Advertisement
پاکستان

پاکستان نے طویل عرصہ افغانیوں کے ساتھ کام کیا ہے: فوادچوہدری

اسلام آباد:وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان نے طویل عرصہ افغانیوں کے ساتھ کام کیا ہے، جب 1988میں افغانستان سے روس نکلا تو بہت سے مسائل پیچھے رہ گئے تھےاب امریکا اور نیٹو افواج نے افغانستان سے تیزی سے انخلا کیا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Aug 30th 2021, 7:18 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
پاکستان نے طویل عرصہ افغانیوں کے ساتھ کام کیا ہے: فوادچوہدری

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کاغیرملکی خبررساں ادارے کودیے گئے انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہا کہ عالمی برادری افغانستان کو تنہا نہ چھوڑے قومی ائر لائن پی آئی اے کے ذریعے 4 ہزار 500 افراد کا کابل سے انخلا کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے اور افغانستان میں تمام فریقین پر مشتمل حکومت کے لیےعالمی طاقتوں سے رابطہ ہے۔ پاکستان 35 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کو شدت پسند تنظیموں کا مرکز نہیں بننا چاہیے اور افغانستان میں عدم استحکام سے مہاجرین کا بحران پیدا ہو سکتا ہے تاہم اس وقت افغان مہاجرین کو کوئی بحران نہیں ہے پاکستان مستحکم افغانستان کے لیے کوشاں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پیچیدہ صورتحال کے باعث افغانستان میں مخلوط حکومت کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان میں بدامنی نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے لیے نقصان دہ ہے۔

فواد چوہدری نے کہا کہ ہماری سرحدوں پر معمول کے مطابق کام جاری ہے جبکہ ہم نے کابل سے غیر ملکی شہریوں اور غیر ملکی اداروں سے منسلک لوگوں کو نکالا ہے افغان مہاجرین کے لیے سرحدوں پر انتظامات کیے گئے ہیں اور افغان مہاجرین کے حوالے سے جامع حکمت عملی وضع کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کے حوالے سے ماضی کی طرح صورتحال پیدا نہیں ہو گی جبکہ دنیا افغان مہاجرین کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی معاونت کرے، ماضی میں افغانستان کے بارے میں عمران خان کے مشورے کو نظر انداز کیا گیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ افغانستان کے سابق صدر اشرف غنی نے عام انتخابات نہیں کرائے اور نہ ہی جامع حکومت تشکیل دی،افغانستان میں جامع حکومت اور عام انتخابات نہ کرانے سے مسائل نے جنم لیا۔

ان کامزید کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت کی حمایت کریں گے،روس، چین، پاکستان اور افغانستان پر مشتمل ٹرائیکا پلس اہم ہےپاکستان اور ترکی افغانستان کے معاملے پر مل کر کام کر رہے ہیں۔

 

Advertisement