Advertisement

آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حوثیوں کی باب المندب بند کرنے کی دھمکی ،حزب اللہ کا سیز فائر سے انکار

ہم کسی ایسے سیزفائر کو قبول نہیں کر سکتے جس میں ایک فریق کو مکمل آزادی ہو اور دوسرا پابندیوں میں جکڑا رہے‘،نعیم القاسم

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Apr 19th 2026, 11:10 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد حوثیوں کی باب المندب بند کرنے کی دھمکی ،حزب اللہ کا سیز فائر سے انکار

صنعا:ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کے بعد یمن کے حوثیوں باغیوں نے بھی اہم آبی گزرگاہ باب المندب بند کرنے کی دھمکی دی ہے، جبکہ لبنان میںمزاحمتی تنظیم حزب اللہ نے مجوزہ جنگ بندی کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یمن میں حوثی حکومت کے نائب وزیر خارجہ حسین العزی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ نے امن کی کوششوں میں رکاوٹیں ڈالنا جاری رکھیں تو باب المندب کو بند کیا جا سکتا ہے۔

 اپنے بیان میں انہوں نے کہا، ’اگر صنعا نے باب المندب بند کرنے کا فیصلہ کر لیا تو اسے کھولنے کے لیے انسان اور جن دونوں بے بس ہو جائیں گے۔‘انہوں نے مزید کہا کہ ’بہتر یہی ہے کہ ٹرمپ اور ان کے ساتھ دینے والی دنیا فوری طور پر ایسی تمام پالیسیوں کو ختم کرے جو امن میں رکاوٹ بن رہی ہیں اور ہمارے عوام کے حقوق کا احترام کرے۔‘

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ایسی پالیسیوں کا خاتمہ کرے جو خطے میں امن کے قیام میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔

دوسری جانب لبنان میں حزب اللہ نے مجوزہ جنگ بندی کو مسترد کر دیا ہے۔ تنظیم کے سربراہ نعیم القاسم نے ایک انٹرویو میں کہا کہ یکطرفہ سیزفائر’لبنان کی توہین‘ ہے۔

نعیم القاسم نے مزید کہاکہ، ’ہم کسی ایسے سیزفائر کو قبول نہیں کر سکتے جس میں ایک فریق کو مکمل آزادی ہو اور دوسرا پابندیوں میں جکڑا رہے‘۔

خیال رہے کہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور عالمی تجارت کے لیے نہایت اہم راستہ آبنائے باب المندب سمجھی جاتی ہےیہ گزرگاہ نہر سویز تک جانے والے بحری راستے کا اہم حصہ ہے اور یہاں سے خلیجی تیل سمیت بڑی مقدار میں تجارتی سامان دنیا بھر کو منتقل ہوتا ہے۔

 

Advertisement