Advertisement
پاکستان

این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جاری

اسلام آباد: رپورٹ کے مطابق ڈی سی نے اعتراف کیا کہ حکومت نے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کے لیے دباؤ ڈالا۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 سال قبل پر نومبر 8 2021، 11:29 شام
ویب ڈیسک کے ذریعے
این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جاری

تفصیلات کے مطابق این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن انکوائری کمیٹی کی رپورٹ جاری کردی گئی۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈی سی نے اعتراف کیا کہ حکومت نے ضمنی انتخاب میں دھاندلی کے لیے دباؤ ڈالا، ڈی سی کا مشکوک مقام پر جانا انکے نیوٹرل ہونے پر سوالیہ نشان ہے، ڈی سی نے مشکوک مقام پر ہونے سے انکار کیا لیکن شواہد نہ دے سکے۔

 رپورٹ کے مطابق  اے سی ڈسکہ امن و امان کی صورتحال سے آگاہ تھے لیکن بہتر ہدایات جاری نہ کرسکے ،  اے سی ڈسکہ پولنگ اسٹاف کو غیر قانونی ہدایات دیتے رہے، اے سی ڈسکہ پریزائیڈنگ افسران کو ہراساں کرتے رہے۔

رپورٹ کے مطابق  ڈی پی او سیالکوٹ ماتحت پولیس افسران اور اہلکاروں کی نااہلی کے ذمہ دار قرار،  ڈی پی او نے جان بوجھ کو آر او آفس کو تاخیر سے سکیورٹی پلان دیا ،  ڈی پی او اور سیالکوٹ الیکشن کے روز اپنے گھر پر بیٹھے رہے اور امن و امان کی صورتحال پر عدم دلچسپی کا مظاہر کیا۔

یاد رہے کہ این اے 75 میں 2018ء کے الیکشن کے دوران پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار سیّد افتخار الحسن نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے امیدوار علی اسجد ملہی کو شکست دی تھی۔ یہ سیٹ سیّد افتخار الحسن کی وفات کے بعد خالی ہوئی تھی۔

خیال رہے کہ این اے 75 سیالکوٹ کے ضمنی انتخاب میں نتائج میں غیرضروری تاخیر اور عملے کے لاپتا ہونے پر 20 پولنگ سٹیشن کے نتائج میں ردو بدل کے خدشے کے پیش نظر الیکشن کمیشن نے متعلقہ افسران کو غیرحتمی نتیجہ کے اعلان سے روک دیا تھا۔ اس کے بعد معاملہ سپریم کورٹ میں گیا جہاں پر عدالت عظمیٰ نے فیصلے برقرار رکھتے ہوئے این اے 75 میں مکمل الیکشن کرانے کا حکم دیا تھا ۔

Advertisement
Advertisement