جی این این سوشل

دنیا

یو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی

کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے سامنے آنے کےبعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

پر شائع ہوا

کی طرف سے

یو اے ای میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
جی این این میڈیا: نمائندہ تصویر

ابوظہبی :متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے لیے بڑی خوشی کی خبرآگئی ہے اماراتی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کردی ہے۔

خلیجی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کی فیول پرائس کمیٹی نے آئندہ ماہ کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان کیا ہے جس میں تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی کی گئی ہے۔

پیٹرولیم پرائس کمیٹی کے اعلان کے مطابق دسمبر کے لیے سپر 98 پیٹرول کی قیمت 2.80 درہم سے کم کرکے 2.77 درہم کردی گئی ہے جب کہ اسپیشل 95 پیٹرول کی قیمت 2.69 درہم سے کم کرکے 2.66 درہم پر لیٹر کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ ای پلس 91 پیٹرول دسمبر میں 2.61 درہم پر لیٹر کی جگہ 2.58 درہم پر لیٹر پر دستیاب ہوگا جب کہ ڈیزل 2.81 درہم فی لیٹر کی بجائے 2.77 درہم فی لیٹر ملے گا۔

واضح رہےکہ کورونا وائرس کی نئی قسم اومی کرون کے سامنے آنے کےبعد عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔


 

محمد اکرم سینیئر ویب ایڈیٹر ہیں ۔ جرنلزم میں ایم فل ڈگری رکھتے ہیں۔ مختلف ٹی وی چینلز کے ویب اور سوشل میڈیا سے واسطہ رہے ہیں اب جی این این ٹی وی سے وابستہ ہیں۔ محمد اکرم بلاگز اور آرٹیکل بھی لکھتے ہیں۔

پاکستان

اسلام آباد: دہشت گردوں کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، 1 اہلکار شہید، 2دہشت گردہلاک

اسلام آباد:  ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے دلیری سے مقابلہ کیا اور دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔

پر شائع ہوا

Ali Raza

کی طرف سے

اسلام آباد: دہشت گردوں کی پولیس اہلکاروں پر فائرنگ، 1 اہلکار شہید، 2دہشت گردہلاک

تفصیلات کے مطابق  ترجمان اسلام آباد پولیس کا کہنا ہے کہ تھانہ کراچی کمپنی کے علاقہ میں دہشت گردوں  نے  پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کردی،  پولیس اہلکار ناکہ جیلانیہ پر معمول کی چیکنگ پر مامور تھے۔

ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق  دوران چیکنگ موٹرسائیکل پر سوار دو دہشت گردوں نے اچانک اندھا دھند فائرنگ کردی،  فائرنگ سے ایک پولیس اہلکار شہید ہوگئے، پولیس اہلکاروں نے دلیری سے مقابلہ کیا اور دو دہشت گردوں کو جہنم واصل کردیا۔آئی جی اسلام آباد محمد احسن یونس اور سینئر افسران موقع پر پہنچ گئے ہیں۔

پڑھنا جاری رکھیں

کھیل

پاکستان کرکٹ بورڈ کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ گیا

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) ایک بار پھر عالمی وبا کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ گیا۔

پر شائع ہوا

Umar Nawaz

کی طرف سے

پاکستان کرکٹ بورڈ کورونا وائرس کی لپیٹ میں آ گیا

پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پی سی بی اسٹاف میں 5 افراد کے کورونا  ٹیسٹ مثبت آئے ہیں جبکہ پانچ گراؤنڈ اسٹاف کے بھی ٹیسٹ مثبت آئے ہیں، تمام کورونا مثبت کیسز والےافراد کو آئسولیشن میں بھیج دیا گیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق پی سی بی اسٹاف اور گراؤنڈ اسٹاف کی گزشتہ ہفتےٹیسٹنگ ہوئی تھی، تمام افراد کو ویکسین کے بوسٹرز ڈوز بھی لگوا دیےگئے ہیں،کورونا پروٹوکولز پر سختی سےعمل ہوگا۔

پی سی بی کا کہنا ہے کہ  بورڈ کی تمام میٹنگز اب ورچوئل ہوں گی۔

پڑھنا جاری رکھیں

دنیا

'ہم خواتین کی تعلیم کے خلاف نہیں ': طالبان

افغانستان کے نئے حکمراں طالبان نے بین الاقوامی برادری کے اہم مطالبات میں سے ایک پر عمل درآمد کے لیے ٹائم لائن کا اعلان کر دیا۔ طالبان نے کہا کہ مارچ کے بعد ملک بھر میں لڑکیوں کے اسکول کھول دیے جانے کی امید ہے۔ 

