Advertisement
پاکستان

کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیزفائرختم ہوچکا ہے ، آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

راولپنڈی : ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیزفائرختم ہوچکا ہے، ان کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔

GNN Web Desk
شائع شدہ 5 years ago پر Jan 5th 2022, 11:21 pm
ویب ڈیسک کے ذریعے
کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیزفائرختم ہوچکا ہے ، آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر  افتخار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ   کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔ موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات بھی ہیں۔ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔ 

مزید پڑھیں : نواز شریف کیساتھ ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ  2021 میں مغربی بارڈر پر سکیورٹی صورتحال چیلنج  رہی، 2021 میں شمالی وزیرستان میں اہم آپریشن کیا گیا، پاک افغان بارڈر پر مکمل کنٹرول بحال کیا گیا، افغانستان سےغیر ملکی افواج کےانخلا کےپاکستان کی سکیورٹی پراثرات  پڑے، بارڈر مینجمنٹ کےتحت باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے، پاک ایران بارڈر پرباڑ کا کام 71 فیصد مکمل ہو چکا ہے، بارڈر پر نقل و حمل کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد شہریوں کاتحفظ یقینی بنانا ہے، بارڈر پر باڑ لگانے میں شہدا کا خون شامل ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ  یہ امن کی باڑ ہے جو مکمل ہو گی اور قائم رہے گی، پاک افغان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے، پاک افغان سرحد پر 1200 سے زائد چیک پوسٹیں قائم ہیں،  پاکستان نے بارڈر فورسز کو مستحکم کرنے کے لیے 67 نئے ونگز قائم کیے، اسمگلنگ اور نارکو ٹریفک پر قابو پانے کے لیے کارگو اور پیدل نقل حمل کودیکھاجا رہا ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ  افغانستان کی موجودہ صورتحال انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے،  افغان صورتحال براہ راست خطے پراثراندازہوگی،  آرمی چیف نے بھی اس کی واضح نشاندہی کی ہے،  سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز کیے، 2021 میں آپریشن رد الفساد کے تحت 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، انٹیلی جنس نے 2021 میں 890 تھریٹ الرٹس جاری کیے، دہشت گردی کے 70 فیصد ممکنہ واقعات کو روکنے میں کامیاب ہوئے، جو واقعات ہوئے ان کے بھی سہولت کاروں اور دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

Advertisement