پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات ناکام نہیں ہوئے،ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ،عراقچی
بھارت فیصلہ کر لے کہ اسے ہمارے ساتھ کس طرح کا تعلق رکھنا ہے،روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری ہے، چین کی مدد کا خیرمقدم کریں گے،عراقچی


نئی دہلی: ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کا کہنا تھا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اب تک ناکام نہیں ہوئے، تاہم ثالثی کا یہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مسلے کا کوئی بھی عسکری حل نہیں ہے۔
تفصیلات کے مطابق برکس اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کا ذمہ دار ایران نہیں، جنگ کا آغاز نہیں کیا ہم نے صرف اپنا دفاع کیا، ہم جنگ بندی برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں، آبنائے ہرمز صرف ان ممالک کے لیے بند ہے جو ایران کے خلاف جنگ میں ملوث تھے۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ اور کارروائی کے خلاف بھرپور مزاحمت کرے گا، 40 دن کی جنگ کے بعد امریکا کو ایران پر جارحیت سے کوئی مقصد حاصل نہ ہوا تو پھر امریکا نے مذاکرات کی بات کی، ہمیں امریکا پر بالکل بھی بھروسہ نہیں ہے، ہمارے پاس امریکا پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا ایران کے کسی معاملے کا عسکری حل نہیں ہے، ایران سالوں سے ایران امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا کارروائی کی مزاحمت کرے گا اور جو اہداف جنگ سے حاصل نہ ہوسکے، وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں کیے جاسکتے۔
ان کا کہنا تھا ایرانی صرف عزت کی زبان سمجھتے ہیں، جو عسکری کارروائی سے حاصل نہیں ہو سکا وہ مذاکرات سے بھی حاصل نہیں ہو سکتا، امریکا کے ساتھ کسی بھی ڈیل سے پہلے تمام چیزیں واضح ہونی چاہئیں، موجودہ مذاکرات میں بھروسے کا فقدان ہے لیکن مجھے امید ہے کہ حکمت اور سفارتکاری کامیاب ہوں گے۔
ایک اور سوال کے جواب میں ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا پاکستان کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات اب تک ناکام نہیں ہوئے، تاہم ثالثی کا یہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہا ہے، مذاکراتی عمل میں مشکل کی بڑی وجہ امریکی رویہ اور ہمارے درمیان موجود عدم اعتماد ہے، ہم ہر اُس ملک کی کوشش کو سراہتے ہیں جو مدد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔
بھارت کے حوالے سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ نئی دہلی کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ایران کے ساتھ کس نوعیت کے تعلقات چاہتا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ روس کے ساتھ بہت اچھے تعلقات اور سٹریٹجک شراکت داری ہے، چین کی مدد کا خیرمقدم کریں گے۔
انہوں نے اشارہ دیا کہ ایک پڑوسی ملک نے امریکا اور اسرائیل کو ایران پر حملوں کے لیے فضائی حدود اور اڈے فراہم کیے، تاہم اس ملک کا نام نہیں لیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی ایٹمی ہتھیار بنانا نہیں چاہتا تھا اور اس کا نیوکلیئر پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ ان کے مطابق ایران جے سی پی او اے پر مکمل عملدرآمد کررہا تھا اور برسوں سے امریکا کی ظالمانہ پابندیوں کا مقابلہ بھی کررہا ہے۔

بچوں کی نایاب دماغی بیماری کے خلاف بڑی امید، پرانی دوا کے حیران کن نتائج
- 8 گھنٹے قبل

لاہور میں جشن آزادی اسنوکر رینکنگ ٹورنامنٹ، شوبز شخصیات کی شرکت
- 9 گھنٹے قبل

پاکستان انگلینڈ ٹیسٹ: بارش نے کھیل روک دیا، قومی ٹیم کی 2 وکٹیں گر گئیں
- 8 گھنٹے قبل

اسلام آباد میں بڑا ایکشن، 275 غیر ملکی گرفتار
- 8 گھنٹے قبل

ہم اپنے سپر اسٹار کو عزت نہیں دیتے، اظہر محمود کا بابر اعظم پر بڑا بیان
- ایک دن قبل

ملک میں سونے کی قیمت میں بڑی کمی، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 11 گھنٹے قبل
وفاقی حکومت کی طرف سے عمران خان کی اسپتال منتقلی کے فیصلے پرنظرثانی کی درخواست دائر
- 12 گھنٹے قبل

ایک ہی دن دو نابالغ لڑکیاں لاپتا، علاقے میں خوف کی فضا
- ایک دن قبل
بالی وڈ اسٹار کے گھر سے سانپ برآمد، خوف و ہراس پھیل گیا
- 11 گھنٹے قبل

بیوی کو لینے سسرال پہنچا، چند لمحوں بعد 5 لاشیں ملیں
- ایک دن قبل

پٹیالہ گھرانے کے نامور گائیک راگا بوائز کی امریکا میں جشن آزادی کے شوز میں شاندار پرفارمنسز
- 9 گھنٹے قبل
تاجروں کیلئے ریٹیلراسکیم ایپ لانچ کردی گئی
- 10 گھنٹے قبل