پر شائع ہوا

Shehroz Azhar

کی طرف سے

'ہم خواتین کی تعلیم کے خلاف نہیں ': طالبان

افغانستان میں وسط اگست میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ملک کے بیشتر علاقوں میں لڑکیوں کو ساتویں جماعت آگے کے اسکولوں میں جانے کی اجازت نہیں ہے۔ طالبان نے20 برس قبل اپنے پہلے دور اقتدار میں خواتین کے لیے تعلیم، ملازمت اور عوامی زندگی میں سرگرم حصہ لینے پر پابندی عائد کردی تھی۔ بین الاقوامی برادری کو خدشہ ہے کہ طالبان ایک بار پھر اسی طرح کے سخت اقدامات نافذ کرسکتے ہیں۔
بین الاقوامی برادری نے تاحال افغانستان میں طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا۔ عالمی برادری کا اصرار ہے کہ طالبان ملک میں جامع حکومت کے قیام کے علاوہ خواتین کو بھی حقوق دیں۔
طالبان کے نائب وزیر ثقافت و اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی خبر رساں ایجنسی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ محکمہ تعلیم 21 مارچ کو افغانستان میں شروع ہونے والے نئے سال میں تمام لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیمی اداروں کو کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ لڑکیوں اور خواتین کے لیے تعلیم حکومت کی صلاحیت کا سوال ہے۔ ہم تعلیم کے خلاف نہیں۔
ناظرین طالبان رہنما نے کہا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے پوری طرح الگ الگ اسکول ہونے چاہئیں اور ہمارے لیے اب تک کی سب سے بڑی رکاوٹ لڑکیوں کے لیے ہاسٹلز کی تلاش یا تعمیر تھی۔ انہوں نے کہا کہ گھنی آبادی والے علاقوں میں صرف لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کلاس رومز کا ہونے ہی کافی نہیں ہے بلکہ اسکولوں کے الگ عمارتوں کی بھی ضرورت ہے۔
طالبان کی جانب سے خواتین کی تعلیم میں رکاوٹ نہ بننے کے دعوؤں کے باوجود ملک کے 34 صوبوں میں سے 10 صوبوں کو چھوڑ کر دیگر تمام صوبوں میں ساتویں جماعت سے آگے کی کلاسز میں لڑکیوں کو اسکولوں میں آنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
البتہ دارالحکومت کابل کی پرائیوٹ یونیورسٹیوں اور ہائی اسکولز میں تعلمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں جہاں لڑکے اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کلاس رومز بنائے گئے ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ وہ پراُمید ہیں کہ نئے سال کے آغاز تک یہ مسائل حل کر لیں گے۔ تاکہ اسکول اور یونیورسٹیاں کھولی جاسکیں۔
بین الاقوامی برادری کا موقف ہے کہ وہ طالبان کو ان کے اعلانات اور وعدو ں کے بجائے ان کے عملی اقدامات کی بنیاد پر جانچیں گے۔
 بین الاقوامی برادری خواتین کی تعلیم اور طالبان کے دیگر دعوؤں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کرتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ وہ انسانی تباہی کو روکنے کے لیے اربوں ڈالر فراہم کرنے کے لیے ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہی ہے جبکہ اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا تھا کہ لاکھوں افغان شہریوں کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
شدید سرد موسم کی وجہ سے تقریباً 30 لاکھ ایسے افغان بری طرح متاثر ہوئے ہیں جو جنگ، خشک سالی، غربت یا طالبان کے خوف کی وجہ سے اپنے گھر بار چھوڑ کر اپنے ہی ملک میں پناہ گزینوں کے طور پر رہ رہے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں اقوام متحدہ نے افغانستان کے لیے پانچ ارب ڈالر امداد کی اپیل کی تھی۔
امریکا سمیت دنیا کے کئی ممالک کو شکایت ہے کہ طالبان نے وعدے کے باوجود اپنی حکومت میں مختلف نسلی اقلیتوں کے علاوہ کسی بھی خاتون کو شامل نہیں کیا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے تاہم انٹرویو کے دوران کہا کہ اُن کے نائب وزیر خزانہ اور وزارتِ خزانہ میں کئی افسران وہی ہیں جو امریکی حمایت یافتہ سابق افغان حکومت کے دور میں تھے۔
انہوں نے کہا کہ سابق انتظامیہ کے ماتحت کام کرنے والے 80 فی صد سول اہل کار کام پر واپس آ چکے ہیں اور خواتین صحت، تعلیم کے شعبوں اور کابل ایئرپورٹ میں کسٹم اور پاسپورٹ کنٹرول کے شعبوں میں کام کر رہی ہیں۔
ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے ارکان کی جانب سے افغان شہریوں کو ہراساں کرنے کے کچھ واقعات کا اعتراف کیا جس میں نوجوانوں کی تذلیل اور ان کے بالوں کو زبردستی کاٹنا بھی شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا، "اس طرح کے جرائم ہوئے ہیں لیکن یہ ہماری حکومت کی پالیسی نہیں ہے۔"انہوں نے مزید کہا کہ ذمہ داروں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پڑھنا جاری رکھیں

ٹرینڈنگ

Take a poll