کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیزفائرختم ہوچکا ہے ، آپریشن جاری ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
راولپنڈی : ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کی کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں، کالعدم ٹی ٹی پی کے ساتھ سیزفائرختم ہوچکا ہے، ان کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن ہورہا ہے۔ موجودہ افغان حکومت کی درخواست پر کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات کا آغاز کیا گیا لیکن کچھ چیزیں ناقابل قبول تھیں۔ کالعدم ٹی ٹی پی میں اندرونی اختلافات بھی ہیں۔ افغان حکومت کو کہا ہے کہ اپنی سرزمین کو ہمارے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔
مزید پڑھیں : نواز شریف کیساتھ ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں ، ڈی جی آئی ایس پی آر
میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 2021 میں مغربی بارڈر پر سکیورٹی صورتحال چیلنج رہی، 2021 میں شمالی وزیرستان میں اہم آپریشن کیا گیا، پاک افغان بارڈر پر مکمل کنٹرول بحال کیا گیا، افغانستان سےغیر ملکی افواج کےانخلا کےپاکستان کی سکیورٹی پراثرات پڑے، بارڈر مینجمنٹ کےتحت باڑ لگانے کا کام 94 فیصد مکمل ہو چکا ہے، پاک ایران بارڈر پرباڑ کا کام 71 فیصد مکمل ہو چکا ہے، بارڈر پر نقل و حمل کو ریگولیٹ کرنے کا مقصد شہریوں کاتحفظ یقینی بنانا ہے، بارڈر پر باڑ لگانے میں شہدا کا خون شامل ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ امن کی باڑ ہے جو مکمل ہو گی اور قائم رہے گی، پاک افغان حکومتی سطح پر دونوں طرف ہم آہنگی پائی جاتی ہے، پاک افغان سرحد پر 1200 سے زائد چیک پوسٹیں قائم ہیں، پاکستان نے بارڈر فورسز کو مستحکم کرنے کے لیے 67 نئے ونگز قائم کیے، اسمگلنگ اور نارکو ٹریفک پر قابو پانے کے لیے کارگو اور پیدل نقل حمل کودیکھاجا رہا ہے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال انسانی المیے کو جنم دے سکتی ہے، افغان صورتحال براہ راست خطے پراثراندازہوگی، آرمی چیف نے بھی اس کی واضح نشاندہی کی ہے، سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کیخلاف کامیاب آپریشنز کیے، 2021 میں آپریشن رد الفساد کے تحت 60 ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے، انٹیلی جنس نے 2021 میں 890 تھریٹ الرٹس جاری کیے، دہشت گردی کے 70 فیصد ممکنہ واقعات کو روکنے میں کامیاب ہوئے، جو واقعات ہوئے ان کے بھی سہولت کاروں اور دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا۔

مشرق وسطیٰ کشیدگی: پاکستان کا جنگ بندی فریم ورک ایران اور امریکا کو موصول، رائٹرز کا دعویٰ
- 3 گھنٹے قبل

فاسٹ باؤلر نسیم شاہ غیر معینہ مدت کیلئے پی ایس ایل سے باہر،مگر کیوں ؟
- 3 گھنٹے قبل

کاروباری ہفتے کے پہلے روز سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ، فی تولہ کتنے کا ہو گیا؟
- 3 گھنٹے قبل

امن کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں ، حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے، سہیل آفریدی
- ایک دن قبل

شہباز شریف سے حنیف عباسی کی ملاقات، ریلویز کی مجموعی کارکردگی، اصلاحات تفصیلی تبادلہ خیال
- 3 گھنٹے قبل

منگل کو ایران میں بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کا دن ہوگا،ٹرمپ کی دھمکی
- ایک دن قبل

لبنان پر اسرائیلی جارحیت جاری، حالیہ فضائی حملوں میں مزید 11شہری شہید
- ایک گھنٹہ قبل

آپریشن غضب للحق کے دوران 796 شدت پسند ہلاک جبکہ 1043 سے زائد زخمی ہوئے، عطاء تارڑ
- ایک دن قبل

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان عدالتی تعاون کے فروغ کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط
- 3 گھنٹے قبل

خیبرپختونخوا: حالیہ بارشوں سے45 افراد جاںبحق اور 442 گھروںکو نقصان پہنچا، پی ڈی ایم اے
- ایک دن قبل

امریکی و اسرائیلی حملے میں پاسدارانِ انقلاب کے انٹیلی جنس چیف شہید،ایران کی تصدیق
- 2 گھنٹے قبل

وزیر اعظم شہباز شریف کی اماراتی بندرگاہ خوروفکان پر حملے شدید مذمت،فریقین سے تحمل کی اپیل
- ایک گھنٹہ قبل








.webp&w=3840&q=75)


