Advertisement

 ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا ،باقر قالیباف

امریکی مائن سویپر اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، امریکی مائن سویپر آگے بڑھا تو ہم یقینی طور پر فائرنگ کریں گے، باقر قالیباف

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر Apr 19th 2026, 11:21 am
ویب ڈیسک کے ذریعے
 ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا ،باقر قالیباف

تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور مذاکراتی وفد کے سربراہ باقر قالیباف نے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات میں پیشرفت ہوئی ہے،لیکن اب

بھی بہت فاصلہ ہے، ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق باقر قالیباف نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا نے ناکہ بندی کا اعلان کیا جو ایک بھونڈا اور جاہلانہ فیصلہ ہے،دوسرے ممالک آبنائے ہرمز سے گزر سکتے ہیں مگر ہم نہیں؟ یہ ناممکن ہے۔

رپورٹس کے مطابق باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ امریکی مائن سویپر اپنی موجودہ پوزیشن سے ایک انچ بھی آگے نہ بڑھیں، امریکی مائن سویپر آگے بڑھا تو ہم یقینی طور پر فائرنگ کریں گے، یہ بات امریکی وفد کو واضح طور پر بتا چکے ہیں۔

ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ ایران کی جنگی ٹیکنالوجی کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا مگر دشمن بات ضرور سمجھ گیا ہوگا،ان کا مزید کہنا تھا کہ جنگ میں دشمن کے 170سے 180 ڈرونز اور امریکا کا ایف 35 لڑاکا طیارہ نشانہ بنایا جو معمولی بات نہیں۔

باقر قالیباف نے مزید کہا کہ ایران نے عارضی جنگ بندی اس لیے قبول کی تاکہ امریکا کو اپنے مطالبات پورے کرنے کا موقع دیا جا سکے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی اس لیے قبول کی کیونکہ میدان جنگ میں کامیابی ایران کو حاصل ہوئی تھی۔

محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے مگر امریکہ پر اعتماد نہیں کرتا اور مذاکرات کو ’جدوجہد کا ایک طریقہ‘ قرار دیا، ایران بیک وقت سفارت کاری، فوجی طاقت اور عوامی حمایت تینوں محاذوں پر کام کر رہا ہے۔

ایرانی پارلیمانی سپیکر نے کہا کہ ایران مستقل امن چاہتا ہے تاکہ ’جنگ اور جنگ بندی کے چکر‘ کو ختم کیا جا سکے، لیکن اس کے لیے ضمانت ضروری ہے۔

Advertisement