں ہوا، طویل اور اعصاب شکن مذاکرات کا یہ دور افغان سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے کے ایک نکاتی پاکستانی مطالبے کو پورا کرنے میں ناکام رہا۔

ان مذاکرات کے دوران افغان وفد بار بار کابل اور قندہار سے ہدایات لیتا اور دوسروں کا وقت ضائع کرتا رہا، مذاکرات کی ناکامی کے بعد پاکستانی وفد وطن واپسی کے لیے روانہ ہوا تو استنبول ائیرپورٹ سے ترکیے کی درخواست پر مذاکرت کو ایک آخری موقع دینے کے لیے پھر واپس ہوا۔

ترکیے کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری اعلامیے کے مطابق فریقین نے سیز فائر برقرار رکھنے، قیام امن کے لیے مانیٹرنگ اینڈ ویری فکیشن مکینزم ترتیب دینے اور خلاف ورزی کرنے والے کے لیے سزا پر اتفاق کرتے ہوئے 6 نومبر کو اعلیٰ سطحی مذاکرات پر اتفاق کیا۔

Advertisement