نہ ملبہ ملا، نہ باقیات، 54 افراد کی قسمت آج بھی معمہ


واصف محمود سے
25 اگست 1989ء کا دن پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کے ان پراسرار واقعات میں شمار ہوتا ہے جس کا معمہ 37 برس گزرنے کے باوجود حل نہیں ہوسکا۔ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا فوکر ایف 27 طیارہ، پرواز نمبر پی کے 404، گلگت سے اسلام آباد کے لیے روانہ ہوا، تاہم ٹیک آف کے صرف 9 منٹ بعد ایئر ٹریفک کنٹرول سے اس کا رابطہ اچانک منقطع ہوگیا اور طیارہ ریڈار سے بھی غائب ہوگیا۔
طیارے میں 49 مسافر اور عملے کے 5 ارکان، مجموعی طور پر 54 افراد سوار تھے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ رابطہ منقطع ہونے سے قبل پائلٹ کی جانب سے کسی فنی خرابی، ہنگامی صورتحال یا کسی خطرے کی اطلاع نہیں دی گئی۔ ایئر ٹریفک کنٹرول کو نہ کوئی ہنگامی پیغام موصول ہوا اور نہ ہی ’’مے ڈے، مے ڈے‘‘ کی کال دی گئی۔
پرواز پی کے 404 کے کپتان ایس ایس زبیر نے روانگی سے قبل مسافروں کو بتایا تھا کہ موسم خوشگوار ہے اور طیارہ تقریباً ساڑھے آٹھ ہزار فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے ایک گھنٹے میں اسلام آباد پہنچے گا۔ ان کے ساتھ فرسٹ آفیسر احسن بلگرامی، ایئر ہوسٹس خالدہ حبیب اور فلائٹ اسٹیورڈ مقصود بھی موجود تھے۔
طیارے نے صبح 7 بج کر 36 منٹ پر گلگت ایئرپورٹ سے ٹیک آف کیا۔ ابتدائی طور پر ایئر ٹریفک کنٹرول سے معمول کے مطابق رابطہ برقرار رہا، تاہم 7 بج کر 45 منٹ پر اچانک طیارے سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ اس کے بعد طیارے کی جانب سے کوئی پیغام موصول نہیں ہوا۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر نے صورتحال کی فوری طور پر متعلقہ حکام کو اطلاع دی اور طیارے سے دوبارہ رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، تاہم تمام کوششیں بے نتیجہ رہیں۔
طیارے سے رابطہ منقطع ہونے کی خبر سامنے آتے ہی مسافروں اور عملے کے اہل خانہ میں تشویش پھیل گئی۔ عزیز و اقارب ایئرپورٹ پہنچ گئے اور حکام سے طیارے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ دوسری جانب پاک فضائیہ، پاک فوج اور مقامی رضاکاروں نے شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں وسیع سرچ آپریشن شروع کیا۔
نانگا پربت اور گرد و نواح کے علاقوں میں مقامی کوہ پیماؤں اور ماہرین کی مدد سے تلاش کی گئی، مگر طیارے کا کوئی ملبہ، بلیک باکس یا کسی مسافر کی جسدِ خاکی آج تک برآمد نہ ہوسکے۔

