Advertisement

سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو مزید کرپشن مقدمات میں 21 سال قید کی سزا سنا دی گئی

شیخ حسینہ اور ان کی سابقہ حکمران پارٹی عوامی لیگ نے ان مقدمات کی شدید مذمت کی ہے، حسینہ نے اپنا دفاعی وکیل بھی نامزد نہیں کیا،رپورٹس

GNN Web Desk
شائع شدہ 8 months ago پر Nov 27th 2025, 8:51 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو مزید کرپشن مقدمات میں 21 سال قید کی سزا سنا دی گئی

ڈھاکہ: بنگلہ دیش کے سابق معزول وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کو بدعنوانی اور دیگر 3 مقدمات میں مجموعی طور پر 21 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سابق معزول وزیر اعظم یہ مقدمات حکومت کے ایک منصوبے پرباچل نیو ٹاؤن پروجیکٹ میں زمین کی الاٹمنٹ سے متعلق ہیں،یہ فیصلے بھی شیخ حسینہ کی غیر موجودگی میں سنائے گئے، کیونکہ سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم اس وقت بھارت میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا رپورٹس کے مطابق کرپشن کے نئے تینوں مقدمات میں عدالت نے یہ فیصلہ دیا کہ حسینہ نے اپنی اور اپنے خاندان کی زمینیں غیر قانونی طور پر حاصل کیں، حالانکہ وہ ان کے لیے اہل نہیں تھیں۔

رپورٹس کےمطابق حسینہ واجد کو ہر کیس میں سات سال قید کی سزا دی گئی اور ڈھاکہ اسپیشل کورٹ کے جج محمد عبد اللہ المامون نے کہا کہ یہ سزائیں متواتر پوری کی جائیں گی۔

خیال رہے کہ رواں ماہ شیخ حسینہ کو انسانیت کے خلاف جرائم میں سزا موت بھی سنائی جا چکی ہے، یہ مقدمہ گزشتہ سال ان کے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کے بعد ہونے والی عوامی بغاوت پر حکومتی کارروائی سے متعلق تھا۔

علاوہ ازاں حسینہ کے بیٹے سجیب واجد اور بیٹی صائمہ واجد کو بھی ایک کیس میں پانچ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

بنگلہ دیش کے اینٹی کرپشن کمیشن نے حسینہ، ان کے بیٹے اور بیٹی سمیت دیگر افراد کے خلاف یہ مقدمات ان کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد دائر کیے تھے، دیگر مقدمات بھی اسی زمینی منصوبے سے متعلق ہیں، اور ایک نیا فیصلہ یکم دسمبر کو متوقع ہے۔

دوسری جانب شیخ حسینہ اور ان کی سابقہ حکمران پارٹی عوامی لیگ نے ان مقدمات کی شدید مذمت کی ہے، حسینہ نے اپنا دفاعی وکیل بھی نامزد نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بنگلہ دیش اس وقت عبوری حکومت کے تحت سیاسی عبوری دور سے گزر رہا ہے، جس کی قیادت نوبل امن انعام یافتہ محمد یونس کر رہے ہیں، اور نئی انتخابات فروری میں متوقع ہیں۔

Advertisement