Advertisement
پاکستان

 سندھ طاس معاہدہ پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ، بھارت کی جانب سے معطلی قابلِ مذمت ہے،صدر مملکت 

محفوظ پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے،صدر زرداری

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 months ago پر Mar 22nd 2026, 1:49 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
 سندھ طاس معاہدہ پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ، بھارت کی جانب سے معطلی قابلِ مذمت ہے،صدر مملکت 

اسلام آباد: صدر آصف علی زرداری نے مشترکہ آبی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدہ پر مکمل عملدرآمد کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی یومِ آب کے موقع پر اپنے پیغام میں صدرِ مملکت نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ خطے میں پانی کی منصفانہ تقسیم کا ضامن ہے، اور بھارت کی جانب سے اس معاہدے کی معطلی قابلِ مذمت ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بھارت معاہدے پر مکمل عملدرآمد بحال کرے۔

جاری کر دہ بیان میں صدرِ مملکت نے کہا کہ پاکستان کے کئی علاقوں میں عوام غیر محفوظ آبی ذرائع پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ صاف پانی کی عدم دستیابی کا بوجھ خواتین اور لڑکیوں پر زیادہ پڑتا ہے، جو پانی کے حصول میں اپنا قیمتی وقت صرف کرتی ہیں۔

بیان میں انہوں نے کہا کہ محفوظ پانی کی فراہمی کو قومی ترجیح بنایا جانا چاہیے اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

صدر مملکت کا کہنا تھا کہ بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں، اور عوامی سطح پر چھوٹے اقدامات سے بھی بڑے نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

صدرِ مملکت نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اور آبادی میں اضافہ آبی وسائل پر دباؤ بڑھا رہے ہیں، جبکہ ہائیڈرولوجیکل ڈیٹا شیئرنگ میں خلل پر بھی تحفظات پائے جاتے ہیں۔

Advertisement