پرواز کے روٹ اور لائن آف کنٹرول کے قریب ہونے کے باعث یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا کہ شاید طیارہ بھارتی حدود میں داخل ہوکر کسی حادثے کا شکار ہوا ہو۔ اس حوالے سے بھارت سے بھی رابطہ کیا گیا اور طیارے کے ممکنہ ملبے کی تلاش میں تعاون کی درخواست کی گئی۔
تاہم طیارے کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ بعد ازاں اقوام متحدہ کی ٹیم سے بھی مدد لینے کی کوشش کی گئی، لیکن بدقسمت پرواز کے ملبے یا مسافروں کے بارے میں کوئی قابلِ ذکر معلومات سامنے نہ آسکیں۔
سابق چیف ایئر ٹریفک کنٹرولر سعید احمد کے مطابق شمالی علاقہ جات کے دشوار گزار پہاڑی ماحول اور اس وقت دستیاب محدود ٹیکنالوجی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ امکان موجود ہے کہ طیارہ خراب موسمی حالات یا اچانک بدلنے والی ہواؤں کے باعث کم بلندی پر کسی گہری وادی یا گلیشیئر میں جاگرا ہو۔
ان کے مطابق پہاڑی علاقوں میں بعض اوقات ہوائیں اچانک اپنا رخ تبدیل کرتی ہیں اور پہاڑوں سے ٹکرا کر پیدا ہونے والی شدید ہوائیں طیارے کو تیزی سے نیچے دھکیل سکتی ہیں۔ ایسی صورتحال میں طیارے کے سگنلز بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔
تاہم یہ محض ایک ممکنہ وضاحت ہے اور پرواز پی کے 404 کے حوالے سے آج تک کوئی ایسی حتمی شہادت سامنے نہیں آسکی جس کی بنیاد پر حادثے کی اصل وجہ یقینی طور پر بیان کی جاسکے۔
پرواز پی کے 404 کی گمشدگی کو 37 برس گزر چکے ہیں۔ اس دوران شمالی علاقہ جات کے پہاڑوں اور گلیشیئرز میں نمایاں تبدیلیاں آئیں، متعدد ملکی و غیر ملکی کوہ پیما جدید ترین آلات کے ساتھ ان علاقوں میں مہمات کرتے رہے، لیکن کسی کو بھی اس پراسرار طور پر لاپتہ ہونے والے طیارے کا کوئی قابلِ اعتماد سراغ نہیں ملا۔
54 افراد کے اہل خانہ کے لیے یہ سانحہ آج بھی ایک ایسے سوال کی صورت میں موجود ہے جس کا جواب انہیں کبھی نہیں مل سکا۔ نہ یہ معلوم ہوسکا کہ طیارہ کہاں گیا، نہ اس کے ملبے کا کوئی ٹکڑا ملا اور نہ ہی کسی مسافر یا عملے کے رکن کی باقیات برآمد ہوئیں۔
ایوی ایشن ذرائع کے مطابق آج دستیاب جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ ڈیٹا، جدید سرچ سسٹمز اور دیگر آلات کی مدد سے اگر حکومت دوبارہ اس معاملے کو حل کرنے کا فیصلہ کرے تو ممکن ہے کہ 37 برس سے جاری اس پراسرار گمشدگی کے بارے میں کوئی نیا سراغ مل سکے۔
پرواز پی کے 404 آج بھی پاکستان کی ہوا بازی کی تاریخ کا ایک ایسا معمہ ہے جس کا ملبہ تک تلاش نہیں کیا جاسکا اور جس کے 54 مسافروں کی قسمت کا حتمی جواب 37 برس بعد بھی پردۂ راز میں ہے۔
پاکستان کسان اتحاد کےخالد کھوکھر نے گورننس پر خطرے کی گھنٹی بجا دی
- 13 hours ago
نئے انتظامی یونٹ بن کر رہیں گے کوئی نہیں روک سکتا: محسن نقوی
- 14 hours ago
نیپال میں سیلاب کی تباہ کاریاں: ٹنل سے 9 روز بعد 2 افرادکو زندہ نکال لیا گیا
- 2 days ago
پولیسں نے کراچی ڈیفنس فیز 8 میں نوجوان پر تشدد کرنیوالا مرکزی ملزم گرفتار کر لیا
- 18 hours ago
ملک میں پاسپورٹ ڈیلیوری اب ہو گئی اورآسان، جانیےکیسے؟
- 19 hours ago
ایتھنز: ائیرشو کے دوران جنگی طیارہ گرکر تباہ
- 14 hours ago
آئمہ بیگ کا انسٹا گرام اسٹیٹس اچانک نظروں میں آگیا،علیحدگی کی افواہیں
- 2 days ago

ملیک میں سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر ہزاروں روپے کا اضافہ
- 2 days ago
میجر جنرل فیصل نصیر نیشنل کاؤنٹر ٹیرر ازم اتھارٹی کا قومی کوآرڈینیٹر مقرر کردیا گیا
- 2 days ago

ملک میں سونا ہزاروں روپے سستا، فی تولہ سونا کتنے کا ہوگیا؟
- 19 hours ago

پاکستان نے نارووال میں ہندو مندر بارے بھارتی وزارت خارجہ کے بے بنیاد، سیاسی مقاصد پر مبنی دعووں کو مسترد کر دیا
- 2 days ago

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی تعاون نئے مرحلے میں داخل ہو گیا: طاہر اشرفی
- 2 days ago

