Advertisement

سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ کے مماک اور ایران کے مابین عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز 

سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ کئی یورپی ممالک نے سعودی تجویز کی حمایت کی ہے، یورپی ممالک نے دیگر خلیجی ممالک کو بھی تجویز کی پشت پناہی پر زور دیا ہے،اخبار

GNN Web Desk
شائع شدہ 3 months ago پر May 15th 2026, 4:32 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ کے مماک اور ایران کے مابین عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز 

ریاض: سعودی عرب کی مشرق وسطیٰ ممالک اور ایران کے درمیان عدم جارحیت کے معاہدے کی تجویز پر اتحادی ممالک سے بات چیت کی۔

تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے سفارتکاروں کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سعودی عرب نے معاہدےکی تجویز پر اتحادی ممالک سے بات چیت بھی کی ہے، تاکہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے خاتمے کے بعد خطے میں کشیدگی کو کیسے سنبھالا جائے، اس پر غور کیا جا سکے۔

اخبار کے مطابق ریاض 1970 کی دہائی کے ہیلسنکی عمل کو ممکنہ ماڈل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔اخبار کا کہنا ہے کہ خلیجی ریاستیں کو تشویش ہے کہ جنگ کے بعد زخمی مگر زیادہ سخت گیر ایران کا سامنا ہوسکتا ہے،جبکہ دیگر خلیجی ممالک کو تشویش ہے کہ خطے میں امریکی فوجی موجودگی بھی کم ہو سکتی ہے۔

فنانشل ٹائمزکے مطابق سفارتکاروں کا کہنا ہے کہ کئی یورپی ممالک نے سعودی تجویز کی حمایت کی ہے،  یورپی ممالک نے دیگر خلیجی ممالک کو بھی تجویز کی پشت پناہی پر زور دیا ہے۔برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ سفارتکار کے مطابق یہ سب اس بات پر منحصر ہے کہ معاہدے میں کون شامل ہوگا،جبکہ موجودہ حالات میں ایران اوراسرائیل کو ایک ساتھ لانا ممکن نہیں لگتا۔

خیال رہے کہ 1975 میں امریکا، یورپی ممالک، سوویت یونین اور اس کے اتحادیوں کے درمیان طے پانے والے ’ہیلسنکی معاہدوں‘ کا مقصد سیکیورٹی مسائل کو حل کرنا اور مخالف طاقتوں کے درمیان معاشی تعاون کو فروغ دینا تھا۔ 

Advertisement
Advertisement