Advertisement
Mobin
Advertisement
پاکستان

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73 ویں برسی

بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح    کا 73 واں یوم وفات آج انتہائی عقیدت واحترام سے منایا جارہا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 4 سال قبل پر ستمبر 11 2021، 3:35 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 73 ویں برسی

بانی پاکستان کے یوم وفات کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، مسلح افواج ، سیاسی و سماجی شخصیات کا مزار قائد پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

برصغیر کے مسلمانوں کو پاکستان کی صورت میں ایک آزاد وطن دینے والے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح  25 دسمبر 1876کو کراچی کے وزیر مینشن میں  پیدا ہوئے ۔ کون جانتا تھا کہ یہ بچہ عظیم رہنما بن کربرصغیر کے مسلمانوں کی کشتی پارلگانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

قائداعظم محمد علی جناح نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرستہ الاسلام میں حاصل کی جب کہ میٹرک کا امتحان جامعہ ممبئی سے پاس کیا، اعلیٰ تعلیم کے حصول کی خاطر لندن روانہ ہوگئے۔ 1895میں 19 سال کی عمر میں انہوں نے لندن کی یونیورسٹی سے لاء کی ڈگری حاصل کرلی اور بمبئی واپس آکرباقاعدہ طور پر وکالت کا آغاز کیا جہاں ان کا شمار نامور وکلا میں کیا جانے لگا۔

1896میں قائداعظم محمد علی جناح نے سیاسی زندگی کا آغاز کرتے ہوئے انڈین نیشنل کانگریس میں باقاعدہ شمولیت اختیار کرلی لیکن کچھ عرصے بعد ہی انہیں احساس ہوا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی نمائندہ جماعت ہے جہاں مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک بڑھتا جارہا ہے۔چنانچہ 1913میں انہوں نے مسلمانوں کی نمائندہ واحد جماعت آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور علیحدہ وطن کی باقاعدہ تحریک کا آغاز کیا۔

آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہونے کے بعد قائداعظم نے اپنے شب و روز مسلمانوں کے سیاسی شعور کی بیداری کےلیے وقف کر دیے۔ بالآخر ان کی جدوجہد رنگ لائی اور 14اگست 1947کوبرصغیر کے مسلمانوں کا علیحدہ وطن کا خواب پورا ہوا جس کا نام پاکستان رکھا گیا۔

 محمد علی جناح کی شخصیت ایک اعلیٰ اور مثالی کِردار کی حامل تھی، انہوں نے مذہب کے جمہوری اور انصاف پر مبنی اُصولوں کو اپنا کر عزت حاصل کی، وکالت اور سیاست میں رہ کر اپنے دامن کو صاف ستھرا رکھا اور مسلمانوں کی ذِہنی تعمیرِنو میں روشنی کا مینار بنے رہے۔

مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لیے ان تھک جدوجہد نے قائد اعظم کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 1930 میں انھیں تپِ دق جیسا موذی مرض لاحق ہوا جسے انھوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقا کے علاوہ سب سے چھپائے رکھا۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتِ میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں نا کام ثابت ہو رہی تھیں۔

قائد اعظم کی بے لوث کوششوں کے ثمر میں پاکستان وجود میں آگیا تاہم انکی صحت خراب تر ہوتی چلی  گئی ، ذاتی معالج کے مشورے پر    انہیں کوئٹہ  کے پرفضا مقام زیارت منتقل کردیا گیا مگر وہاں بھی انکی طبعیت بہتر نہ ہوسکی ۔ان کی حالت کے پیشِ نظر ڈاکٹر بخش اور مقامی معالجین نے انھیں بہترعلاج کے لیے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

گیارہ ستمبر کو انھیں سی وَن تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اور ایمبولینس انھیں لے کر گورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظار کیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اور قوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔دوگھنٹے بعد جب یہ مختصر قافلہ گورنر ہاؤس کراچی پہنچا تو قائدِ اعظم کی حالت تشویش ناک ہو چکی تھی اور رات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِ فانی سے رخصت فرما گئے تھے۔

قائد اعظم کے بد ترین مخالف اور ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم جواہر لعل نہرو نے اس موقع پر انتہائی افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں ایک طویل عرصے سے انھیں نا پسند کرتا چلا آیا ہوں لیکن اب جب کہ وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کے لیے میرے دل میں کوئی تلخی نہیں، صرف افسردگی ہے کہ انھوں نے جو چاہا وہ حاصل کر لیا لیکن اس کی کتنی بڑی قیمت تھی جو انھوں نے ادا کی‘‘۔

بابائے قوم کا یوم وفات ہمیں ایک ایسے عظیم ترین قائد کی یاد دلاتا ہے جس نے برصغیر کے خوف زدہ اور مایوس مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا تھا۔

Advertisement
Moib
اسحاق اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ،مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

اسحاق اور سعودی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ،مشرق وسطیٰ اور خطے کی صورتحال پر گفتگو

  • 7 hours ago
وزیر اعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط،سپریم لیڈر کی شہادت پر تعزیت کا اظہار

وزیر اعظم شہباز شریف کا مجتبیٰ خامنہ ای کو خط،سپریم لیڈر کی شہادت پر تعزیت کا اظہار

  • 9 hours ago
مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں،ایران مذاکرات سے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا،ٹرمپ

مجتبیٰ خامنہ ای پر بھروسہ نہیں،ایران مذاکرات سے پہلے کچھ بنیادی شرائط کو قبول کرنا ہوگا،ٹرمپ

  • 8 hours ago
 وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون

 وزیراعظم دیگر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہیں،کشیدگی کا سفارتی حل نکالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،وزیر قانون

  • 11 hours ago
عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،ٹرمپ کےبیان پر ایران کاردعمل

عاشورہ سے محبت کرنے والے ایرانی آپ کی کھوکھلی دھمکیوں سے نہیں ڈرتے،ٹرمپ کےبیان پر ایران کاردعمل

  • 6 hours ago
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کا بحرینی ہم منصب سے رابطہ، خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال

  • 9 hours ago
پی ٹی اے کے زیر اہتمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز 

پی ٹی اے کے زیر اہتمام ملک میں فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کا باقاعدہ آغاز 

  • 12 hours ago
 پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع،ملک میں توانائی بحران کا خدشہ ختم ہونے کا امکان

 پیٹرول سے بھرے جہاز پورٹ قاسم پہنچنا شروع،ملک میں توانائی بحران کا خدشہ ختم ہونے کا امکان

  • 11 hours ago
آپریشن غضب اللحق : پاک فوج کی افغان طالبان کیخلاف کارروائیاںجاری، اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ

آپریشن غضب اللحق : پاک فوج کی افغان طالبان کیخلاف کارروائیاںجاری، اہم پوسٹیں اور مراکز تباہ

  • 12 hours ago
پاکستان سپر لیگ 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا،ٹورنامنٹ کب سے شروع ہو گا؟

پاکستان سپر لیگ 11 کے شیڈول کا اعلان کردیا گیا،ٹورنامنٹ کب سے شروع ہو گا؟

  • 9 hours ago
 افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار

 افغانستان اس وقت دہشت گرد گروہوں اور پراکسیز کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے،عاصم افتخار

  • 12 hours ago
ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے ہیں،لیکن اگر جنگ کرنا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے،کم جونگ ان

ہم کسی صورت جنگ نہیں چاہتے ہیں،لیکن اگر جنگ کرنا پڑی تو پیچھے نہیں ہٹیں گے،کم جونگ ان

  • 10 hours ago
Advertisement